آپ نے آخری دفعہ کوئی کتاب کب پڑھی تھی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے معمولات زندگی تقریباً معطل ہیں۔ عوام کو ہر طرف سے سماجی تعلقات محدود کر کے گھروں میں دبکے رہنے کی تلقین ہو رہی ہے۔ لوگ اس پر نوے فیصد عمل پیرا بھی ہیں۔ گویا زندگی کو بچانے کے لیے کاروبارِ زندگی کو کلوزڈ فار مینٹینینس (Closed for maintenance ) کر دیا گیا ہے۔

اس ماحول میں وہ احباب جن کو کتب بینی کی عادت نہیں تھی، قدرے ذہنی دباؤ کا شکار اور بے چین نظر آتے ہیں۔ ورزش اور مختلف کھیلیں بلا شبہ بے چینی، پریشانی دور کرنے اور ذہنی دباؤ دور کرنے کا موئثر ذریعہ ہیں۔ مگر کتب بینی کی اپنی ایک اہمیت ہے کیونکہ یہ آپ کو دنیا بھر کی نہ صرف سیر کرواتی ہے بلکہ متنوع موضوعات پر زندگی کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نیز کتاب پڑھنے والا مطالعے کے دوران مصنف سے ملاقات کر کے اس کی شخصیت سے بھی واقفیت حاصل کرتا ہے اور تازہ دم محسوس کرتا ہے۔

اگر میں اپنی بات کر وں تو میں نے وہ تمام کتب دوبارہ پڑھنی شروع کر دی ہیں جن کے بارے میں سوچا کرتا تھا کہ جب وقت ملا تو ان کتابوں کو ایک دفعہ اور پڑھوں گا۔

محترم جناب وجاہت مسعود کی کاوش سے بنائے گئے ”ہم سب“ جیسے ہر دل عزیز فورم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حفاظتی حصار میں اسیر، اسیران وائرس کے لیے کتب بینی کے حوالے سے چند مشورے پیش خدمت ہیں۔ :

انگریزی پڑھنے والے دوستوں کو یہ کتب اور ان مصنفین کی دیگر مطبوعات اس حفاظتی تنہائی کی رفیق خاص بن سکتی ہیں :

۔ گیبرئیل گارشیا مارکیز کا شہرۂ آفاق ناول : لَو اِن دی ٹائم آف کالرا :

 Love in the time of Cholera by Gabrial Garcia Marquez

۔ ترکی کی نامو ر ادیبہ ایلف شفق کا مشہور ناول : ”دا فارٹی رولز آف لو“

The Forty Rules of Love by Elif Shafak

(اس ناول پر فلم بھی بن چکی ہے )

۔ تقسیمِ پاک و ہند کے حوالے سے خو ش ونت سنگھ کا مشہور ناول : ”ٹرین ٹو پاکستان“ :

Train to Pakistan by Khushwant Singh

اسی مصنف کی کتاب: دی بُک آف اَن فار گیٹیبل ویمن

The Book of Unforgettable Women

۔ افغانی ناول نگار خالد حسینی کا شہرہ آفاق ناول : ”دا کائٹ رنر“

The Kite Runner by Khaled Hosseini

(اس ناول پر بھی فلم بن چکی ہے )

باپسی سدوا کا ناول: ”دا کرو ایٹرز“

The Crow Eaters by Bapsi Sidhwa

۔ ارُون دھتی رائے کا ناول: ”منسٹری آف اٹموسٹ ہیپی نیس“

The Ministry of Utmost Happiness by Arundhati Roy

اسی مصنفہ کا ناول : ”دی گاڈ آف سمال تھنگز“

”The God of Small Things“

ارنسٹ ہیمنگوے کا ناول : ”دا اولڈ مین اینڈ د ا سی“

The Old Man and The Sea by Earnest Hemingway

ٓ۔ البرٹ کیموس کا ناول: ”دا سٹرینجر“

The Stranger by Albert Camus

۔ جارج اورول کا ناول: ”اینیمل فارم“

Animal Farm by George Orwell

۔ پاوئلو کوہلو کا ناول : ”الکیمسٹ“

The Alchemist by Paulo Cohelo

سڈنی شیلڈن کا ناول : اِف ٹومارو کَمز

If Tomorrow comes by Sidney Sheldon

اور، ہرمن ہیس کا ناول : سدھارتھا

Sidhartha by Hermann Hesse

گوگل سرچ کی مدد سے ان ناول نگاروں کی دیگر کتب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ آج کل چونکہ کتاب گھر بند ہیں اس لیے کتابیں آن لائن آرڈر کر کے منگوائی جا سکتی ہیں۔ اس کے لیے بھی انٹر نیٹ پر ہی متعدد ویب سائٹس موجود ہیں۔

اردو پڑھنے والے افراد کے لیے ناولوں، افسانوں اور کہانیوں پر مشتمل کتابوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ سب کے نام یہاں لکھنا ممکن نہیں البتہ جن کتابوں نے ہمارے ذہن پر دیر پا نقوش چھوڑے، ان کے نام لکھے دیتے ہیں :

ڈپٹی نذیر احمد کا ناول: ’توبتہ النصوح‘ ، مرزا محمد ہادی رسوا کا ناول : ’امراؤ جان اد‘ ا، خدیجہ مستور کا ناول: ’آنگن‘ ، منشی پریم چند کا ناول: ’گاؤ دان‘ ، ممتاز مفتی کا ناول : ’علی پور کا ایلی‘ ، بانو قدسیہ کا ناول: ’راجہ گدھ‘ ، محمد الیاس کا ناول : ’برف‘ ، اختررضا سلیمی کا ناول: ’جندر‘ ، وحید احمد کا ناول: ’مندری والا‘ ، شوکت صدیقی کا ناول : ’خدا کی بستی‘ ، مستنصر حسین تارڑ کا ناول : ’پیار کا پہلا شہر‘ ، نیلم احمد بشیر کا ناول: ’طاؤس فقط رنگ‘ ، اور بشریٰ رحمٰن کا ناول : ’پیاسی‘ دلچسپ اور یادگار کتابیں ہیں۔

افسانہ نگاروں کی فہرست اس سے بھی طویل ہے۔ اگر جدید افسانہ نگاروں کی بات کریں تو انتظار حسین، منشا یاد، اشفاق احمد، رشید امجد، محمد الیاس، نیلم احمد بشیر، محمد حمید شاھد، ارشد مرشد، آغا گل، حبیب موحانہ، نیلو فر اقبال، خاقان ساجد، رابعہ الربا، عرفان احمد عرفی، عرفان جاوید، خرم بقاء، صدف زبیری اور منیر احمد فردوس کے کہانیوں کے انتخاب پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی طرح تاریخ، فلسفہ، روحانیات اور نفسیات سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے :

۔ ماضی کے مزار، موسیٰ سے مارکس تک (سبط حسن)

۔ آواز دوست، لوح ایام، ( مختار مسعود)

۔ من کی دنیا (ڈاکٹر غلا م جیلانی برق)

۔ ثقافتی گھٹن اور پاکستانی معاشرہ ( ارشد محمود)

۔ عا م فکری مغالطے (علی عباس جلالپوری)

۔ روحانیات کی نفسیات، دانائی کی تلاش ( ڈاکٹر خالد سہیل)

۔ طریقت (ڈاکٹر کامران احمد) ، اور تہذیبی نرگسیت (مبارک حیدر)

شعر و شاعری سے لطف اندوز ہونے والے افراد کے لیے اتنا کچھ پڑھنے کو ہے کہ یہ مضمون اس کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ معروف شعراء کی شاعری ان کے کلیات اور دیوان کی شکل میں ہر جگہ دستیاب ہے۔

مندرجہ ذیل شعرا ء کو پڑھے بغیراردو شاعری پڑھنے کا مزہ دوبالا نہیں ہو سکتا:

میر تقی میر، مرزا اسداللہ خان غالب، فیض احمد فیض، عبدالحمید عدم، شکیل بدایونی، قتیل شفائی، ناصر کاظمی، ساحر لدھیانوی، ظہیر کاشمیری، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، منیر نیازی، جون ایلیا، توصیف تبسم، مجید امجد، افتخار عارف، بشیر بدر، سیف الدین سیف، پروین شاکر، امجد اسلام امجد، ثمینہ راجہ، وحید احمد، نذ یر قیصر اور نثار ناسک۔

خود اسیری کے یہ چند مشکل دن کتابوں کے ساتھ گزاریں۔ ان سے دوستی کریں، شاید کبھی پھر ایسا موقع میسر نہ آئے۔

سنبھلنے دے مجھے اے نا امیدی، کیا قیامت ہے

کہ دامانِ خیال یار، چُھوٹا جائے ہے مجھ سے

(غالب)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *