عزیز میاں قوال کے ساتھ ایک یادگار شام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروری کی ایک خنک شام سب دوست میرے گھر پر جمع تھے اور گاؤں کے دربار کا عرس کا معاملہ زیر بحث تھا جو ہم مارچ کے دوسرے ہفتے میں مناتے تھے۔ صوبیدار لیاقت ہماری کمیٹی کا سب سے سرگرم رکن تھے جو بار بار مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ اس دفعہ کس قوال کو عرس پر بلائیں گے۔ میں اس بارے میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ چوہدری زمان نے کہا یار اس دفعہ تو عزیز میاں کو بلائیں، ان کی ان دنوں بہت دھوم ہے۔ عزیز میاں کا سن کر سب ہی متوجہ ہو گئے اور پھر سب کی رائے ٹھہری کہ میاں صاحب کو ہی بلایا جائے۔

جب سب اس بات پر متفق ہو گئے تو ہم سب سوچ میں پڑ گئے کہ میاں صاحب تو بہت ہی مشہور قوال ہیں اور وہ بڑی بڑی محفلوں میں ہی قوالی کرتے ہیں۔ وہ پیسے بھی بہت زیادہ لیتے ہوں گے اور کیا وہ ہمارے چھوٹے سے گاؤں کے غیر معروف سے دربار میں آ بھی جائیں گے۔ میں چونکہ اس وقت بینک منیجر کے عہدے پر فائز تھا اور میرا دوسرے شہروں میں آنا جانالگا رہتا تھا اس لئے میری اور ایک اور ممبر سائیں مظفر کی ڈیوٹی لگی کہ آپ میاں صاحب سے رابطہ کریں۔ اور ان کو یہاں آنے پر راضی کریں۔

میاں صاحب ان دنوں راولپنڈی میں مقیم تھے اس لئے میں نے اپنے ایک بینکر دوست سے رابطہ کیا اور اس سے ان کے بارے میں معلومات لینے کو کہا۔ ان دنوں موبائل فون تو کجا لینڈ لائن فون بھی خال خال ہی تھے۔ بینکر دوست نے کہا کہ آپ آ جاؤ تو ان کو ڈھونڈھ لیں گے۔ ان دنوں ذرائع آمدورفت صرف ریل گاڑی اور بسیں ہی تھیں۔ یا پھر پرائیویٹ ٹیکسی جو ہم افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے دوسرے دن ہی میں اور سائیں مظفر بس میں بیٹھے اور راولپنڈی پہنچ گئے۔

ہم اپنے دوست کے پاس پہنچے تو وہ ہمیں ساتھ لے کر میاں صاحب کے گھر لے گیا جو اس زمانے میں ڈھوک کھبہ میں رہتے تھے۔ حسن اتفاق سے میاں صاحب گھر میں موجود تھے۔ ہمیں ڈرائینگ روم میں بٹھایا گیا۔ ہم سیدھے سادے دیہاتی بندے تھے اس لئے کچھ گبھرا بھی رہے تھے۔ میاں صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ ہم نے ان کو ٹی وی پر بیٹھے ہی دیکھا تھا جب سامنے دیکھا تو بہت اچھا لگا۔ ان کی شخصیت کے سامنے ہم سے بات نہیں ہو رہی تھی۔

وہ بڑی حلیمی سے نستعلیق اردو میں بات کر رہے تھے۔ ہم نے اپنا آنے کا مدعا بیان کیا اور اپنا بیک گراؤنڈ بھی بتایا۔ ہماری ساری بات سن کر وہ بولے کہ آپ اتنے معصوم لوگ ہیں اور اتنی چاہت سے آئے ہیں میرا دل نہیں کرتا کہ آپ کو انکار کروں۔ لیکن مجھے میری ڈائری دیکھنے دیں۔ انہوں نے ڈائری دیکھی اور ہمیں کسی مخصوص تاریخ کا پوچھا۔ چونکہ ہماری کوئی طے شدہ تاریخ نہیں تھی اس لئے انھوں نے ہمیں مارچ کی پندرہ تاریخ بتائی تو ہم نے فوراً ہاں کر دی۔

اب بات آئی معاوضہ کی تو انھوں نے بتایا کو اس وقت وہ ایک بہت ہی معقول رقم ایک پروگرام کی لے رہے تھے اس کے علاوہ آمدورفت کا خرچہ اور ستاروں والے ہوٹل میں ٹھہرنے کا بندوبست بھی۔ یہ ساری باتیں سن کر ہم شش و پنج میں پڑ گئے اور ہمیں بہت رنج ہوا کیونکہ یہ معاملہ ہمارے بس کا نہیں ہے۔ ہم سوچ رہے تھے کو اتنی رقم کا بندوبست کہاں سے کریں گے۔ ہم سب دوستوں نے تو چندہ جمع کر کے تین ہزار روپے جمع کیے تھے اور باقی چیزوں کا ہمیں کچھ اندازہ نہیں تھا۔

اس دوران ہم ان سے باتیں کرتے رہے۔ بہت اچھی خاطر مدارت کے بعد انہوں نے ہمیں کہا کہ صاحب آپ کا دربار پر قوالی کا پروگرام ہے اور آپ اتنی محبت سے آئے ہیں اور آپ کا کوئی کمرشل مقصد بھی نہیں ہے اس لئے میں آپ سے صرف پانچ ہزار لوں گا اور آپ میرے آنے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں گے۔ ہم رات کو پروگرام کے بعد واپس آ جائیں گے۔ یہ سن کر تو خوشی کے مارے ہمارے آنسو نکل آئے اور میں نے اٹھ کر ان سے مصافحہ کر کے نمناک آنکھوں سے ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس کے بعد انہوں نے کہا کہ قوالی کے دوران لوگ پیسے وغیرہ پھینکتے ہیں اس لئے آپ اپنے دو تین آدمی بٹھائیں گے جو وہ رقم اکٹھی کریں گے اور ہاں وہ رقم آ پکے دربار کے لئے میری طرف سے نذرانہ ہو گی۔ ہماری تو خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ پندرہ مارچ 1983 کی تاریخ طے ہو گئی۔ ہم نے تین ہزار انھیں ایڈوانس دیا اور اپنا ایڈریس ان کو بتایا اور انھیں کہا کہ ہم آپ کو مقررہ تاریخ کو خود آ کر لے جائیں گے اور ان سے رخصت لی۔

گاؤں واپس آ کر جب ہم نے اپنی کامیابی کا سب دوستوں کو بتایا تو پہلے تو انھیں یقین نہیں آیا کہ اتنے مشہور اور مہنگے قوال نے ہمارے دربار پر قوالی کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ جب ہم نے باہر لوگوں سے بات کی تو انھوں نے بھی ہمارا مذاق اڑایا کہ عزیز میاں کہاں آئیں گے۔ ہمارے لئے اب یہ ایک عزت بے عزتی کا مسئلہ تھا اور ہمیں میاں صاحب کے شایان شان بندوبست کرنا تھا اوراس بات کا بھی خیال کہ کوئی بدمزگی بھی نہ ہو۔

ہمارا گاؤں ً بنی ً میرپور سے پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر نہر اپر جہلم کے بائیں کنارے پر واقع ہے جو کہ میاں محمد بخشؒ کی نگری کھڑی شریف میں ہے۔ گاؤں میں صدیوں پرانا ایک دربار ہے جس پر چند برسوں سے ہم کچھ دوستوں نے مل کرمیلہ کروانا شروع کیا تھا۔ ہر سال مارچ کے وسط میں ہم عرس اور میلے کا بندوبست کرتے تھے۔ دو تین سالوں سے ہم نے محفل سماع کا اہتمام بھی کرنا شروع کیا تھا۔ یہ سارا کام ہم سات آٹھ دوست آپس میں چندہ جمع کر کے کرتے تھے اور اور کسی سے کسی قسم کی مدد نہیں لیتے تھے۔

میاں صاحب کی رضامندی کے بعد ہم نے اس دفعہ عرس اور میلے کی تیاریاں بہت پہلے شروع کر دی تھیں۔ دربار گاؤں سے باہر تھا اور اس کے ارد گرد کافی خالی زمینیں تھیں وہ ہم نے ہموار کر لیں کیونکہ ہم قوالی والے دن کافی زیادہ لوگ آ نے کی توقع کر رہے تھے۔ اس وقت آج کی طزح ساؤنڈ سسٹم کا کوئی بندوبست نہیں ہوتا تھا۔ صرف ایمپلیفائر کے ساتھ سپیکر لگا کر اچھا ساؤنڈ بنا لیتے تھے۔ ہم نے بھی حتی المقدور کوشش کی کہ بہتر انتظام ہو سکے۔ میاں صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے ایک بڑا سا سٹیج بنایا گیا اور اس پر قالین اور سفید چادریں بچھائی گہیں۔

مقررہ تاریخ سے پہلے میں نے اپنے سکول کے ساتھی اور دوست خواجہ اسحاق سے میاں صاحب کو راولپنڈی سے لانے کی بات کی تو وہ فوراً تیار ہو گئے۔ ان کے پاس اس وقت ایک نئی فورڈ ویگن تھی جو ان کے بھائی نے انھیں انگلینڈ سے بھیجی تھی۔ مقررہ دن ہم بارہ بجے میاں صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ اندر پیغام بجھوایا تو انھوں نے اندر بلا یا لیکن ہم نے گاڑی میں بیٹھنے کو ترجیح دی۔ ان کو تیار ہونے میں کافی دیر لگی۔ وہ تیار ہو کر گاڑی میں بیٹھے تو انھوں نے کہا کہ مجھے وہاں پان اور کڑک چائے کی ضرورت ہو گی۔

میں نے عرض کی کہ جناب وہاں چائے تو جیسا آپ کہیں گے ملے گی لیکن آپ کی پسند کا پان وہاں نہیں ملے گا۔ اس پر انھوں نے اپنے ایک آدمی کو پان لانے کے لئے دوڑایا ا اور ہمیں کچھ دیر انتظارکرنے کہ کہا۔ ہم دو بجے راولپنڈی سے روانہ ہوئے۔ ان دنوں جی ٹی روڈ ابھی دو رویہ نہیں ہوئی تھی اور لاہور والی ٹریفک بھی اسی پر چلتی تھی۔ اس لئے ہم سست رفتاری سے رواں دواں تھے۔

میں ہمیشہ سے ادب کا طالب علم رہا ہوں اور شعر و شاعری سے بھی کافی دلچسپی رہی ہے۔ میاں عزیز صاحب کی قوالیوں میں بہت عمدہ اور معیاری شاعری سننے کو ملتی ہے۔ انہوں نے اپنی قوالیوں میں مرزا اسداللہ غالب۔ علامہ اقبال۔ عبدالحمید عدم اور جگرمرادآبادی کے علاوہ بڑے بڑے اساتذہ کا کلام گایا ہے۔ ان کے ساتھ اس یادگار سفر میں ان کی فنی زندگی اور ان کی قوالیوں پر بات ہوئی۔ وہ خود بھی ایک بلند پایہ شاعر تھے اور اکثر قوالیوں میں اپنا کلام بھی گایاکرتے تھے۔ میں نے ان کی قوالیاں ٹی وی اور ٹیپ ریکارڈر پر سن رکھی تھیں۔ جب میں نے ان کی قوالیوں میں گائے ہوئے اشعار پر بات کی تو ان کو میری دلچسپی پر خوشی ہوئی۔ ان کے باتیں کرنے کا انداز آج تک مجھے نہیں بھولا۔ آج کے ادب پر ان سے بات ہوئی

گاؤں پہنچے تو انہوں نے سب سے پہلے دربار میں فاتحہ پڑھنے کوکہا۔ ہم نے گاڑی دربار کے پاس روکی تو وہ گاڑی سے اترے اور دربار کے اندر داخل ہوئے اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئے اور چند منٹ تک آ نکھیں بند کر کے زیرلب کچھ پڑھتے رہے اور پھر اٹھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اور گاڑی میں آ بیٹھے۔ میں نے انہیں بتایا تھا کہ یہاں لوگ اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں لیکن سچے اور محبت کرنے والے ہیں۔ اس پر وہ مسکرائے لیکن بولے کچھ نہیں۔

کھانا ہمارے دوست لیاقت نے بنایا تھا۔ ہمارا وہ دوست ٹانگوں سے معذور تھا لیکن کھانا پکانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ ہم سب اسے پیار سے صوبیدار صاحب کہتے تھے۔ کھانا جب میز پز لگانے لگے تو میاں صاحب نے کہا کہ حضور اگر زمین پر دسترخوان بچھا لیں تو سب مل کر کھاتے ہیں۔ چنانچہ قالین پر ہی دسترخوان بچھایا گیا اور میاں صاحب۔ ان کی پارٹی اور ہم چار پانچ دوستوں نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ دیسی گھی میں دیسی مرغ صوبیدار لیاقت نے بہت مزیدار بنایا تھا۔ میاں صاحب نے کھانے کی بہت تعریف کی۔ کھانے کے دوران میاں صاحب مختلف ممالک خاص کر انڈیا اور دوسرے شہروں کے کھانے پر کافی باتیں کیں۔

آج کل ہمارے لوگ اگر ایک گانا بھی گا لیتے ہیں تو ان کا نخرا آسمان چھونے لگتا ہے لیکن اتنے بڑے اور ساری دنیا میں مشہور قوال عزیز میاں کو ہم نے عجز و انکساری سے بھرپور انسان کے طور پر دیکھا۔ میں نے جو ادب و احترام کا سبق ایک دن کی ملاقات میں ان سے سیکھا وہ میری زندگی میں میرے بہت کام آیا۔ کھانے کے دوران ہمارے ایک نوجوان دوست نے میاں صاحب سے پوچھا کہ آپ تو شرابی میں شرابی گاتے ہیں تو کیا آپ شراب پیتے ہیں۔ سوال سن کر ان کے چہرے پر ایک ملال کا رنگ میں نے دیکھا لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے مسکرا کر جوان کی طرف دیکھ کر کہا بیٹا آپ دیکھ رہے ہو کیا پی رہے ہیں اور ابھی آپ چھوٹے ہو جب کچھ بڑے ہو گے تو یہ باتیں آپ کو سمجھ آئیں گی۔ ہم میاں صاحب سے کوئی سخت جواب کی توقع کر رہے تھے۔

جب ہم پنڈال میں پہنچے تو میں میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا۔ ہم نے روشنی کا بہت اچھا بندوبست کیا تھا۔ لیکن ہمیں ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں مجمع بے قابوہ نہ ہو جائے۔ لیکن ہمارے گاؤں کے ہی دوست کے بڑے بھائی پولیس انسپکٹر چوہدری زمان نے تھانہ میں اطلاع دے کر پولیس کا بندوبست کر دیا تھا جو کہ اپنی گاڑی سمیت پنڈال میں موجود تھی۔ میاں صاحب کو دیکھ کر لوگوں نے شور مچایا تو انہوں نے سٹیج پر بیٹھنے سے پہلے سپیکر پر آ کر سب لوگوں سے درخواست کی کہ سب لوگ آرام سے بیٹھ جائیں وہ سب کی فرمائشیں پوری کریں گے۔

اور جب تک آپ لوگ مجھے سننا چائیں گے میں سناؤں گا۔ پھر وہ اپنی ٹیم کے ساتھ سٹیج پر بیٹھ گئے۔ ان کی دوخواست پر سب لوگ خاموش ہو گئے اور بیٹھ گے۔ میں سٹیج پر ان کے ساتھ ہی بیٹھا تھا۔ پندرہ بیس منٹ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ ساز و آواز کو سیٹ کیا اور پھر اللہ تعالی کی حمد سے آغاز کیا پھر منقبت میں تقریباً آدھا گھنٹہ لگایا۔ اس کے بعد لوگوں نے شرابی شرابی کا شور مچایا تو انہوں نے کہا کہ حضور میں یہ بھی سناوں گا لیکن پہلے کچھ نیا کلام بھی سن لیں اور اس کے ساتھ انہوں نے انہوں نے ایک غزل چھیڑی نسیم صبح گلوں سے کھیلتی ہو گی، کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی اور پھرمجمعے پر ایک سحر طاری ہو گیا۔

تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں۔ پھر میں شرابی شرابی جب شروع ہوئی تو کچھ منچلوں نے ناچنا شروع کیا تو پولیس نے ان کو بٹھا دیا۔ پھر اللہ ہی جانے کون بشر نے لوگوں پر جادو کر دیا تھا۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور رات بھیگنے لگی لیکن میاں صاحب اور ان کی ساری ٹیم ابھی بھی تازہ دم تھی۔ پان تو میاں صاحب مسلسل چبا رہے تھے اور ہر آدھے گھنٹے بعد بغیر چینی اور بغیر دودھ کی چائے کے چند گھونٹ بھی وہ لیتے جا رہے تھے۔

اس دوران ان پر نوٹوں کی بارش ہو رہی تھی جو ہمارے آدمی اکٹھا کر کے ایک تھیلے میں ڈالتے جا رہے تھے اور میرے خیال میں وہ پندرہ ہزار سے زیادہ ہو گی۔ تین بجے انہوں نے سلام پڑھنا شروع کیا وہ بھی کھڑے ہو کر اور سارہ مجمع بھی ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ آج تک ایسا سلام پھر نہیں سنا۔ ساڑے تین بجے ان کا پروگرام ختم ہوا۔ ہم نے ان کے ٹھہرنے کا ایک گھر میں اچھا بندوبست کیا تھا لیکن انھوں نے واپس جانے پر اصرار کیا۔

ہم سب نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ہمارے ایک بزرگ نے وہ تھیلا جس میں ہم نے نو ٹ اکٹھے کیے تھے وہ منگوایا اور میاں صاحب سے کہا کو حضور یہ آپ کا نذرانہ ہے اور آپ کے ساتھ جائیے گا۔ اس پروہ زیر لب مسکرائے اور میری طرف دیکھ کر کہا کہ میری اس برخوردار سے بات ہو چکی ہے۔ یہ میری طرف سے آپ کے دربار کے صاحب مزار کے لئے یہ ایک حقیر سا نذرانہ ہے۔ جب یہ برخوردار میرے پاس پروگرام کے لئے آئے تھے تو میں نے آپ کے ہاں پروگرام کرنے کی ہامی بھر لی تھی اور ساتھ ہی ان کو بتا دیا تھا کہ یہ رقم میری طرف سے صاحب مزار کے لئے نذرانہ ہو گی۔

یہ کہتے ہوئے انہوں نے ہم سے اجازت چاہی۔ ہم ان کے اتنے شکرگزار تھے کہ ان کو رخصت کرتے ہوئے سب کی آ نکھیں اظہار تشکر کے طور پر پرنم تھیں۔ اب بھی جب پرانے دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو میاں عزیز کے ساتھ یۃ شام ضرور یاد آتی ہے۔ اس کے بعد ان کی اور بہت سی قوالیاں منظر عام پر آئیں اور ہم نے سنی اور پسند بھی کیں۔ ان کی قوالیوں کی تمام کولیکشن میرے پاس موجود ہے اور میں آج بھی اپنی گاڑی سفر کے دوران اکثر ان کی قوالیاں سنتا ہوں۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *