کرونا وائرس اور فیک نیوز سے بچاو
چین سے شروع ہوئے کرونا وائرس نے دنیا میں تباھی مچائی ہوئی ہے اب تک نہ صرف تیس ہزار لوگ ہلاک ہوچکے ہیں بلکہ لاکھوں افراد اس موزی مرض کے مریض ہوچکے ہیں اور دنیا کے تمام ممالک کے ڈاکٹرز ان مریضوں کو بچانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔
بات صرف ہلاکتوں اور مریضوں پے ختم نھیں ہوتی بلکہ دنیا کے بیشتر تمام ممالک نے اپنے اپنے لوگوں کو گھروں میں لاک ڈاون کیا ہے اور دنیا کے زیادہ تر لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہے ہیں
مگر اسی دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم یعنی، فیس بک، واٹس ایپ گروپ اور ٹیوٹر وغیرہ پے فیک نیوز کا انبار لگا ہوا ہے آئے دن نئے نئے جعلی فیک نیوز یا پرانے نیوز اسٹوریز اور حالات کے تصویروں کی فوٹو شاپ یا نئے کرونا وائرس کا جواز بنا کے مختلف گروپس میں شئیر کیا جارہا ہے بلکہ بنا تصدیق کیے آگے بھی پھیلایا جا رہا ہے جس میں لوگوں میں خوف کے ساتھ ساتھ بہت سے غلط خیالات حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔
حال میں ہی سوشل میڈیا پے ایک شیر کی تصویر کو شہر میں دکھایا گیا اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ روس کے صدر پیوٹن نے اپنے شہریوں کو گھروں میں بند کرنے کے لئے ماسکو کے شہر میں شیر چھوڑے ہیں۔
اسی طرح روس کے حوالے سے صدر پیوٹن کی تین سال پرانی وڈیو جو اس نے اپنے فوجی جوانوں سے خطاب کیا تھا اسی وڈیو کو بھی حالیہ کرونا وائرس کی چادر میں لپیٹ کے غلط نمونے سے نہ صرف سوشل میڈیا پے شیئر کیا گیا بلکہ مختلف گروپس میں پھیلایا گیا۔
اسی طرح کچھ مذہبی اور دوسرے لوگ اپنے اپنے مقاصد اور مذہبی طریقے سے ڈرانے اور خوف پیدا کرنے کے لئے مختلف طریقے سے اپنے اپنے طریقوں سے سوشل میڈیا پے مختلف چٹ پٹے طرز کے فوٹو شئیر کر کے یا پھر پرانے واقعات کے تصویروں کو مختلف واقعات کا لبادہ پہنا کے سوشل میڈیا میں پھیلا رہے ہیں جس کی تازہ مثال وینزیویلا کی ایک پرانی تصویر جس میں ڈالر کے مقابلے میں اس ملک کی کرنسی کی ڈیویلوایشن والی پرانے تصویروں کو یہ کہہ کر شیئر کیا گیا کہ اٹلی میں لوگوں نے اپنے کرنسی نوٹ غصے سے سڑکوں پر پھینک دیے اور کہا کہ ان نوٹوں کے بدلے ہمیں وبا اور موت سے بچایا جائے۔
گویا طرح طرح کی فیک نیوز مختلف سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عام لوگ یا صارف کس طرح کسی بھی نیوز جو سوشل میڈیا پے اپلوڈ یا پوسٹ کیا جاتا ہے کے غلط یا صحیح ہونے کی تصدیق کریں۔
تو اس کا انتہائی آسان اور موثر طریقہ یہ ہے کہ یو ٹیوب چینل پر جا کر یہ ٹائپ کریں How to verify any image or news on google مجھے امید ہے یوٹیوب ویڈیوز دیکھنے کے بعد آپ کو صحیح اور غلط پوسٹ کے متعلق معلومات بھی ہوگی اور اسی فیک نیوز کو کسی دوسرے گروپس اور اپنے وال پے شئیر کرنے سے بھی بچ جائیں گے۔


