تعلیمی نظام کی ضرورت و اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی معاشرے کی ترقی اس کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتی ہے۔ جن معاشروں میں معیارِ تعلیم بہتر ہوتا ہے وہاں کا نظم و نسق بہتر نظر آتا ہے، نئی نئی ایجادات ہوتی ہیں اور سماجی مسائل کو بہترین انداز میں حل کیا جاتا ہے۔ نئے زاویوں سے سوچنے کا عمل تیز ہوتا ہے اور ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس لئے تعلیمی نظام کی ضرورت و اہمیت کو ہم قطعی طور پر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ریاست کے تمام اداروں میں کام کرنے والے لوگ ایک مخصوص تعلیمی نظام سے گزر کر متعلقہ محکموں میں مقرر ہوتے ہیں اور اپنا فرض ادا کرتے ہیں مثلاًً ڈاکٹرز، انجننیئرز، اساتذہ، وکلاء، ملازمین وغیرہ وغیرہ۔

بنیادی طور پر تعلیمی نظام کے دو مقاصد ہوتے ہیں۔ تعلیمی نظام پہلے درجے میں افراد میں مہارت (Skills) پیدا کرتا ہے اور دوسرے درجے میں قومی سوچ کو لوگوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو مہارت کمال درجے کی رکھتا ہو مگر قومی سوچ سے عاری ہو تو اس کی مہارت انفرادی مفاد کی بھینٹ چڑھ جائے گی اور قوم و ملک کے لیے ایک بہتر فرد ثابت ہونے سے قاصر رہے گا۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر کو علاج پر مکمل عبور حاصل ہے مگر قومی سوچ سے عاری ہونے کی وجہ سے وہ معاشرے کا مفید فرد ثابت نہیں ہو سکے گا۔ اسی طرح اگر ایک شخص قومی سوچ سے سرشار ہے مگر اپنے کام میں مہارت پیدا نہیں کر سکا تو وہ مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔ اس لیے تعلیمی نظام یہ دو خوبیاں پیدا کر کے لوگوں کو ایک مفید شہری بنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

جب لوگ ایسے تعلیمی نظام سے گزرتے ہیں تو وہ ایک حقیقی قوم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور ایک قوم وجود میں آتی ہے۔ ایسی قوم خود غرضی اور مفاد پرستی سے بالاتر ہو کر قومی اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دیتی ہے۔ ایسی قوم قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر اقوامِ عالم میں اپنی اخلاقیات اور ترقی کا لوہا منواتی ہے۔

تعلیمی نظام کے ذریعے افراد میں مہارت اور قومی سوچ کو پیدا کرنے کے لیے دو عوامل شامل ہوتے ہیں۔

کیا پڑھایا جا رہا ہے؟

اور

کیسے پڑھایا جا رہا ہے؟

یعنی تعلیم کا معیار کیا اور اسے منتقل کیسے کیا جارہا ہے؟

ان باتوں کو ذہن میں رکھ کر ہم اپنے تعلیمی نظام کا بغور جائزہ لے سکتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوگا کہ ہمارا تعلیمی نظام اپنے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام لوگوں میں مہارت تو پیدا کرتا ہے لیکن قومی سوچ اور اجتماعی رویے پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جیسے ہی شرح خواندگی بڑھ رہی ہے ویسے ہی لوگوں میں خود غرضی اور انفرادی سوچ مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے آج ہم اپنے سماجی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

دنیا کے دوسرے ممالک اپنے تعلیمی نظام کی بنیاد پر سائنس و ٹیکنالوجی میں ہم سے کوسوں دور ہیں۔ اس دور میں ممالک ایک دوسرے کی معیشت کو زیر کرنے اور خود کو سپر پاور ثابت کرنے کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش اس کی بہترین مثال ہے۔ جس نے تعلیمی نظام کو درست بنیادوں پر قائم کر کے اقوامِ عالم میں اپنی حیثیت منوائی ہے۔ لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم ابھی تک ایسا تعلیمی نظام قائم کرنے میں قاصر ہیں اور ہدف تو دور اپنے موجودہ سماجی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آ رہے۔ اگر ہمیں دنیا میں اپنا وجود برقرار رکھنا ہے تو ہمارے حکمرانوں اور قوم کو اپنی ترجیحات بدلنی پڑیں گی اور ایک ایسے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنی ہوگی جو موجودہ اور مستقبل میں درپیش مسائل کا ازالہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
منور اقبال کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *