کرونا اور خواتین کی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کرونا کی وجہ سے ویسے تو سبھی پریشان ہیں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن خواتین کو اس وقت بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔ ویسے تو بہت سارے مسائل ہیں لیکن اس وقت میں کرونا وائرس کی وجہ سے بڑھتی ہوئی پریشانیوں اور ذمہ داریوں کی بات کروں گی۔

چونکہ اسکول میں چھٹیاں دے دی گئی ہیں بچے سارا وقت گھر پر ہی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے گھر میں خواتین کے کام میں دو گنا بلکہ تین گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے گھر میں کام کرنے والی ماسیوں کی بھی چھٹی کر دی گئ ہے تاکہ گھر میں باہر سے کوئی جراثیم یا وائرس نہ آئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گھر کی صفائی ستھرائی’ جھاڑو پوچا’ کچن کی صفائی برتن دھونا’ کھانا پکانا سب کام خواتین کو کرنے پڑ رہے ہیں اور وہ یہ سب کام بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہیں۔

بچوں کی آن لائن کلاسز کا اسکول کی طرف سے جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے اسکی ذمہ داری بھی انھی پر آتی ہے حتی کہ نرسری’ کے جی کے بچوں کو بھی روزانہ تین سے چار مضامین کا کام دیا جاتا ہے جو ماؤں نے بچوں کو کروانا ہوتا ہے۔ اکژ مائیں پڑھی لکھی نہیں ان کو کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ استعمال کرنا نہیں آتا وہ کیسے اپنے بچوں کو کام کرواتی ہوں گی۔ ہمارے زمانے کی پڑھائی میں اور آج کل کی پڑھائی میں زمین و آسمان کا فرق ہے اب جو کام آن لائن اسکول سے آتا ہے وہ پہلے خود سیکھتی ہیں پھر بچوں کو سکھاتی ہیں اب اگر کسی کے چار بچے ہیں تو وہ کیسے لیپ ٹاپ کے استعمال کو برابر تقسیم کرتی ہونگی۔

اب مائیں بے چاری گھر کو دیکھیں یا بچوں کو کام کروائیں اگر صبح سویرے لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ جائیں گی تو گھر کے کام کیسے کریں گی اکثریت جوائینٹ فیملی میں رہتی ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے مسائل گھمبیر ہو جاتے ہیں تو زرا سوچیں وہ کیسے یہ سب ذمہ داریاں نبھاتی ہوں گی۔ کیا ساس سسر برداشت کریں گے کہ ان کو ناشتہ تھوڑا لیٹ ملے کیونکہ ان کی بہوئیں گوگل کلاس لے رہی ہیں بچوں کے ساتھ ؟ کیا ان کو رعایت ملے گی کہ گھر کے باقی کام تھوڑا لیٹ ہو جائیں تو کوئی ناراض نہیں ہوگا؟

کیا ہر گھر میں لیپ ٹاپ کی کمپیوٹر کی سہولت موجود ہے ؟ کیا ساری مائیں اتنی ماہر ہیں کہ اپنے بچوں کو کام کروا سکیں ان کے تصورات کو واضح اور ان کی بنیاد کو مضبوط کر سکیں پھر ماؤں کو روز بچوں کو صبح اٹھا کر تیار کر کے بٹھانا کہ آج ان کی ہینگ آؤٹ میٹ اپ ہے ساتھ میں خود بھی بیٹھنا۔ اس طرح مائیں ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر رہ گئی ہیں۔

چونکہ اب زندگی گھر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے سب گھر پر ہوتے ہیں تو فرمائشی پروگرام چلتے ہیں کہ آج یہ پکا لو وہ پکا لو’ مرد حضرات گھر پر ہونے کی وجہ سے ہر بات میں نکتہ چینی کرتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا ویسا کیوں نہیں کیا گیا۔ بچوں نے کچھ غلط کر دیا تو تربیت پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں کہ تم یہ بھی نہیں سمجھا سکی یہ نہیں سوچا جاتا کہ بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے شرارتیں کرتا ہے اپنی بات بھی منواتا ہے۔ کرونا کی وجہ سے دماضی مسائل بڑھنے لگے ہیں کہیں تین وقت مختلف کھانے بن رہے ہیں تو کہیں ایک وقت کی روٹی کے لیے لوگ پریشان ہیں اب سارا غصہ اور مایوسی کا غبار عورت پر نکلتا ہے جو ہر لحاظ سے پِس رہی ہے۔

اب جو خواتین نوکری کرتی ہیں ان کے حالات گھریلو خواتین سے زیادہ خراب ہیں گھر سے باہر جانا نہیں چاہتی لیکن نوکری کی وجہ سے جانا پڑتا ہے پھر کرونا کا خطرہ ہے یہ وائرس ایک سے دوسرے کو لگتا ہے اور بڑی جلدی پھیلتا ہے۔ گھر’ بچوں اور خود کو سینیٹائیز کرنا’ اسکول کا کام کروانا’ ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہے جو کہ تھکا دینے والا ہے۔

جہاں ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں وہاں ہر وقت کی ذہنی کوفت’ پریشانی’ ہر وقت کے ڈر و خوف نے ڈیرے ڈال لیے ہیں جس سے نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کوئی خوش دکھائی نہیں دے رہا۔ ایک وقت تھا جب فرصت کے متمنی تھے۔ اب فرصت ملی ہے تو پریشانی نے گھیرا ہوا ہے۔ جیسے انسانوں کو قید سنا دی گئی ہو اور پرندوں کو آزادی کا پروانہ دے دیا گیا ہو اب اندازہ ہوتا ہے کہ یہ قید بھی کتنی اذیت ناک ہوتی ہے۔

اُن گھروں میں اذیت’ تکلیف کیسے ستم ڈھاتی ہو گی جہاں کھانے کو کچھ نہ ملتا ہو گا اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے کسی سے مانگ نہیں سکتے کسی کے سامنے اپنی بھوک کا اپنی غربت کا افلاس کا رونا نہیں رو سکتے کسی سے مدد نہیں مانگ سکتے کیونکہ یہ ظالم معاشرہ مدد کے نام پر تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیتا ہے جو پلک جھپکتے وائرل ہو جاتی ہیں اور غریب بچارے کی عزت کی دھچیاں اُڑ جاتی ہیں۔ ابھی ہمیں اندازہ نہیں ہو رہا جب یہ کرونا کا دور ختم ہو گا تب اس کی تباہ کاریاں سامنے آئیں گی جس کے اثرات آنے والی نسلوں کو بھگتنے پڑیں گے۔

حالات جو بھی ہوں پستی خواتین ہی ہیں لیکن اس مشکل وقت میں ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہئیے کیونکہ ایسے ہی حالات میں پتہ چلتا ہے کہ کون اپنا ہے کون پرایا’ کون دکھ سکھ کا ساتھی ہے اور کون صرف باتوں کی حد تک ساتھ ہے۔ اس نازک وقت میں مرد حضرات کو چاہئیے کہ خواتین کا ہاتھ بٹائیں خوش اسلوبی کا مظاہرہ کریں ان کی مشکل کو کاموں کے بوجھ کو سمجھیں ہر بات میں کیڑے نکالنے کی بجائے ان کی تعریف کریں تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے۔ ان کی ہمت کی داد دیں ان کی بات کو سمجھیں اور مشکل کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت میں صرف ماں کا کردار نہیں ہوتا ہم سب نے اپنا اپنا کردار نبھانا ہوتا ہے۔ بچے پیار کی بات جلدی سمجھتے ہیں لہذا ان کی سطح پر آ کر بات سمجھائیں کچھ ان کی مان جائیں کچھ اپنی منوا لیں۔ بچے بھی سارا دن گھر ہوتے ہیں بور ہوتے ہیں ان کو مختلف جسمانی ورزش اور سرگرمیوں میں مصروف کریں اس سے آپ کا وقت اچھا گزرے گا اور ان کا بھی۔

وقت کی خاصیت یہ ہے کہ اچھا یا برا گزر جاتا ہے لہذا پریشان نہ ہوں وقت اور حالات کا سامنا کرنا سیکھیں۔ بہادری اور سمجھداری سے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دے کر اچھی یادیں بنا لیں۔ زندگی کا بھروسہ نہیں کم از کم کسی کی یادوں میں خوشگوار احساس دے جائیں اچھی یادیں دے جائیں بیتے لمحوں کی خوشبو دے جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *