وبا کے دنوں میں دیکھی جانے والی فلمیں ( دوسرا حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راقم نے چند دن پہلے جب اسی نام سے انگریزی فلموں کی ایک فہرست بنا کر آپ کی خدمت میں پیش کی تھی تو میرے بھائی احسن عباسی صاحب نے مشورہ دیا تھا کہ ایک فہرست ہندی اور پاکستانی فلموں کے حوالے سے بھی ہو جائے۔ میں نے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے ایک ہندی فلموں کی فہرست بنائی جو آپ کے پیشِ خدمت ہے۔

آوارہ۔ 1951

مکیش کا یہ لازوال گیت ”آوارہ ہوں، یا گردش میں ہوں آسمان کا تارہ ہوں“ اور لتا منگیشکر کی لافانی آواز میں گایا گیا یہ گیت ”گھر آیا میرا پردیسی“ آج بھی ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ ان گیتوں کے موسیقار تھے شنکر جے کشن اور ان گیتوں کو قلم بند کیا تھا میرے شہر راولپنڈی میں پیدا ہونے والے شیلندر نے۔

آوارہ ایک کرائم ڈرامہ فلم تھی جس کو بالی ووڈ کے شو مین راج کپور نے بنایا اور ڈائریکٹ بھی کیا۔ اس کے مرکزی فنکاروں میں راج کپور اور نرگس تھے۔ آوارہ ہندی سنیما کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حثیت رکھتی ہے۔ اس فلم نے ہندی سنیما کو ایک دنیا سے متعارف کروایا اور خاص طور پر سابقہ سوویت یونین میں تو اس نے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ دو ہزار بارہ میں جب ٹائم میگزین نے تمام وقتوں کی سو عظیم فلموں کی فہرست بنائی تو اس فہرست میں یہ فلم بھی موجود تھی۔

مدر انڈیا — 1957

بھارت کی پہلی فلم جو آسکر کے لیے نامزد ہوئی۔ ہدایتکار محبوب خان کا ایک ایسا شاہکار جس کو صرف ہندوستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی سب سے عظیم فلموں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اسے دنیا کی کئی زبانوں میں ڈب کیا گیا ہے۔

مدر انڈیا کا کردار ادا کرنے والی نرگس کے فلمی کیرئیر کی یہ شاندار فلم ہے۔ اس فلم میں نرگس کے ادا کیے گئے ماں کے کردار نے ہندوستانی سنیما کو اپنے سحر میں یوں لیا کہ آنے والی کئی دہائیوں تک ماں کے ادا کیے گئے کرداروں میں اس کی جھلک نظر آتی رہی۔ اسی طرح اس فلم میں دیے گئے ایک اچھے اور ایک برے بھائی کے تصور نے بھی بہت عرصے تک ہندوستانی سنیما پر راج کیا۔

مغلِ اعظم— 1960

ایک تاریخی کردار پہ بنی یہ فلم جسے آصف کریم نے ڈائریکٹ کیا جو دلیپ کمار کے بہنوئی بھی تھے۔ دلیپ کمار اور ہندی سنیما کی پرکشش اداکارہ مدھوبالا کے کرداروں سے سجی یہ فلم ہندوستانی سنیما کی کامیاب اور مہنگی ترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ ”پیار کیا تو ڈرنا کیا“ جیسا سپرہٹ گانا رکھنے والی اس فلم کا شاندار میوزک نوشاد نے دیا تھا اور گانے شکیل بدایونی نے لکھے تھے۔ اس فلم میں بڑے غلام علی صاحب نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا تھا۔

میرا نام جوکر — 1970

بالی ووڈ کے شو مین راج کپور، جنہوں نے اس فلم کو بنایا اور ڈائریکٹ بھی کیا، کا ایک ماسٹر پیس جسے خود راج کپور بھی اپنے دل کے بہت قریب قرار دیتے تھے۔ اگر چہ یہ کچھ زیادہ ہی طویل فلم ہے لیکن اس میں راج کپور کی اداکاری آپ کو مدتوں یاد رہے گی۔ سوویت بوکس آفس پر بھی اس فلم نے دھماکے دار بزنس کیا تھا۔

اس فلم کا شاندار میوزک شنکر جے کشن نے ترتیب دیا اور یوں ان دونوں موسیقاروں کی جوڑی نے اپنا نواں فلم فئیر ایوارڈ جیتا۔ مکیش کے گائے دو گانے ”جینا یہاں مرنا یہاں“ جسے شیلندر نے لکھا، اور اس کی اچانک وفات کے بعد اس کے بیٹے نے اس کو مکمل کیا تھا، اور ”جانے کہاں گئے وہ دن“، جسے حسرت جے پوری نے لکھا، آج بھی اتنے ہی مقبول ہیں۔ اس فلم میں راج کپور کے بیٹے رشی کپور نے بھی اپنا فلمی سفر شروع کیا تھا۔

گائیڈ — 1965

انتہائی پرکشش شخصیت کی مالک وحیدہ رحمان کو کون بھول سکتا ہے اور ان پر پکچرائز کیا گیا یہ گانا ”آج پھر جینے کی تمنا ہے“ اُف، آج بھی دلوں کے تار چھیڑ دیتا ہے۔ وحیدہ رحمان اور دیو آنند کی فلمی جوڑی ہندی سنیما کی چند بہترین جوڑیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اور اسی شاندار جوڑی کی یہ شاندار فلم ”گائیڈ“ مجھے ذاتی طور پر انتہائی پسند ہے اور خاص طور پر اس فلم کا اختتام تو کمال کا ہے۔

آر کے نارائن کے اسی نام کے ناول پہ بنی یہ خوبصورت فلم اور اس فلم کا خوبصورت میوزک ایک نہ بھولنے والا تجربہ ہے۔ ویسے تو اس کے سارے گانے عمدہ ہیں لیکن ”گاتا رہے میرا دل“ مجھے بہت پسند ہے۔ اس فلم کا میوزک ایس ڈی برمن جیسے مہان کلاکار کی کاوش تھی اور اس فلم کے گانے ایک اور مہان لکھاری شیلندر کے خوبصورت قلم کی دَ ین ہیں۔

ہندی سنیما کے ایوارڈز کی تاریخ میں شاید آج بھی یہ سب سے دکھی کر دینے والا واقع ہے کہ اس فلم نے میوزک میں ایوارڈ نہیں جیتا تھا ویسے یہ پہلی فلم تھی جس نے فلم فئیر ایوارڈز میں تمام چار بڑے ایوارڈ جیتے تھے۔

آنند — 1971

ہندی سنیما کے پہلے سپر سٹار راجیش کھنہ کی ایک خوبصورت فلم جس میں ان کے ساتھ سپورٹنگ کردار امیتابھ بچن نے ادا کیا تھا۔ سال کی بہترین فلم فئیر ایوارڈ جیتنے والی اس فلم کو ڈائریکٹ کیا تھا ہرشکیش مکھرجی نے، گلزار نے ڈائیلاگ لکھے تھے اور سنیل چودھری نے اس کا میوزک ترتیب دیا تھا۔ یہ فلم راجیش کھنہ کی لگاتار سترہ کامیاب فلموں میں سے ایک ہے۔ اس فلم کو امیتابھ بچن کی پہلی کامیاب فلم مانا جاتا ہے۔ ایک مریض اور ایک ڈاکٹر کے رشتے پہ بنی اس فلم کے مشہور گانوں میں مناڈے کا گایا ”زندگی کیسی ہے پہیلی“ اور مکیش کا گایا ”کہیں دور جب دن ڈھل جائے“ شامل ہیں۔

شعلے — 1971

اب ذکر ہو جائے ہندی سنیما کی ایک شہرۂ آفاق فلم جسے رمیش سپی نے ڈائرکٹ کیا تھا اور سلیم۔ جاوید کی جوڑی نے لکھا تھا۔ آر ڈی برمن نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی۔ یہ فلم ہندی سنیما میں ایک ایسا مقام رکھتی ہے جو شاید ہی کسی اور فلم کے حصے میں آیا ہو۔ تقریباً نصف صدی گزرنے کے بعد بھی یہ فلم اور اس کے کرداروں کو کوئی بھلا نہیں پایا۔ چاہے گھبر سنگھ ہو، ٹھاکر ہو یا پھر بسنتی ہو۔ اب ذرا اس فلم کے کچھ ڈائیلاگ ملاحظہ کریں جو آج بھی اتنے ہی مشہور ہیں جتنے پچاس سال پہلے تھے :

”تیرا کیا ہو گا کالیا“ ”کتنے آدمی تھے“ ”جو ڈر گیا سمجھو مر گیا“ بہت یارانہ لگتا ہے ”اور یہ سارے ڈائیلاگ ادا کیے تھے فلم کے سب سے مشہور کردار گھبر سنگھ نے۔ کہا جاتا ہے کہ اُس دور میں واقعی مائیں اپنے بچوں کو یہ کہ کر سلاتی تھیں کہ سو جاؤ ورنہ گھبر سنگھ آ جائے گا۔

اس کے مرکزی کرداروں میں دھرمیندر، امیتابھ بچن، ہیما مالینی، جیا بہادری، سنجیو کمار اور سب سے بڑھ کر امجد خان شامل ہیں۔ کشور کمار اور مناڈے کی آواز میں ”یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے“ اور ”کوئی حسینہ جب روٹھ جاتی ہے تو“ جیسے گیتوں سے کون واقف نہیں۔

دیوار — 1975

”آج میرے پاس گاڑی ہے، بنگلہ ہے، تمھارے پاس کیا ہے؟ میرے پاس ماں ہے“

یہ ڈائیلاگ نہ صرف اس فلم کی پہچان بن گیا تھا بلکہ نروپا رائے کو بھی ماں کے کردار میں ہمیشہ کے لیے امر کر گیا۔ ”میں آج بھی پھینکے ہوئے پیسے نہیں اٹھاتا“ بھی اس فلم کا ایک اور مشہور ڈائیلاگ تھا۔ ایسے لازوال مکالمات لکھنے کے لیے ہندی سنیما سلیم جاوید کی جوڑی کا ہمیشہ ممنون رہے گا۔ ہندی سنیما کے اینگری ینگ مین یعنی امیتابھ بچن کے کیرئیر کی یہ ایک شاندار فلم ہے جس کے ایک سین میں جب وہ مندر میں کھڑے ہو کر بھگوان سے مکالمہ کرتے ہیں، بھلا کون بھلا سکتا ہے؟

یش چوپڑہ کی اس بلاک بسٹر فلم کی سٹار کاسٹ میں امیتابھ بچن، ششی کپور، نیتو سنگھ، پروین بابی اور نروپا رائے شامل ہیں۔ اس فلم کا میوزک آر ڈی برمن نے دیا تھا اور ساحر لدھیانوی نے اس کے گیت لکھے تھے۔ کشور کمار اور آشا بھوسلے کا گانا ”کہ دوں تمھیں یا چپ رہوں“ آج بھی بے حد مقبول ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *