این طبیب از دیدن بیمار می ترسد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ ‏غزلیں بہت منفرد ہوتی ہیں۔ ایک بار پڑھنے یا سننے سے تسکین نہیں ہوتی بلکہ تشنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک فارسی غزل ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہے۔ امیرجان صبوری کی اس غزل کی حالیہ دنوں میں مقبولیت کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ آج کے حالات کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔ گویا موجودہ کرونائی دور کے لئے ہی کہی گئی ہو۔ مقبولیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اسے معروف تاجک گلوکارہ ’نگورہ خالوا‘ نے کمال عمدگی سے حقیقی درد میں پرو دیا ہے۔

دری لب و لہجے کے معاصر شاعرامیرجان صبوری ہرات (افغاستان) میں پیدا ہوئے۔ بیشتر وقت کینیڈا اور تاجکستان میں گزارا اور پھر ازبکستان میں سکونت اختیار کی۔ صبوری ایک صاحب طرز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مقبول گلوکار بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی اس غزل کو ترنّم میں پڑھا۔ کئی دوسرے ہنرکاروں نے بھی اسے پڑھا لیکن نگورہ خالوا کی پردرد آواز اور ادائیگی نے اس غزل کی خوبصورتی کو چارچاند لگا دیے۔

ان دنوں کرونا کی وبا‎ نے ہنستے بستے شہروں کے مکینوں پر ایسی فضا طاری کی ہوئی ہے کہ لوگ بہار کے موسم میں بھی خزاں کی اداسی اوڑھے گھروں میں دبکے پڑھے ہیں۔ پررونق شہر ویران ہیں، کوچے سنسان ہیں۔ ایسے حالات میں شاعر ہی کرب اور دکھ کی زبان بنتا ہے، وہ کرب جو دنیا کی ہر بستی کا المیہ ہے۔

گزشتہ چند دن سے صبوری کے ‏کلام اور نگورہ خالوا کی دردبھری آواز نے مجھے بھی اپنے سحر میں لیا ہوا ہے اور بارہا سننے سے بھی تسلی نہیں ہو رہی۔ جی چاہتا ہے دیرتک دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہوکر اس کلام کی کیفیت اور تاثیر میں گم رہوں یا پھر کرونا کے خوف سے اجڑے کسی شہر کی پگڈنڈی پر بیٹھ کر اس نظم کو گنگناتے ہوئے دنیا کی بے ثباتی کا نوحہ کرتا رہوں۔

‏غزل کے چند شعر ملاحظہ فرمائیے۔ لیکن جو کیفیت اور لطف نگورہ کی آواز میں ہے وہ تحریر میں کہاں!
شہر خالی، جادہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی
جام خالی، سفرہ خالی، ساغر و پیمانہ خالی
کوچ کردند دستہ دستہ آشنایان، عندلیبان
باغ خالی باغچہ خالی شاخہ خالی لانہ خالی

وای از دنیا کہ یار از یار می ترسد
غنچہ ہای تشنہ از گلزار می ترسد
عاشق از آوازہ ی دیدار میں ترسد
پنجہ خنیاگران از تار می ترسد
شہ سوار از جادہ ی ہموار می ترسد
این طبیب از دیدن بیمار می ترسد

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *