کرونا ڈائری: نئی دنیا کے خد و خال
تاریخ، ریاضی اور جغرافیہ کے ماہرین متفقہ طور پر اپنا فیصلہ سنا چکے تھے کہ ہماری زمین انسانوں کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ اور ان کی موجودہ آبادی کے تناسب سے دوسری مخلوقات کے لئے تنگ ہوتے ہوتے قریباً ختم ہو چکی ہے۔ اب ایسے وقت میں آٹھ ارب لوگوں کو یہ حکم دینا کہ ”ایک دوسرے سے چھ فٹ کے فاصلے پہ چلے جائیں“ کس قدر مضحکہ خیز یا خطرناک یا پھر قابل عمل ہو سکتا ہے اس بارے میں اب تک کسی قسم کی کوئی تحقیق موجود نہیں ہے۔
کچی آبادی کا بابا طیفا جس نے آج تک سردی گرمی بارش یہاں تک کہ بھوک تک کی پرواہ نہیں کی وہ بھی اپنی ایک کمرے کی دنیا میں بیوی اور چار بچوں سمیت دبکا پڑا ہے کہ اگر سرکار نے واقعی یہ حکم جبرا لاگو کر دیا تو اس کے چاروں بچے پڑوسیوں کے چولہوں میں جا پڑیں گے اور پڑوسیوں کے بچے ان کے پڑوسیوں کے چولہوں میں اور اس طرح اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو کسے خبر کہ آنے والے وقتوں میں بچوں کی گنتی چولہوں پہ چڑھی ہانڈیوں سے ہونے لگے اور کسی کو اس پہ کوئی تعجب بھی نہ ہو۔
میرا ایک دوست جس کی بچوں کے کھلونے بنانے کی فیکٹری ہے اس کا خیال ہے کہ چھ فٹ فاصلے والا حکم اگر واقعی لاگو کر دیا جاتا ہے تو لوگ ایک دوسرے کے گھروں کو پھاندتے، فصلیں روندتے، پل توڑتے ہوئے اپنے اپنے قصبوں اور شہروں اور ملکوں کے کناروں سے کوڑے کے ڈھیروں، چٹیل میدانوں، صحراؤں، جنگلوں، جھیلوں، دریاؤں اور یہاں تک کہ سمندروں میں گرنے لگیں گے جبکہ دوسری طرف میرے ایک آرکیٹکٹ دوست کا کہنا ہے کہ یہی وہ سنہری موقع ہے جو ہزار سال میں فقط ایک بار آتا ہے جب انسان مکمل طور پر یہ ثابت کر سکتا ہے کہ وہ واقعی ایک برتر مخلوق ہے اور ہمیں اس ہنگامی صورتحال میں اپنے تمام تر زمینی و آسمانی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسی فلک بوس دنیا بنا لینی چاہیے جس میں افقی خطوط میں پھیلی ہوئی کل انسانی آبادی کو عمودی رخ کر دیا جائے اور وہ اس کے بے شمار فائدے اور خوش آئند امکانات بھی گنواتا ہے۔
جیسے واقعی اگر ایک عمودی دنیا بنا لی جاتی ہے تو چاند کو ہاتھ لگانا تو حقیقتاً بچوں کا کھیل ہو جائے گا۔ آپ پکنک منانے کے لئے کسی بھی وقت خلا میں جا سکتے ہیں۔ ستاروں کو بہت قریب اور وضاحت سے دیکھا اور محسوس کیا جا سکے گا اور بچے انہیں اپنی مرضی کے ناموں سے پکار سکیں گے اور کسے پتہ کل کلاں کو کسی اور ستارے سے کوئی ہمیں ان کے ستارے کو دیکھتا ہوا دیکھ لے تو اپنے قدرتی اور مروجہ انداز میں ششدر اور دنگ رہ جائے۔ یہ کتنی دلچسپ بات ہو گی۔
آج بائیسواں دن ہے جب بین الاقوامی ادارہ برائے صحت نے عالمی وبا کا اعلامیہ جاری کیا تھا جبکہ گلی محلے کی بالشت بھر دکانوں سے لے کر چھ چھ منزلہ ڈپارٹمنٹل اسٹوروں تک سے ماسک، سینی ٹائزرز، ٹشو پیپر اور دوسری روزمرہ کی اشیائے خور و نوش کو غائب ہوئے آج ساتواں آٹھواں روز ہو گا۔ ذخیرہ اندوزں کے مطابق یہ سراسر ان سست اور کام چور ڈرائیوروں کا قصور ہے جو اپنے بیوی بچوں کو بچانے کے لئے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو داؤ پہ لگا رہے ہیں۔
ڈرائیور اس کا الزام ان موٹر مکینکوں اور چائے پانی کے ہوٹل مالکان پہ لگاتے ہیں جو اپنے روزی کے اڈوں کو تالے لگائے گھروں میں بستر توڑ رہے ہیں۔ ہوٹل ملازمین اپنے باورچی خانے بند کرنے کی ساری ذمہ داری سبزی گوشت کے نرخوں اور عدم دستیابی پہ دھرتے ہیں۔ سبزی اور فروٹ منڈیوں کے بیوپاری زمینداروں کو، زمیندار کسانوں اور مزارعوں کو، مزارعے بیوی بچوں کو اور بیوی بچے حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اربوں روپے کے اضافی بجٹ سے ملکی حالات کو مکمل طور پر قابو میں کر لیا ہے اور سب لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے تاکہ روزمرہ کے معاملات میں سوائے اموات کے سب کچھ کنٹرول میں رہے۔
چور اچکے، شہدے، موالی، ڈاکو، اٹھائی گیرے، بھتہ خور، رہزن، بہروپیے، پیشہ ور قاتل، سمگلرز، نقب زن، بردہ فروش، ایذا رسانی کے ماہر، قحبہ خانوں کے مالکان؛ طوائفیں اور ان کے دلال، جوا خانوں کے منتظمین اور ان کے انتظامی امور کی دیکھ بھال کو رکھے گئے غنڈے اور ان کے گرگوں سمیت سبھی سیاسی رہنما، مذاہب نافذ کرنے والے، قانون بنانے والے، پولیس والے غرض کے زندگی گزارنے کے تمام تر پیشوں سے وابستہ لوگ ایک جتنے سراسیمہ اور ڈرے ہوئے ہیں۔ اچھے اور برے، نیک اور بد کی تمیز اٹھ چکی ہے سب لوگوں کو سب لوگوں سے خطرہ ہے۔ عالمی معاشرہ اپنے اطوار و اقدار کو مکمل طور پر بدل دینے پہ مجبور ہو چکا ہے۔
اجتماعیت کے تصور زندگی کو معطل کر کے انسانوں کو ان کی انفرادی شناخت واپس کی جا رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں قدرتی و مصنوعی وباؤں اور بحرانوں کی روک تھام کے لئے اجتماعی حکمت عملی سمجھی جائے گی جسے بعض شریر لوگ عظیم سازش کا نام دے رہے ہیں اور اس کے تانے بانے وہ ”سائیبر کنٹرولنگ“ سے جوڑتے ہیں۔ اب ایسے حالات میں عین وہ ادارے بھی جو اسی قسم کے ہنگامی اور فوری نوعیت کے حالات پہ نظر ثانی کر کے انہیں نارمل اور معمول کے مطابق لانے کے لئے بنائے گئے تھے خود ابتری اور انتشار سے اتھل پتھل پڑے ہیں۔
میری شناخت اور پہچان کا ہر حوالہ تم اور تمہاری پہلیوں جیسی آنکھوں سے جڑا ہے۔ یونیورسٹی سے بیجنگ اور بیجنگ سے لاہور آنے تک ایک بھی لمحہ ایسا نہیں تھا جب میں تم سے ملنے کی خوشی اور موت کے خوف میں یکساں مبتلا نہ رہا ہوں۔ مجھے یہ ماننے میں کوئی شرم نہیں ہے جب تم بھی یہ ہولناکی اور وحشت بسر کر رہی ہو جس میں عشق کی سلامتی ہی جدا جدا رہنے میں ہے کہ اگر تم اپنی انہی والہانہ آنکھوں سے خنجر بھی میرے سینے میں اتار دو تو مجھے کوئی رنج کوئی پچھتاوا نہ ہو گا لیکن اگر تم مجھے قتل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور فقط ڈرانے کے لئے خنجر تانتی ہو تو میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کی اسی طرح کسی بھی رنج اور پچھتاوے کے بغیر وہ خنجر میں تمہارے سینے میں اتار دوں گا کیونکہ موت کا خوف موت سے زیادہ جان لیوا اور کلیجہ چیر دینے والا ہے لیکن مجھے یقین ہے تم فیصلہ کرنے میں اتنی دیر نہیں لگاؤ گی۔


