مقبوضہ کشمیر ڈومیسائل : کشمیریوں کو مستقل غلام بنانے کا اعلان ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان نے بجا طور سے بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں شہری حقوق کے بارے میں جاری ہونے والے نئے حکم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابل مذمت قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے گزشتہ سال اگست میں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے اور اسے دو حصوں میں بانٹ کر براہ راست مرکز کے کنٹرول میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت سے مقبوضہ کشمیر سخت لاک ڈاؤن اور موصلاتی پابندیوں کا سامنا کررہا ہے ۔ بیشتر کشمیری لیڈروں کو گرفتا کیا گیا ہے اور وہاں انسانی حقوق کی پامالی کو چھپانے کے لئے ہمہ قسم مواصلات پر پابندیاں عائد ہیں۔
عمران خان نے ایک ٹوئٹ پیغام میں بھارتی حکومت کے نئے حکم کو تمام عالمی قوانین اور چارٹرز کی خلاف ورزی قرار دیاہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کووڈ۔19 کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ہم آہنگی، تعاون اور انسانوں کی حفاظت کے نقطہ نظر سے مل کر کام کرنے کی ضرورت محسوس کررہی ہے، بھارتی حکمران پارٹی ہندو انتہا پسندی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ نئے ڈومیسائل قانون کے ذریعے کشمیریوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں بے گھر اور بے سہارا کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی وزارت خارجہ نے اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے ملکوں سے اس صورت حال کا نوٹس لینے اور بھارتی استبداد کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارتی حکومت کا نیا حکم نامہ خود بھارت میں جاری 21 روزہ لاک ڈاؤن کے باوجود جاری کیا گیا ہے۔ ایک طرف بھارتی حکومت ملک کے سوا ارب سے زائد لوگوں کو کورو نا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے مکمل لاک ڈاؤن پر عمل درآمد کروانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ایجنڈے میں سر فہرست ہندو توا کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کورونا وائرس کی وبا سے بچاؤ، اس کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت پر اس کے اثرات سے اپنے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ بھارتی حکومت البتہ اس عالمی بحران کے دوران بھی مقبوضہ کشمیر پر اپنے استبدادی پنجے گاڑنے اور مرکزی حکومت کا کنٹرول مضبوط کرنے کے شرمناک ایجنڈے پر عمل کرنے میں کسی قسم کی جھجک محسوس نہیں کرتی۔ اس حکمت عملی میں نریندر مودی کو بھارت کے ہندو انتہا پسندوں کے علاوہ سرکاری اداروں حتیٰ کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ متعدد پیٹیشنز کے باوجود بھارتی سپریم کورٹ نے اب تک مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کو ختم کرنے والی آئینی شق 35 اے کے بارے میں رولنگ دینے سے گریز کیا ہے۔ نریندر مودی کی حکومت نے ایک طرف ملکی میڈیا یا کو بے بس کردیا ہے یا اس میں ہندو انتہاپسند عناصر کی ’بھرتی‘ کے ذریعے انتہا پسندانہ، فرقہ پرستانہ اور نفرت پر مبنی مہم جوئی کو تیز کیا ہے۔ دوسری طرف تمام سرکاری اداروں کو انتہا پسند عناصر کے حوالے کرکے حکومت کی یک طرفہ اور غیر جمہوری و غیر انسانی پالیسیوں کے نفاذ کو یقینی بنایا ہے۔
کورونا وائرس کاپھیلاؤ روکنے کے لئے 24 مارچ کو بھارتی وزیر اعظم نے اکیس دن کا ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل بھی کروایا جارہا ہے۔ تاہم دارالحکومت دہلی کے علاوہ دیگر بڑے شہروں میں دیہات اور چھوٹے قصبوں سے آئے ہوئے لوگوں کے علاوہ بے گھر افراد اور بھکاریوں کے لئے یہ اچانک حکم موت کے پروانے سے کم نہیں تھا۔ ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ پیدل اپنے علاقوں کی طرف جانے پر مجبور ہوگئے۔ اس سفر میں پیش آنے والے مشکلات کے علاوہ پولیس اور حکام کی طرف سے برتے جانے والے توہین آمیز اور سخت گیر رویہ کی وجہ سے انسانی المیوں پر مبنی درجنوں رپورٹیں قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں شائع یا نشر ہوئی ہیں۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے کی نریندر مودی کی خواہش و کوشش کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب وہ ایسا قانون نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے تحت میڈیا کورونا وائرس کے بارے میں صرف حکومت کی فراہم کردہ معلومات کو رپورٹ کرنے کا پابند ہوگا ۔یعنی میڈیا کو سرکاری ترجمان کا روپ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بھی اسی قسم کی سخت گیر پالیسی اختیا رکی گئی ہے۔ انتہا پسند رپورٹروں اور اینکرز کے ذریعے یک طرف خبریں لانچ کی جاتی ہیں اور خود مختاری سے کام کرنے والے صحافیوں کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا گروپس کے علاوہ سخت گیر قوانین کو بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن کے بعد نہایت ڈھٹائی سے وہاں پیش آنے والے حالات اور عوام کے احساسات کو سامنے آنے سے روکنے کی کامیاب کوشش کی گئی ۔ میڈیا کے علاوہ عدالتوں کو بھی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے رجھانے یا کنٹرول کرنے میں کوئی حیا محسوس نہیں کی جاتی۔ گزشتہ ماہ کے دوران بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے نومبر میں انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے جسٹس(ر) رنجن گوگوئی کو آئینی شق 80 کے تحت راجیہ سبھا کا رکن نامزد کیا ۔ گوگوئی نے 19 مارچ کو اس عہدے کا حلف بھی لے لیا حالانکہ ملک کی اپوزیشن اور تمام ذمہ دار حلقوں نے اسے عدلیہ کو سرکاری حلقہ بگوش کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ گوگوئی پر بھی یہ نامزدگی قبول نہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا تھا لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ ان کی نامزدگی سے مقننہ اور عدلیہ کے درمیان مواصلت کا کام بہتر طریقے سے ہوسکے گا۔
رنجن گوگوئی نے چیف جسٹس کا عہدہ چھوڑنے سے چند روز پہلے دو دہائی سے بھی پرانے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اس قدیم اور تاریخی مسجد کو رام بھومی قرار دے کر وہاں رام مندر بنانے کا حکم دیا تھا۔ مودی حکومت نے اسی جج کو ریٹائرمنٹ سے چند ماہ بعد ہی راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرکے واضح کیا ہے کہ ہندو انتہاپسندی کے ایجنڈے کو نافذ کرنے میں معاونت کرنے والے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نوازا جائے گا۔ اس لئے یہ بات حیرت کا سبب نہیں ہونی چاہئے کہ سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ بھارتی عدالتیں مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے، وہاں کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کے سرکاری اقدامات کے علاوہ شہریت ترمیمی بل کے ذریعے مسلمان اقلیت کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوششوں کے حکومتی اقدامات کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے پر تیار نہیں ہیں۔
اس پس منظر میں مقبوضہ کشمیر میں ڈومیسائل کا نیا حکم جاری کرکے دراصل کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کرنے اور وہاں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو نمایاں کرنے کی کوششوں کو تیز کیا گیا ہے۔ یہ قانون دراصل کسی مفتوحہ علاقے کو غلام قرار دیتے ہوئے اس پر فاتح قوم کا حکم نافذ کرنے کے مترادف ہے۔ اس نئے حکم نامہ کے تحت اب کشمیر ی نژاد ہی وہاں کا ڈومیسائل نہیں لے سکیں گے بلکہ کوئی بھی بھارتی باشندہ جو گزشتہ پندرہ سال سے مقبوضہ کشمیر میں رہ رہا ہو اسے وہاں کا شہری تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مقبوضہ علاقے میں تعینات فوجی، سیکورٹی فورسز و پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ تمام سرکاری افسر و اہلکار یا ان کے اہل خاندان دس برس قیام کے بعد خود کو کشمیری شہری قرار دینے کے حقدار ہوجائیں گے۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں سات برس تک تعلیم حاصل کرنے والے ایسے تمام طالب علموں کو جنہوں نے سیکنڈری و انٹرمیڈیٹ کا امتحان مقبوضہ کشمیر کے کسی بورڈ سے پاس کیا ہو، وہ کشمیر کے شہری کہلائیں گے۔
مودی سرکار نے بدھ کی صبح جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس کا سب سے شرمناک پہلو البتہ یہ ہے کہ اس حکم کے مطابق سرکاری محکموں میں چپڑاسی، خاکروب، نچلی سطح کے کلرک، پولیس کانسٹیبل وغیرہ اور چوتھے درجے کے عہدوں کو کشمیریوں کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ جبکہ گزیٹڈ عہدوں کے لیے پورے انڈیا سے اُمیدوار نوکریوں کے اہل ہوں گے۔ مبصرین کے نزدیک یہ اقدام سے 70 لاکھ کشمیریوں کو 130 کروڑ لوگوں کے سمندر میں غرق کرنے کے مترادف ہے۔ یہ ایک قابض حکومت کا ایسا فیصلہ ہے جس سے اس کی بدنیتی اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے اور ان کے گھروں اور دھرتی کو ہتھیانے کی خوہش کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ یہ نوآبادیاتی نظام کی وہی ذہنیت ہے جس کا مظاہرہ انگریز نے ہندوستان پر قبضہ کے دوران کیا تھا۔ یہ کشمیریوں کو ہندوؤں کا مستقل غلام بنانے کا اعلان نامہ ہے۔
دنیا اس وقت کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی تگ و دو کررہی ہے لیکن نریندر مودی انسانوں کی کثیر آبادی کو مستقل غلام بنانے کا حکم نامہ جاری کررہے ہیں۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام اس کے ان دعوؤں کی قلعی کھولتا ہے کہ کشمیر کو مساوی مواقع دینے کے لئے شق 35 اے کو ختم کیا گیا تھا۔ دراصل مودی سرکار کشمیریوں کو بھارت میں ایک نیا اچھوت طبقہ بنانے اور ان کے اپنے وطن میں ان کے تمام حقوق سلب کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ تاہم کسی بھی استبدادی قوت کی طرح کمزور لوگوں پر حکمرانی کا یہ بھارتی خواب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1504 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *