چھوٹی سی دنیا کا بڑا آدمی۔ عبدالقادر جونیجو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ٹیلی وژن کا باقاعدہ آغاز طور 26۔ نومبر 1964 میں لاہور میں ہو ا تھا اور اس دور میں ڈرامے براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتے تھے۔ کراچی میں ٹیلی ویژن مرکز کے قیام کے بعد کراچی سے بھی ڈرامے نشر کیے جانے لگے تو لاہور اور کراچی میں مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی۔ پاکستان میں موضوعاتی اعتبار سے ہم ٹیلی ویژن ڈرامے کو چار مختلف ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہر دور دوسرے سے منفرد خصوصیات اور تبدیلیوں کا حامل ہے پہلا دور ابتدائی یعنی نومبر 1964 ء سے 1970 ء تک کا ہے۔ دوسرا دور 1970 ء سے 1980، تیسرا دور 1980 ء تا 1990 ء تک چوتھا اور آخری دور 2000 ء اور اس کے بعد تاحال ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا جانے والا سب سے پہلا ڈراما ”نذرانہ“ تھا جسے نجمہ فاروقی نے لکھا اور فضل کمال نے پیش کیا۔ اسی دور میں ایک اور مشہور ڈراما ”کھنڈر“ پیش کیا گیا۔ کراچی سے آغا ناصر نے ”ضرورت رشتہ“ اور خواجہ صاحب کا ”تعلیم بالغاں“ پیش کرنے کے علاوہ فضل کمال کے ساتھ مل کر سنجیدہ موضوعات پر ”سٹوڈیو تھیٹر“ اور ”آج کے کھیل“ کے عنوان سے ہلکے پھلکے مزاحیہ اور سماجی ڈرامے پیش کیے۔

پہلے دور میں اشفاق احمد نے جو ڈراما سیریز ٹیلی ویژن کے لیے لکھیں ان میں ”یقین نہیں آتا“، ”کاروان سرائے“ اور پنجابی سیریز ”ٹاہلی تھلے“ شامل ہیں۔ جبکہ بانو قدسیہ نے ”گوشئہ عافیت“، ”سہارے“، ”صبح کا تارا“، ”لب پہ آتی ہے دعا“، ”آدھی بات“، ”میری ڈائری“ اور ”سراب“ لکھے۔ اس طرح سلیم احمد کے ”عکس اور آئینے“، ”مجرم“، ”ممد بھائی“، ”شریف آدمی“ اور ”جزاء و سزا“ شوکت صدیقی کے ”چور دروازہ“ اور ”چار بیگھازمین“، شہزاد احمد کے ”بالیاں“، ”مہرباں کیسے کیسے“ اور ”آغوش“، احمد ندیم قاسمی کا ”گھر سے گھر تک“، خدیجہ مستور کا ”برقعہ“، راحیلہ مسعود کا ”گڑیا گھر“، انور سجاد کا ”ایک حکایت“، انصار ناصری کا ”طبیب“، اے حمید کا ”جہاں برف گری ہے“ جیسے ڈرامے پیش کیے گئے۔ ”منٹو راما“ کے عنوان سے سعادت حسن منٹو کی کہانیاں پیش کی گئیں۔

اس دور میں ٹیلی وژن ڈرامے زیادہ تر شہری ماحول کے عکاس ہوا کرتے تھے۔ ان کے موضوعات زیادہ تر شہری زندگی کے متعلق ہوا کرتے تھے۔ عبدالقادر جونیجو، نورالھدیٰ شاہ اور امجد اسلام امجد ٹیلی وژن ڈرامے کو اسٹوڈیوز کے مصنوعی ڈرائنگ روم سے نکال کر فطرتی حسن کی جانب لے آئے۔ اس سے پہلے ٹیلی وژن ڈرامے زیادہ تر شہری ماحول کے عکاس ہوا کرتے تھے۔ عبدالقادر جونیجو کے ڈرامے ”دیواریں“، نورالھدیٰ شاہ کے ”جنگل“ اور امجد اسلام امجد کے ڈرامے ”وارث“ نے ٹیلی وژن ڈرامے کو ایک نئی سمت دی اور اس کے بعد ٹیلی وژن ڈرامے پاکستان کے دیہاتی کلچر سے باہر نہیں نکل سکے اور اس کے بعد ہی سنجیدہ موضوعات کے حامل ڈراموں کے ساتھ پی ٹی وی نے دیہاتی کلچر اور موضوعات کو بھی اپنے ڈراموں کا موضوع بنایا۔ پی ٹی وی کے ڈرامے میں سندھ کے دیہی کلچر کو فروغ دینے کے ساتھ سندھی زبان اور لھجے کو اردو ڈراموں میں متعارف کرانے والا عبدالقادر جونیجو تھا۔ اس کے بعد پنجابی، پشتو اور بلوچی آمیزش اردوڈرامے مقبول ہونے لگے۔

ایک عظیم ڈرامہ نگار، ناول نگار، مترجم اور ادیب اتنی خاموشی سے 30 مارچ کو سفر آخر پر رخصت ہوا، کہ اس کو سندھی اخبارات میں دو کالمی خبر نصیب ہوئی۔ وہ عبدالقادر جونیجو جس کا ڈرامہ ”دیواریں“، ”کارواں“ اور ”چھوٹی سی دنیا“، پی ٹی وی پر نشر ہوتا تھا تو راستے ویران ہو جاتے تھے، اس کے موت کی خبر بھی اردو اخبارات اور چئنلز نے کورونا کی کوریج میں گم کردی۔ عبدالقادر جونیجو کی قدر نہ ہم نے زندگی میں کی، نہ مرنے کے بعد۔

عبدالقادر جونیجو نے 1، نومبر 1945 ء کو صحرائے تھر کے ایک چھوٹے سے گاؤں جنھان میں جنم لیا، پرائمری تک تعلیم اپنی گاؤں سے لینے کے بعد اپنے پولیس افسر والد کے ساتھ نگر نگر سفر کرتے رہے اور مئٹرک کا امتحان تھر کے شہر ڈیپلو سے پاس کیا۔ والد کی ملازمت کی وجہ سے آپ بھی 1962 ء میں پولیس میں بحثیت اے ایس آئی منسلک ہوگئے۔ لیکن آگے چل کر والد کے کہنے پر پولیس کی ملازمت چھوڑ کر پرائمری استاد کی ملازمت اختیار کر لی، بعد میں ترقی کر کے سیکنڈری اسکول میں استاد ہوگئے۔

آپ نے لکھنے کی ابتدا 1963 ء میں سندھی افسانے سے شروع کی، جس میں آپ کی راہنمائی محمد ابراہیم جویو جیسے عالم نے کی۔ جب شیخ ایاز شیخ الجامعہ سندھ ہوئے تو انہوں نے عبدالقادر جونیجو کو سندھالوجی میں پبلیکیشن افسر تعینات کیا۔ جامشورو آنے کے بعد آپ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا۔ آپ کے لکھے ہوئے افسانے متواتر سماہی مہران اور اور دوسرے جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ اس دوران آپ نے ایم اے سماجیات اور بی ایڈ تک تعلیم بھی حاصل کر لی۔

ستر کی دہائی سندھی افسانوی ادب اور شاعری کی ترقی کے حوالے سے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جس کی وجہ جامشورو اور حیدرآباد کا ادبی ماحول ہے۔ اس دہائی میں سندھی افسانے کے ساتھ سندھی ڈرامے کو بھی ٹیلی وژن جیسا نیا میڈیم ملا۔ اردو کی طرح سندھی ڈرامے کی ابتدا بھی پرانے ریڈیو یا اسٹیج ڈرامے کو ٹی وی ڈرامہ میں تبدیل کر کے ہوئی۔

1967 ء میں پی ٹی وی کراچی مرکز کے قیام کے بعد 22۔ جنوری 1970 ء سے سندھی میں ٹی وی نشریات کی ابتدا ہوئی۔ سندھی زبان میں پہلا ٹی وی ڈرامہ ”زینت“ تھا۔ یہ ڈرامہ مرزا قلیچ بیگ کے ناول ”زینت“ پر مشتمل تھا، جس کو ڈرامائی تشکیل شمشیرالحیدری نے دی تھی۔ عبدالقادر جونیجو نے بذات خود پہلا سندھی ڈرامہ ”تلاش“ 1975 ء میں لکھا تھا، لیکں اس سے پہلے آپ کی ایک کہانی کو ”موٹ“ کو علی بابا نے ڈرامائی تشکیل دی تھی اور وہ ڈرامہ ستمبر 1972 ء میں ٹیلی کاسٹ ہوا تھا۔ اس سے پھلے آپ کے لکھے ہوئے بیشتر ڈرامے ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے نشر ہو چکے تھے۔

عبدالقادر جونیجو کی شائع شدہ انگریزی اور سندھی کتب کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے۔ آپ کی وجہ شہرت جہاں سندھی افسانہ ہے، وہیں آپ نے سندھی ڈرامے کو بھی نیا موڑ دیا۔ آپ کا دوسرا لکھا ہوا ڈرامہ ”مون میں آہیں تون“ (مجھ میں ہو تم) 1976 ء، ”بھنگ“ (تاوان) ، ”گردش“، ”ھن وستی میں“ (اس بستی میں ) ، ”جانچ“ (تفتیش) ، ”شکار“، ”خانصاحب“، ”رانی جی کہانی“ (رانی کی کہانی) ، ”شھرت“، ”بھرم“، ”اصل معاملو“ (اصل معاملہ) ، ”عورت ذات“، ”ڈوہ“ (گناہ) ، ”راج بھاگ“، ”دل ائیں دنیا“ (دل اور دنیا) ، ”وڈی مچھی“ (بڑی مچھلی) ، ”ویندڑ وہی“ (جاتی ہوئی زندگی) شامل ہیں۔

آپ کے لکھا ہوا سندھی ڈرامہ ”رانی جی کہانی“ ایک سماجی ڈرامہ تھا جو کہ سندھی زبان میں بہت زیادہ مقبول ہوا تو اس کو اردو زبان میں بھی ”دیواریں“ کے نام سے نشر کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ہمارے ہاں فلم ہٹ ہونے کا پئمانہ ہاؤس فل، سلور جوبلی اور گولڈن جوبلی مانا جاتا ہے، اسی طرح ڈرامے کی کامیابی کا پئمانہ روڈ کا سنسان ہونامانا جاتا ہے۔ ”دیواریں“ پاکستان ٹیلی وژن کا پھلا ڈرامہ تھا، جو جب نشر ہوتا تھا تو ”دیواریں“ سنساں ہو جاتی تھیں۔ یہ ڈرامہ دیہی سماجی نوعیت کی برائیوں کا پردہ چاک کرنے سے لے کر زندگی کے تمام شعبوں کی منافقت اور فریب کاری کو سامنے لانے میں کامیاب ہوا۔ اس ڈرامے کی ذریعہ عبدالقادر جونیجو نے سندھ کے دیہی لوگوں کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش کی۔

ڈرامہ سیریل ”دیواریں“ انگریزی ترجمے کے ساتھ بی بی سی چئنل۔ 4 سے بھی نشر ہوا تھا۔ صحرائے تھر کے پس منظر میں عبدالقادر جونیجو نے ڈرامہ سیریل ”کارواں“ لکھا، جس کے بعد دنیا کو صحرائے تھر میں رہنے والے لوگوں کی تکالیف کا احساس ہوا۔

”دیواریں“ کے بعد آپ نے مزاحیہ ڈرامہ ”چھوٹی سی دنیا“ لکھا، جس کو آج تک پسند کیا جاتا ہے۔ اس ڈرامے کے مرکزی کردار مراد علی (یوسف علی) کئی سال پردیس میں رہنے کے بعد سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں واپس آتے ہیں جہاں ان کے انگریزی بولنے کے چرچے ہوتے ہیں اور گاؤں کے سادہ لوگ ان کا انگریزی بولنے کا مقابلہ جانو جرمن نامی کردار سے کرواتے ہیں۔ ان کے اس مقبول ڈرامے پر برلن یونیورسٹی جرمنی میں ایک تحقیقی مقالا بھی لکھا گیا۔

عبد القادر جونیجو کے دیگر اردو ڈراموں میں نے ”چھوٹے بڑے لوگ“، ”سیڑھیاں“، ”پراندہ“، ”دھول“، ”پانچواں موسم“ اور ”دکھ سکھ“ شامل ہیں۔

آپ ان چند ڈراما نگاروں میں شامل تھے، جو ڈرامہ لکھنے کے بعد اس کی ریھرسل، پراڈکشن اور ایڈیٹنگ میں بھی پروڈیوسر کے ساتھ ہوتے ہیں۔ آپ نے انگریزی زبان میں دو ناول THE DEAD RIVER اور RUSTICS بھی لکھے۔

عبد القادر جونیجو ڈرامے کے شعبہ میں اعلے ٰ خدمات پر دو مرتبہ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی اور کئئی پی ٹی وی ایوارڈز ملے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر قاسم راجپر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *