مذہبی، معاشرتی، لسانی اور ثقافتی دیواریں گرا دیں تو صرف انسانیت بچتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری طرح یقیناً آپ بھی کبھی کبھی معاشرے کی ان فرسودہ روایات سے تنگ آجاتے ہوں گے جو ہمارے گلے کا طوق بنا دی گئیں۔ اور کبھی کبھار میری طرح آپ کے دل کے کسی کونے میں بھی یہ آواز گونجتی ہوگی ”میں دنیا داری نبھانے والا بندہ نہیں“۔ جی ہاں۔ ہم سب دنیاداری نبھانے کے لئے ہی تو کررہے ہیں۔ ہم اپنی ساری زندگی جس معاشرے کی سوچ اور پیرہن کو اوڑھنے میں صرف کردیتے ہیں۔ وہ معاشرہ بدلے میں ہمیں کیا دیتا ہے؟ ہم اپنی ساری زندگی اپنے آپ کو دھوکا دیتے رہتے ہیں۔

یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا اصل کیا ہے؟ ہمیشہ اپنے لاشعور کی آواز کو دباتے ہیں۔ ہم اپنے اوپر مختلف خول چڑھا کر اپنے مختلف روپ دنیا والوں کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہم انسان تماشا اور تماشائی دونوں کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ ہم لوگوں کا رچا ہوا تماشا بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ خوشی اور غم میں کیسی دنٕیاداری نبھاتے ہیں۔ اور خود بھی تماشا رچاتے ہیں۔ تاکہ یہ معاشرہ آپ کو اپنا قدردان ہونے پر ستائشی القاب سے نوازے۔

ہم نے اپنی زندگیوں کو کس قدر پچیدہ بنالیا ہے۔ یہ عذاب ہم نے خود اپنے سروں پر لیا ہے۔ معاشرے کے قائم کردہ معیار پر پورا اترنے کا عذاب۔ معاشرے کے درخت کو تہذیب و تمدن نے سینچا ہے۔ اس کی جڑیں زمین میں بہت اندر تک پھیل چکی ہیں۔ جیسے جیسے تہذیب و تمدن نے ترقی کی معاشرے کا درخت بھی اس قدر تنآور ہوتا چلا گیا کہ ہم اپنے خوشی اور غم کو بھی روایات سے مشروط کرنے لگے ہیں۔ ہم لاشعوری طور پر ایسی چیزوں پر خوش یا غمگین ہوتے ہیں اور اسی قدر کم یا زیادہ جس قدر معاشرہ چاہتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سٹیٹس بلند ہو ہم اولادِ نرینہ سے نوازے جائیں۔ ہم تعلیم یافتہ ہوں اور کیرئیر کی جنگ میں سب سے آگے۔

معاشرے کے سامنے انسان کے وجود کی جنگ مات پڑنے لگتی ہے۔ انسان کے وجود کی جنگ کسی کے مخالف نہیں ہے۔ انسان کے وجود کی جنگ اپنی ذات کے لئے ہے۔ انسان معاشرے اور دنیا کی مخالف سمت میں نہیں چل رہا۔ معاشرہ مخالف سمت میں ہے۔ انسان اپنی ذات کی تلاش میں ہے۔ اپنے وجود کی جستجو میں۔ اپنے اصل کی کھوج میں۔ ایسے میں انسان اپنے آپ سے سوال کرنے لگتا ہے۔ میں کون ہوں؟ میرا واسطہ اور تعلق کس سے ہے؟ ہستی کا وجود تو صاف بہتے پانی جیسا ہوتا ہے تو اس وجود پر حد بندی کس نے ڈالی ہے۔

معاشرہ مجھ سے ہے۔ میں معاشرے سے نہیں۔ مذہب ثقافت اور اقدار کی تعریف انسان کرتا ہے۔ ideology کا تعلق انسان سے ہے۔ انسان کا تعلق ideology سے نہیں۔ الفاظ کو ان کے ثقافتی معنی انسان پہناتا ہے۔ جگہ بدل لینے سے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ الفاظ ثقافت کا پہناوا تو ہیں مگر مجھے کون سا پہناوا چننا ہے۔ کون سی روایات اپنانی ہیں؟ کون سی اقدار ٹھیک ہیں اور کون سی درست؟ کیا رواجوں کو مثبت اور منفی کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے؟

یہ تو انسانوں کے بھانت بھانت کے ثقافتی پہناوے ہیں۔ یہ تفریق تھوڑی نہ ہے۔ یہ تو حسین امتزاج ہے۔ جاپانی اپنی ثقافت کا تحفظ کرے گا۔ چینی اپنی ثقافت کا۔ لیکن یہ کیسے کہیں کہ جاپانی ثقافت چینی ثقافت سے بہتر ہے یا بدتر؟ ایک چھوٹا سا وائرس بھی یہ پہچان نہیں کر پایا کون سندھی ہے اور کون بلوچی۔ سب کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا۔ انسانوں کی صف میں۔ رنگ ونسل سے بالاتر۔

کوئی زبان یا ثقافت کسی علاقے کی پہچان ضرور ہوتی ہے لیکن کسی دوسری زبان یا ثقافت سے کمتر یا برتر نہیں ہوتی۔ مذہبی معاشرتی اور لسانی ثقافت کی دیوار گرادیں تو صرف انسانیت بچتی ہے۔ یہ انسانیت کے مختلف روپ ہیں شاید خود کی پہچان کے لئے۔ شاید بے ربط زندگی کو معنی پہنانے کے لئے۔ یہ خول اتار کر دیکھیں آپ اندر سے صرف انسان بچیں گے۔

کوئی پب میں ناچ رہا ہے تو کوئی قربان گاہ پر جانور ذبح کررہا ہے۔ کوئی سادھو کا لباس پہنے ہے تو کوئی گلی کی نُکر پہ بھکاری بنا کھڑا ہے۔ یہ انسانوں کے مختلف روپ ہیں۔ یہ آپ ہیں یہ میں ہوں یہ ہم سب ہیں۔ یہ سب ہمارے روپ ہیں۔

Out in the void، beyond this mess of cultures customs and socially conformed identities، one bigger question arises: ”Who I am? And where do I belong? “

یہ سوال میں روز اپنے آپ سے پوچھتی ہوں جب سوالوں کا پنڈورا باکس میرے اندر کھُلتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *