عمران خان: کیا دائرہ مکمل ہونے کو ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تین شادیاں نمٹائیں۔ طلاقیں دیں، الیکشن لڑے، ہارے، پھر کچھ جیتے بھی۔ اسٹیج سے گرے، ٹھیک ہو گئے۔ انگوٹھیاں پہنیں، کلائی پر تسبیح لپیٹی، مزاروں پر ننگے پیر چل کر گئے، ماتھا ٹیکا تب کہیں جا کر یہ ہما پھڑ پھڑاتا ہوا سا سر پر آ کر بیٹھا۔ اس ہما کو گھیر گھار کر سر پر بٹھانے والے بھی با کمال لوگ ہیں۔

ہینڈسم تو تھے ہی۔ کرکٹ کے کھلاڑی تھے۔ ورلڈ کپ جیت کر تو گویا سب کے ہیرو بن گئے تھے۔ بولی وڈ کی حسینائیں اور برطانیہ کے بورژوا طبقے کی لیڈیز سب ہی فدا ہونے کو بیٹھی تھیں۔ نظر انتخاب جمائما پر پڑی۔ سب کچھ مل گیا تھا۔ اچھی بیوی، پیارے بچے، دولت، شہرت، لوگوں کی محبت۔ اسپتال بنا کر تو دنیا میں بھی مقبول ہو گئے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک خواب نظروں میں بس گیا۔ وزیر اعظم بننے کا۔ اور اس خواب کے تعاقب میں چلتے چلتے اتنی دور نکل گئے کہ واپسی کی کوئی راہ نہ رہی۔

جمائما کو لوگوں نے قبول کر ہی لیا تھا۔ وہ بچاری بھی اپنی لندن کی گلیمرس زندگی چھوڑ کر خان صاحب کے ساتھ روکھی سوکھی گزارنے آ گئی لیکن پندرہ سال کے بعد صبر جواب دے گیا۔ دونوں بیٹوں کو لے کر واپس لندن چلی گئی۔ اس کی ہمت دیکھیں کہ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ساتھ ایک بچی ٹیریان وائٹ کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔

خان صاحب پہلے جنرل حمید گل کے گروپ کے ساتھ مل گئے۔ مرحوم ایدھی کو ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ طالبان سے ہمدردیاں ظاہر کیں۔ پھر اپنی پارٹی تحریک انصاف کی بنیاد ڈالی۔ 1997 کے انتخابات ہوئے تو ایک بھی سیٹ نہ جیت سکے۔ 1999 میں پرویز مشرف کی فوجی مداخلت کی پوری حمایت کی۔ بعد میں شرمندہ ہوئے۔ بقول خود ان کے انہیں کئی بار بڑی بڑی پیشکش ہوئی۔ پہلے ضیا الحق سے وزارت کی پھر مشرف سے وزارت عظمی کی لیکن انہوں نے یہ ساری پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ بہت اونچ نیچ دیکھنے کے بعد اور شدید محنت کے صلہ میں 2011 میں اچانک عمران خان کی سیاست چمکنے لگی۔ جنگل کا جنگل ہرا ہو گیا۔ کچھ بڑے نام راتوں رات پارٹی میں شامل ہو گئے بالکل ایسے ہی جیسے ری پبلکن پارٹی میں شامل ہوئے تھے یا کنونشن لیگ میں یا آئی جے آئی میں۔ کپتان نے بھی کرکٹ کی اصطلاحات سیاست میں استعمال کر کے خوب داد سمیٹی۔ 2014 میں شہرہ آفاق دھرنا کیا۔ ہزاروں لوگ جمع کر لیے، خوب ہنگامہ رہا پر کچھ بات بنی نہیں۔

دھرنا لمبا ہوتا گیا اور میلہ دیکھنے والے کم ہو گئے۔ ایسے میں انہیں شادی کی سوجھی۔ لوگوں کو پھر شغل ہاتھ آ گیا۔ سب ہی نئی بھابھی کو دیکھنے اور جاننے کو بے قرار تھے کچھ دن اور لوگ اس میں مگن رہے پھر آنا چھوڑ دیا۔ دھرنا سونا ہو نے لگا۔

ایمپائر کی انگلی نہ اٹھی، ایک بال میں دو وکٹ تو کیا، ایک بھی نہ گری۔ ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر بھی کوئی نہ بولا۔ ادھر سے چوکے چھکے نہ لگے رنز بھی نہ بنے لیکن وکٹ پر وہ ڈٹے رہے۔ اب دھرنا جان کو آ گیا۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ ایسے میں ایک قومی سانحہ ہوا اور خان صاحب کو فیس سیونگ مل گئی۔ اور جب پورا ملک آرمی اسکول میں بچوں کے قتل عام کے غم میں ڈوبا ہوا تھا خان صاحب دھرنا لپیٹ کر اور شیروانی پہن کر ریحام خان کو ٹیکا سجائے فوٹو شوٹ کروا رہے تھے۔ اس شادی سے عمران خان کو فائدے کے بجائے نقصانات ہی ہوئے۔ انہوں نے خود بھی اسے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا ہے۔

ابھی وہ ریحام کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ ایک اور نام لیا جانے لگا۔ لوگوں نے دھیان نہیں دیا لیکن ان کے پاک پتن کے پھیرے پر پھیرے لگنے لگے۔ ریحام کو شک تو ہو گیا۔ بلکہ مرحومہ قندیل بلوچ نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کوئی پیرنی ہے پنکی نام کی۔

عمران خان کو وزیراعظم بننے کی ترکیب درکار تھی۔ بشارت دینے والی کے در تک پہنچ ہی گئے۔ بشارت دینے والی نے خوشخبری دے دی۔ پہلے خاص نگینہ والی انگوٹھی اور تسبیح تک بات رہی پھر آخری حل نکالا گیا۔ شادی۔

عمران خان نے گھر آ کر ریحام کو جو ان دنوں لندن میں تھیں ای میل کے ذریعہ طلاق بھیجی۔ بشارتی خاتون نے بھی مسئلہ گھر والوں کے سامنے رکھا۔ شوہر نے ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں انہیں طلاق دی۔ بچوں نے آشیرباد دی۔ اور یوں یہ شادی ہو گئی۔ بقول دونوں کے یہ روحانی معاملات ہیں۔ اگست 2018 ء میں عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے۔

وزیر اعظم بن تو گئے لیکن ایک دن بھی چین نہ ملا، سکھ کی سانس نہ آئی۔ ہر نئے آنے والوں کی طرح انہیں بھی خزانہ خالی ہی ملا۔ پتہ نہیں اس خزانے کو کوئی کب بھرتا ہے اور کب خالی کر دیتا ہے۔ اٹھارہ سال صرف امید میں گزار دیے، تیاری کا وقت ہی نہ ملا۔ اتنا وقت بھی میسر نہ آیا کہ ذرا پارلیمان کے بارے میں جانکاری کر لیتے کہ آخر یہ ہوتی کیا ہے اور چلتی کیسے ہے۔ ٹیم بھی کچھ ایسی ویسی ہی تھی۔ ہر جگہ پر غلط بندے لگا دیے۔ بالر کو بیٹسمین بنا دیا، فیلڈر سے وکٹ کیپینگ کرائی۔ تیز رنز بننا والے کو باہر بٹھا دیا۔

آتے ہی دھاڑنا شروع کر دیا کہ میں نہیں چھوڑوں گا۔ کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ معیشت کا تین سروں، چار ہاتھوں، اور آٹھ ٹانگوں والا جن سامنے دانت نکوسے کھڑا تھا۔ پارٹیوں کے لیڈر جیلوں میں بند ہو گئے۔ خان صاحب کا خیال تھا کہ بس ابھی شریف برادران ایون فیلڈ کے اپارٹمنٹس بیچ کر سارے پاونڈز ان کے سامنے رکھ کر ہاتھ باندھے مودبانہ کھڑے ہو جائیں گے۔ یہی توقع زرداری سے تھی کہ وہ بھی اپنا سارا پیسہ جہاں جہاں بھی ہے لا کر ڈھیر کر دیں گے اور ان کے آگے جھک جائیں گے۔ خان صاحب کو علم نہیں تھا کہ دونوں وکٹیں آہنی ہیں اور کوئی باونسر بھی انہیں گرا تو کیا ہلا بھی نہیں سکتا۔

ابھی یہی مسئلے حل نہ ہوئے تھے کہ مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے آ بیٹھے۔ مطالبات ان کے وہی تھے جو خان صاحب کے گزشتہ حکومت سے تھے۔ خان صاحب کے جوابات بھی وہی تھے جو نواز شریف کے تھے کہ آپ کیسے یہ مطالبہ کر سکتے ہیں کہ حکومت گھر جائے اور ایک منتخب وزیر اعظم آپ کے کہنے سے استعفیٰ دے دے؟ مولانا خود کو بہت گھاگ سمجھتے تھے۔ دونوں پارٹیوں نے ان سے وعدے تو کر لیے لیکن دغا دے گئیں۔ اکیلے مولانا کو بھی عافیت اسی میں نظر آئی کہ چودھری برادران پر تہمت دھر کر فی الحال کوچ کرو۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *