ویلڈن چوہدری پرویز الٰہی
سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کا اگر چہ پنجاب میں کردار آئینی اور محدود ہے لیکن پنجاب کے سپیکر کے طور پر انہوں نے ایک پنجابی جٹ کا کردار کرتے ہوئے تبلیغی جماعت کے لئے جو بیان جاری کیا ہے اس نے سب پاکستانیوں کے دل جیت لئے ہیں کیونکہ کچھ عناصر ایسے تھے جو تبلیغی جماعت کو کورونا سے زیادہ بڑی چھوت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ لیکن چوہدری پرویز الٰہی کے بیان نے ایسے تمام عقل کے اندھوں کی آنکھیں اور کان کھول دیے ہیں جو کورونا کی آڑ لے کر پرامن تبلیغی جماعت کو نفرت کی دیوار سے لگانے میں مصروف تھے۔
اس سے پہلے تفتان بارڈر سے جو پاکستانی ایران میں زیارتوں کے بعد واپس آئے تو ان پر بھی بہت باتیں ہوئیں حالانکہ ایران حکومت نے ان تمام پاکستانی زائرین کو تفتان بارڈر پر لاکر بے یارومددگار کھڑا کردیا تھا اور اب پاکستانی حکومت کی مجبوری تھی کہ اپنے پاکستانیوں کو اپنے دیس میں قبول کرے لیکن نفرت کا پرچار کرنیوالوں نے اس کا ملبہ حکومت کے مشیروں پر ڈال کر نفرت کی آگ بھڑکانا چاہی مگر ناکام رہے۔
چوہدری پرویز الٰہی نے بہت درست کہا ہے کہ کیا کورونا اٹلی اور چین سمیت امریکہ میں تبلیغی جماعت والوں نے پھیلایا ہے جو چند جملے انہوں نے تبلیغی جماعت کے لئے کہے وہ کوئی جٹ ہی ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تبلیغی جماعت والے پرامن ضرور ہیں لیکن کوئی ان کو لاوارث نہ سمجھے۔
درحقیقت خود وزیراعلیٰ پنجاب کو اس بارے میں بات کرنی چاہیے تھی لیکن مجھے یقین ہے انہیں خود بھی اس کا علم نہیں ہوگا جو کچھ پنجاب میں تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ پنجاب پولیس نے کیا ہے۔ پنجاب پولیس والوں نے تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ کسی پرانے بغض کا بدلہ لیا ہے اور یہی وہ حربہ ہوتا ہے جس سے فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے۔
تبلیغی جماعت والے تو بہت مقدس کام کے لئے نگر نگر جاتے ہیں اور مسجدوں اور دین سے دور ہونے والے لوگوں کو اللہ کا دوست بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کرتے ہیں لیکن ہدایت صرف اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے لے کر عام کارکن کو سخت ترین باتیں سننے اور جواب میں مسکرانے کی تربیت دی جاتی ہے لیکن کچھ فرقہ پرست لوگوں نے یہ کوشش کی کہ تبلیغی جماعت اور کورونا کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا جائے۔ حالانکہ تفتان بارڈر سے آنے والے اہل تشیع بھائی ایران کورونا لینے نہیں گئے تھے وہ مقدس ترین ہستیوں کے در پر حاضری دینے گئے اور اس سفر میں اگر وہ وباء کی زد میں آگئے تو اس میں ان کا کیا قصور ہوسکتا ہے؟ بلوچستان حکومت نے انہیں گھر واپس لاکر درست اقدام کیا۔
اس کے علاوہ پنجاب میں زیادہ کورونا کی تباہی تو مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے آنے والے شہریوں نے پھیلائی ہے، اٹلی، فرانس، سعودی عرب سے پلٹنے والے کیا دانستہ وہاں سے کورونا لے کر پاکستان پہنچے تھے؟ ایسا نہیں ہے بلکہ یہی وہ سمندر پار پاکستانیز ہیں جن پر حکومت ناز کرتی ہے۔ بدقسمتی سے یہ لوگ بھی کورونا کی زد میں آگئے تو اس میں ان کا کیا دوش ہے؟ مزید برآں پاکستان میں زیادہ تر کورونا کے مریض ایسے ہیں جو کسی مذہبی اجتماع کے بغیر اس مہلک وائرس کا شکار ہوئے۔ اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ شہزادہ چارلس کے پاس کون سی تبلیغی جماعت گئی تھی؟ یا برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن تفتان سے آئے زائرین کو لینے کے لئے گئے تھے، مگر وہ کورونا کی زد میں ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی جس طرح سے فرنٹ فٹ پر آکر تبلیغی جماعت کے حق میں بولے ہیں وہ قابل تحسین ہے، اصولی طور پر یہ بات وزیراعظم عمران خان کو دو روز پہلے کرنی چاہیے تھی کیونکہ مدینہ کی ریاست انہی کا نعرہ ہے اور تبلیغی جماعت والے بھی اور تفتان بارڈر سے پاکستان آنے والے اسی مدینے والے کے ماننے والے ہیں اور پاکستان ان کا گھر ہے۔
تبلیغی جماعت کے وفد اس وقت برطانیہ، کینیڈا، امریکہ، اٹلی، فرانس، سپین سمیت پوری دنیا میں موجود ہیں دنیا کے کسی ملک سے ایسی نفرت بھری آوازیں نہیں اٹھیں جتنی پاکستان سے اٹھی ہیں لیکن چوہدری پرویز الٰہی کی شکل میں پنجاب کے ایک جٹ کی جرأت مندانہ آواز نے فرقہ پسندوں کا گلہ دبا دیا ہے۔ ویلڈن چوہدری پرویز الٰہی۔

