کرونا کی آفت: کیا ہم کچھ سیکھنا نہیں چاہتے؟


کرونا وائرس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں اموات اور لاکھوں افراد کو متاثر کرنے والا وائرس کہاں سے آیا، کیسے پھیلا اور اس کی روک تھام کے لئے مختلف ممالک نے کیا تدبیریں اختیار کیں ان سوالات کے جواب تو تاریخ میں گونجتے رہیں گے مگر دولت، طاقت، اقتدار اور سرمایہ دارانہ نظام کے جو پول اس آفت کے دوران کھلے، یہ بھی ایک بہت اہم بات ہے۔

چین نے وائرس کے علاج کے لئے ملکی سرمایہ اور تمام تر وسائل لگا کر وبا کو روکا تو امریکا جیسے سپر پاور کی طاقت کا گھمنڈ مٹی میں مل گیا۔ اٹلی میں وبا کے سامنے حکومت اور طبی وسائل کی شکست کے بعد لوگوں نے گھروں میں جمع شدہ دولت گلیوں میں پھینک کر اس سے بیزاری کا اظہار کیا کہ جس کی خاطر انہوں نے زندگی بھر کام کیا وہ دولت اس آفت میں انسانیت کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔

دنیا کے سارے مذہبی مقامات بند ہوگئے۔ دعا کے دروازے دوا کی طرف دیکھنے لگے۔ عقائد کو سائنس نے مات دے دی مگر ہم نے کیا سیکھا؟

ہمارے حکمران اس بات پر الجھتے رہے کہ لاک ڈاؤن ہونا چاہیے یا نہیں؟ وزیراعظم صاحب اس ناگہانی آفت کے وقت بھی امداد مانگتے رہے تو دوسری طرف سیاسی مقاصد کے لئے ٹائگر فورس تشکیل دینے جیسے مضحکہ خیز اعلانات کرتے رہے۔

پورے ملک میں آفات سے نمٹنے کے نام پر بنائے گئے این ڈی ایم اے کے باوردی سربراہ وائرس کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر صوبے سندھ کے خلاف پریس کانفرنسز کرتے اور بیرونی امداد کے ماسک رکھنے کے الزامات لگاتے دکھائی دیے۔

تاجروں اور سرمایہ داروں کا کردار انتہائی شرمناک رہا، جنہوں نے وبا کے دنوں میں بھی نہ صرف ادویات، ماسک اور سینیٹائزر بلکہ جہاں جہاں موقع ملا تو اشیاء خور و نوش کی مصنوعی قلت پیدا کرکے مہنگے داموں بیچنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ ان سرمایہ داروں کی ایک بہت بڑی تعداد کسی نہ کسی طرح سے حکومتوں سے بھی منسلک تھی مگر کسی سیاسی جماعت نے ان کی باز پرس نہیں کی۔

اب ان کا ذکر کرنا ہے جن کا کردار ایسا ہے جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے۔ وہ ہیں ہمارے سیاستدان اور سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کے بعد ملک کو لوٹ کر تجوریاں بھرنے والے افسران، عدالتی ایوانوں کی گندی مچھلیاں اور بڑی بڑی ہاؤسنگ اسکیمز میں رہنے والے ملک کے مراعات یافتہ طبقے کے لوگ۔ جنہیں اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ سسکتی انسانیت کی دلجوئی کے لئے اپنی جائز و ناجائز دولت میں سے ایک روپیہ نکالتے۔

انہی آفت کے دنوں میں بھی بلدیاتی نمائندے اور افسران ماسک، سینیٹائزر اور صابن جیسی امدادی اشیاء میں بھی خورد برد اور چمچہ نوازی کرتے رہے۔ نہ خوف خدا نہ ضمیر کا کوئی بوجھ۔

توفیق تو ان پیروں اور مذہبی شخصیات کو بھی نہیں ہوئی جو سالہاسال سے اپنی دعاؤں کے جھانسے میں لوگوں کے منہ سے نوالے چھینتے رہے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں جتنی وافر مقدار میں سردار اور نواب دندناتے پھرتے تھے وہ بھی منہ چھپا کے بیٹھ گئے ہیں۔ کے پی کے میں بڑی بڑی گاڑیوں اور ڈیروں میں بیٹھ کر رعب جمانے والے ملک اور اسمگلرز بھی کسی کے ہاتھ نہیں آ رہے۔ پنجاب کے چوہدری اور سیٹھ بھی ججز اور جرنیلوں کی طرح غائب ہو گئے ہیں۔

ایک بات تو طے ہے کہ دیر بدیر یہ مصیبت ٹل ہی جائے گی مگر کیا ہم ان رانگ نمبروں کو پہچان کر ان سے جان چھڑانے کی ہمت کریں گے یا اب بھی پھرکیاں لیتے رہیں گے؟

سندھی کی ترقی پسند شاعرہ ڈاکٹر رخسانہ پریت چنڑ نے عالمی یوم خواتین کی مناسبت سے ایک گیت تخلیق کیا تھا کہ

سوچیندی تہ سگھاری تھیندی

نیٹھ سکھی سو بھاری تھیندی۔ (سوچے گی تو طاقتور بنے گی۔ بالاخر میری سہیلی فتحیاب ہوگی)

میں اس کے مفہوم میں ذرا ترمیم کرنے کی جسارت کروں گا کہ بنی نوع انسان سوچے گا تو طاقتور بنے گا۔ بنی نوع انسان اسی طرح فتح یاب ہو گا۔

Facebook Comments HS