برکینا فاسو علماء کونسل کا مشترکہ اعلامیہ اور پاکستانی علماء کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس قدر ارض پاکستان پر مذہبی طبقات کی من مانی تسلیم کی جاچکی ہے شاید ہی دنیا کے کسی ملک میں اس بات کی اجازت دی جا سکے۔ دنیا بھر میں ریاستیں امور سلطنت کے لئے مشاورتی بورڈز اور تھنک ٹینکس بناتی ہیں۔ ایسے بورڈز میں ہمیشہ موضوع پر دسترس رکھنے والے افراد اور ماہرین شامل کیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں المیہ مگر یہ ہے کہ ہر معاملے میں جبہ و دستار کی رائے مقدم گردانی جاتی ہے۔ خواہ معاملے کا تعلق دور دور تک اس سے نہ ہو۔ صاحبان اقتدار بھی گردن زدنی ہونے سے بچنے کی خاطر سر تسلیم خم ہیں۔

بے جا اہمیت نے اس طبقے کو اتنا طاقتور بنا دیا ہے کہ اب ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا ازلی حق سمجھتا ہے۔ یہی ہمارے ماہرین معاشیات ہیں۔ اور یہی پیرو مرشد۔ ان کی رائے مقدم، ان کے بے ڈھنگے مشورے سر آنکھوں پر۔ یہی مشیر یہی وزیر، ایمان کے سرٹیفیکٹ دینے والے یہی۔ جنت بانٹنے والے یہی، دوزخ کی دھمکیاں دینے والے بھی یہی۔ ہر معاملے میں حرف آخر بن گئے ہیں۔ آپس کے لاکھوں اختلافات کے باوجود اپنے مفادات کی خاطر ہمیشہ شیر و شکر ہو کر سامنے آجاتے ہیں۔

حکمرانوں کے ان کو توجہ دینے کی وجہ ان ہستیوں کا احترام نہیں بلکہ ایک انجانا خوف ہے جو وارد ہو چکا ہے۔ جس سے ہر حکومت وقت لرزاں رہتی ہے۔ اپنی شہرت اور، مقدرت سے واقف حال یہ طبقہ ہمیشہ بلیک میلنگ کی حد تک حکومت کو دباتا اور پھر بغلیں بجاتا ہے۔

میں نے ان دنوں ایک معروف علامہ صاحب جو اکثر و بیشتر ٹی وی کی رونق بنے رہتے ہیں کو دھاڑیں ما رمار کر روتے دیکھا تو سوچ میں پڑ گیا۔ کیاواقعی ان کی یہ حالت دین کی وجہ سے ہے۔ کیا واقعی موصوف کو کعبہ میں طواف بند ہونے کا اتنا ہی غم ہے جتنا یہ چیخ چیخ کر مائک کے سامنے ہلکان ہو رہے ہیں۔ جو التجائیں راتوں کو اٹھ کر اندھیری کوٹھریوں میں اپنے رب کے حضور کی جانی چاہیں ان کی پبلسٹی کس لئے؟ علامہ صاحب غم سے رنجور اُس دن کیوں نہ ہوئے جس دن کعبہ میں طواف بند کیا گیا۔ آج جب پاکستان میں حقیقی ضرورت کے تحت زندگیاں بچانے کی خاطر مساجد میں اجتماعات کی عارضی بندش کی بات ہو رہی ہے تو انہوں نے سیاپا ڈال دیا۔ دین کو جبہ و دستار کی کسی گرہ میں گروی سمجھنے والوں کو نمازوں کے بند ہونے کا غم ہے یا نذرانوں کے رک جانے کا۔

صدر مملکت نمازوں کی عارضی بندش کا فتوٰی الازہر سے لے آئے تو علمائے کرام کو حسب توقع پسند نہیں آیا۔ ویسے بھی حضرت تو وہی ہے جو اپنی ہی بات کو حرف آخر سمجھے۔ اختلاف رائے کی ہمت ہے نہ جرأت کہ جو ایمانی و اخلاقی جرأت اختلاف رائے کو برداشت کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے وہ تو کب کی دفنائی جاچکی ہے۔ اس کی تو ہڈیاں بھی گل سڑ چکی ہیں۔

صدر مملکت کا لایا ہوا فتویٰ اور ان کا دیا ہوا مشورہ ردی کی ٹوکری کی نذر کرکے علماء اپنا منشور سامنے لے آئے۔ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری ہوگیا۔ دنیا بھر میں جو تبصرے اس پر ہو رہے ہیں وہ تاریخ کے صفحات پر نقش ہو چکے۔ فرما دیا علمائے کرام نے کہ نماز با جماعت پر عارضی بندش لگ نہیں سکتی۔ بیمار گھر پر رہیں۔ بچے نہ آئیں۔ پچاس سے بڑی عمر والے نہ آئیں۔

ان سے کسی گہرے فہم ادراک کی توقع کیا کریں کہ بات یہی سمجھ میں اب تک آ نہ سکی کہ بیماری کی ظاہری علامات ظاہر نہ بھی ہوں تو بھی متاثرہ شخص وائرس کیریئر ہوتا ہے۔ اور بیماری بانٹنے کا باعث بنتا جاتا ہے۔ آج 30 مارچ تک دنیا میں اڑتیس ہزار لوگ جان کی بازی ہار گئے ان کو مگر اتنا معلوم نہیں ہو سکا کہ بیماری پھیلتی کیسے ہے۔ ان کا اعلامیہ تو ایک طرف رکھیں اس کے نتائج ایک دو ماہ بعد سب کے سامنے ہوں گے۔

آئیے آپ کو ایک اور اعلامیہ کا احوال سناتے ہیں۔ یہ اعلامیہ مغربی افریقہ کے سب صحارا ملک برکینا فاسو میں جاری ہوا۔ برکینا میں بھی علماء اسلام کی کونسل ہے جس میں تمام مسلمان فرقوں کے علماء شامل ہیں۔ کونسل کا نام ہے ”فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشنز برکینا فاسو“۔ اس علماء کونسل نے جمعرات 19 مارچ 2020 کو اپنا ہنگامی اجلاس بلایا۔ اور حسب ذیل اعلامیہ جاری کیا۔ یاد رہے برکینا فاسو میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 9 مارچ کو کنفرم ہو ا تو حکومت نے کوئی پابندی مساجد اور چرچ پر نہیں لگائی۔ صرف یہ کہا کہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ جس روز یہ اعلامیہ جاری ہوا اس دن تک پورے ملک برکینا فاسو میں کرونا وائرس کے صرف ستائیس کیسز تھے۔

” علماء کونسل برکینا فاسو کا کورونا وائرس سے حفاظت کے متعلق مشترکہ اعلامیہ

” امت مسلمہ برکینا فاسو کے علماء نے ملک میں کرونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کا جائزہ لیا اورحکومت کے حفظ ما تقدم اقدامات کے پیش نظر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حسب ذیل فیصلے کیے ہیں۔

نمبر 1 ) ملک بھر کی تمام مساجد میں نماز جمعہ سمیت، نماز باجماعت کو موقوف کیا جاتا ہے۔ تاہم مساجد میں اذان جاری رہے گی تاکہ لوگوں کو گھروں میں نماز ادا کرنے کی یاددہانی ہوتی رہے۔

نمبر 2 ) عقیقہ، شادی، نماز جنازہ، اجتماعی دعا کی تقریبات، اسلامک کلچرل تقریبات جہاں اجتماع کا خدشہ ہو معطل کی جاتی ہیں۔ پچاس سے زائد کا مجمع اکٹھا نہ ہو۔ ( اب پچاس والی اجازت بھی ختم ہو چکی ہے )

نمبر 3 ) مساجد کے نگران اس بات کے پابند ہوں گے کہ نماز باجماعت کو موقوف کرنے کے اس فیصلے کی خلاف ورزی نہ ہو۔

نمبر 4 ) یہ اعلامیہ جمعہ 20 مارچ 2020 سے نماز جمعہ کے بعد لاگو ہو گا اور 4، اپریل 2020 تک نافذ العمل رہے گا۔

نمبر 5 ) ان امور پر وبا کی صورت حال کے مطابق نظر ثانی کی جا سکے گی۔

ہم ملک کی حفاظت اور اپنے گناہوں کی معافی کے لئے سب مسلمانوں سے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔ ” (ختم شد)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *