کرونا وائرس اور انسانیت کی تذلیل کے واقعات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن ہے 26 مارچ کا۔ شہر ہے کوٹلی آزادکشمیر۔ مقام ہے شہر کے نکڑ پر لگایا گیا پولیس کا ناکہ اور وقت ہے تقریباً دن دو بجے کا۔ کچھ نوجوان جانے انجانے میں لاک ڈاٶن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناکے کے پاس آتے ہیں۔ پولیس کے درجنوں جوان ان پر تشدد شروع کر دیتے ہیں۔ نوجوان وحشیانہ تشدد پر سر پر پاٶں رکھ کر بھاگنا شروع کردیتے ہیں۔ پولیس کے لاٹھی بردار جوان، بھاگنے والے نوجوانوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ نو جوان آگے آگے اور پولیس کے جوان ان کے پیچھے پیچھے۔

بھاگنے والے جوانوں میں بیس سالا ذیشان بھی شامل ہے۔ تمام نوجوان پولیس سے خوفزدہ ہیں۔ ذیشان کچھ زیادہ ہی ڈرا ہوا ہے۔ اس کے ذہن میں پولیس والوں کا ایک بھیانک اور خوفناک تصور راسخ ہو چکا تھا۔ باقی نوجوان تو پولیس کو جل دے کے ادھر ادھر ہو گئے مگر ذیشان نے حواس باختہ ہو کر سیدھا سڑک پر دوڑ لگا دی۔ دو پولیس والے قانون کی رٹ قائم کرنے کے لیے اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ پولیس تشدد سے وہ پہلے ہی زخمی ہو چکا ہے۔ جب قانون کے محافظ اس کے سر پر آن پہنچتے ہیں تو اسے ان سے بچاٶ کی ایک ہی راہ سجھائی دی۔

اس نے آٶ دیکھا نہ تاٶ ایک کھائی میں چھلانگ لگا دی۔ وہ کئی سو فٹ نیچے لڑھکتا ہوا کھائی کے آخری سرے پر جا رکا۔ زخموں سے لہولہان ہو کر بے ہوش ہو گیا۔ اس کے جسم کی بہت سی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں۔ قانون کے محافظوں کی جوانمردی یہیں تک ہی سامنے نہیں آئی بلکہ تعاقب کرنے والے پولیس کے جوانوں نے خون میں لت پت زخمی ذیشان کو مرنے کے لیے وہیں چھوڑا اور خود جائے واردات سے رفو چکر ہو گئے۔ بعد میں شہریوں میں سے کسی نے ذیشان کو اس حالت میں دیکھا تو اٹھا کر ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹلی لائے۔

مگر خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے مجروح کو فوراً راولپنڈی کسی بڑے ہسپتال میں منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ ورثا نے ہدایت پر فوری عمل کیا مگر ایمبولینس نے چند کلومیٹر فاصلہ ہی طے کیا تھا کہ ذیشان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ وہ جواں بخت پولیس کی قید سے بچنے کے لیے قید حیات و بند غم سے آزاد ہو چکا تھا۔

ایسا ہی دلخراش اور اندوہناک واقعہ چند روز قبل ضلع باغ میں کوہالہ کے پل پر وقوع پذیر ہو چکا تھا جب پنڈی سے باغ آنے والا صدام نامی چوبیس سالا نوجوان پولیس سے بچنے کی کوشش میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے راہیٕ ملک عدم ہو گیا۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ اس وقت تک آزادکشمیر بھر میں کرونا سے ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔ مگر قانون کے محافظوں نے لاک ڈاٶن پر عمل درآمد کے نام پر بد قسمت والدین سے ان کے لخت جگر چھین لیے تھے۔

کرونا وائرس کی یلغار نے پوری دنیا کو گھروں میں بند کردیا ہے۔ دو سو سے زیادہ ممالک لاک ڈاٶن کیے بیٹھے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی بہترین صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لا کر شہریوں کو بلا ضرورت باہر نکلنے سے روک رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی پاک فوج، رینجرز، پولیس اور دوسرے اد ارے لاک ڈاٶن پر عمل درآمد کروانے کے لیے میدان میں ہیں۔ ہماری قوم کی اکثریت اب بھی شاید کرونا کی آفت کو سنجیدہ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

لوگوں کی طرف سے من گھڑت مذہبی عقیدوں، خودساختہ علاج کے عجیب و غریب طریقوں اور سب سے بڑھ کر حکومت کی طرف سے دو ٹوک اور ٹھوس پالیسی کی عدم موجودگی کی وجہ سے بے شمار شہریوں کو گھروں میں روکنے رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہماری روایتی پولیس نے روایتی طریق کار اختیار کرتے ہوئے لاک ڈاٶن پر عمل درآمد کروانے کے لیے بھی بعض اوقات سطحی اور اوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا ہے۔ پولیس کی سپاہ کراچی سے کشمیر تک شہریوں کی تذلیل اور تحقیر کرتی پھر رہی ہے۔

دنیا کے ہر ملک کی پولیس ایسے موقعوں پر کچھ سختی ضرور کرتی ہے مگر ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ شہریوں کو سڑک پر سر عام مرغا بنا کر ڈنڈے برسائے گئٕے ہوں۔ اوپر سے ہماری تماش بین اور چسکہ فروش طبائع ایسے توہین انسانیت پر مبنی مناظر کی فلم بندی کر کے محظوظ ہوتی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ملک کا تعلیم یافتہ اور مہذب طبقہ ایسے واقعات کے انسداد کی کوشش کرتا الٹا انہوں نے ایسے واقعات کو لطیفہ گوئی اور تفنن طبع کا سستا ذریعہ بنا لیا ہے۔

آج اگر ہم اپنے مقتدر اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انسانیت کی توہین پرمبنی ان واقعات پر سراپا احتجاج نہیں ہوں گے تو پھر ہمیں ہندوستان اور کشمیرکے مسلمانوں کے انسانی حقوق کی بحالی کے لیے آواز اٹھا نے اور بھارتی فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مظالم پر معترض ہونے کا کوئی حق نہیں۔ ہم وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور تمام صوبوں کی پولیس کے سربراہوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسے انسانیت سوز واقعات کو فوراً رکوائیں۔

ختم ہوتا ہی نہیں کہرام تیرے شہر میں
آدمیت ہو گئی نیلام تیرے شہر میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *