کرو نا۔ کیا کریں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کاروبارِ زندگی معطل ہوچکا، کہیں جزوی تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ بنی آدم وبا کے خوف سے گھروں میں محصور ہے ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہے وبا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے، ڈرنا کیسے نہیں اور لڑنا کیسے یہ معلوم نہیں۔

ان دنوں وبا کے بعد جن چند سوالوں نے بیشتر لوگوں کو پریشان کررکھا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ”کیا کریں؟ “۔ کوئی توبہ استغفار کرنے کا درس دے رہا ہے تو کوئی کتابیں پڑھنے کا، کوئی گھر والوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنے کا کہہ رہا ہے تو کوئی خدمتِ والدین کی تلقین کررہا ہے، کسی کو گھر کے مختلف کام کرنے یا ان میں ہاتھ بٹانے کی سوجھ رہی ہے، ٹی وی، موبائل، سوشل میڈیا اور کچن بھرپور استعمال ہورہے ہیں۔ اس سب کے باوجود بھی یہ سوال جان نہیں چھوڑ رہا ”کیا کریں؟”۔

مجھے یاد ہے جب بچپن میں بلخصوص سالانہ امتحانات کے بعد چھٹیاں ہوا کرتیں تو یہ سوال اکثر امی سے کیا کرتے تھے، دیگر چھٹیوں میں عموماً سکول کی جانب سے دیے گئے“ چھٹیوں کا کام ”کے سبب ایسے سوالوں سے گریز کرتے تھے کیونکہ اگر غلطی سے کیا کریں کا سوال کرتے تو کوئی نہ کوئی سکول کا کام نکل آتا تھا جو ہم نے کئی دنوں سے نہیں کیا ہوتا تھا۔

اکیسویں صدی کے اوائل تھے ٹی وی چینل، انٹرنیٹ اور دیگر سرگرمیاں سب کچھ ہی محدود تھا حتیٰ کہ جمہوریت بھی نہیں تھی اوہ، یاد آیا جمہوریت تو اب بھی نہیں ہے۔ جو کچھ بھی آج ہے اسے کچھ بھی کہہ لیں جمہوریت نہیں کہہ سکتے، میں اس سے متعلق زیادہ علم رکھتا ہوں نہ اس بات پر یقین مگر اب کچھ کچھ قائل ضرور ہوگیا ہوں۔

ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات دی جاچکیں، مڈل سطح تک کے طلبا تواگلی جماعتوں میں ترقی مل گئی مگر ثانوی و اعلیٰ ثانوی تعلیم کی سطح کے طلبا ء الگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کریں۔ یوں تو ہر سطح کی تعلیم کی اپنی اہمیت وحیثیت ہے مگر یونیورسٹی کے آخری سال (فائنل ائیر) کے طلبا کی حیثیت الگ ہی ہے جو گریجویشن کے بعد زندگی کے نئے دور میں داخل ہورہے ہوتے ہیں اور عملی زندگی ان کی راہ دیکھ رہی ہوتی ہے۔

لاک ڈاؤن کے سبب ان کی سرگرمیاں بھی معطل ہیں، کہیں کہیں آن لائن تعلیم کے نام پر مذاق بھی ہورہا ہے، برائے نام جو تحقیق ”فائنل ائیر پراجکٹ“ کی صورت میں ہوتی ہے جانے وہ کیا ہورہی ہوگی، ”سمر سمیسٹر“ اس برس کے لیے معطل کردیے گئے ہیں جو اس کے سہارے بیٹھے تھے ان کا کیا ہوگا، ایسے میں توعامر خان کی فلم ”تھری ایڈیٹ“ کا وہی مکالمہ سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے جس میں کالج کے ڈائریکٹر ”وائرس“ (طلبا کی جانب سے دیاگیا نام ) ایک طالب علم کے والد کو فون پر کہتے ہیں ”اس سال آپ کا بیٹا گریجویٹ نہیں ہوگا“۔

وطن عزیز کی ہر بات نرالی ہے سو ہمارے ہاں لاک ڈاؤن ہے بھی اور نہیں بھی۔ ایسے میں عوام کیا حکمران طبقہ بھی سوچ رہا ہے، کیا کریں؟ ۔ لوگ ”گھر رہیں، محفوظ رہیں“ کے قلیے پر مکمل طور پر عمل نہیں کررہے ہیں، حکومت لاک ڈاؤن و کرفیو کے مطلب کی بحث میں الجھی ہے۔ جنہیں کہا جارہا ہے کچھ نہ کریں وہ کچھ نا کچھ ضرور کررہے ہیں، جن سے کہا جارہا ہے کچھ کریں وہ کچھ نہ کرنے پر بضد ہیں۔ ہمارے ہینڈسم وزیر اعظم بھی سوچتے ہیں کیا کریں، کیا کریں؟

پھر وہ قوم سے خطاب کردیتے ہیں اور کہتے ہیں ڈرنا نہیں ہے، وبا سے جوانوں کو خطرہ نہیں۔ اس بات کا مطلب عوام یہ لیتے ہیں کہ یہ چھٹیاں پک نک کے لیے ملی ہیں اور دل تو سب کے ہی جوان ہیں۔ بعض جو لاک ڈاؤن کوکسی حد تک سنجیدہ لے رہے ہیں وہ الگ سوچ میں پڑے ہیں کہ کیا کریں، گھروں پر بیٹھے رہے تو ذہنی مریض نہ بن جائیں باہر نکلے تو وبا کا شکار نہ ہوجائیں۔ غرض وبا نے ہر طبقے، شعبے، قابلیت، اہلیت، سوچ و فہم کے پول کھول کر رکھ دیے ہیں، سب اس کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں۔ ان دنوں میں اور کچھ کریں نا کریں، احتیاط اور دعا کریں بلکہ کرتے

رہیں۔

اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply