کورونا بھگانے کا وظیفہ، مسجد کا قرضہ اور بچے کا دودھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شہر اقتدار میں ٹریفک کم مگر اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کی وجہ سے ہیلی کاپٹروں کی آوازیں زیادہ سنائی دیتی ہیں۔ راستوں پر بیلچے سجائے مزدوروں کی چوکڑیاں اور بیکریوں اور میڈیکل اسٹوروں کے باہر حسب معمول بچے کا دودھ لینا ہے، صاحب جی مدد کیجئے والی عورتیں نیند میں سوئے ہوئے بچوں کو گود میں لیے گھومتی نظر آتی ہیں اور گلیوں میں کباڑیوں کی آوازیں اور کچرے کے ڈھیروں پر کچرا چننے والے بھی اکا دکا دکھائی دیتے ہیں۔

مسجد کے پیش امام بار بار لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرتے پھرتے ہیں کہ جمعہ سمیت ساری نمازیں لوگ اپنے گھروں میں ادا کریں مگر ساتھ ساتھ مولانا صاحب مسجد پر چڑھے قرضے کی فکرمندی میں لوگوں سے چندے کی اپیل کرنا نہیں بھولتے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یقیناً لوگ بہت سے مسائل کا شکار ہیں کئی لوگ بیمار گھروں میں پڑے ہیں کئی دیہاڑی دار فاقہ کشی پر مجبور ہیں تو کہیں کچھ استاد لوگوں کی کورونا کی امداد کی وجہ سے لاٹری نکلی ہوئی ہے۔

کوئی صابن دے کر سیلفی بنوا رہا ہے تو کوئی گھی دے کر ویڈیو بنوا رہا ہے۔ سیاسی، غیر سیاسی اور مذہبی طبقات ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ میں ماضی قریب کے ڈیم فنڈ کی طرح اربوں روپے جمع ہونے کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی کورونا وائرس سے نمٹنے والی ٹائیگر فورس کی تعداد میں بھی دن رات اضافہ جاری ہے۔ مگر لگتا ایسا ہے کہ ایمان اور نوجوان کی طاقت کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس سے لڑنے والی جنگ کے لیے شاید ایک عدد وظیفے کی ضرروت بھی پڑ جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کے بار بار خبردار کرنے کے باوجود بھی ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور مہنگائی کرنے والوں کی چاندی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو پورے ملک میں سراہا گیا مگر کہیں سے یہ اشارہ بھی آیا کہ وزیر اعلیٰ سمیت سندھ کابینہ کو اتنی پھرتیاں دکھانے کی کیا ضرورت ہے لہذا ان کو فوری طور پر قرنطینہ میں چلے جانا چاہیے شاید اس لیے سندھ حکومت کی میڈیا پر تیزیاں کم ہوتی دکھائی دیے رہی ہیں۔ اس دفعہ بھی زلزلہ اور سیلاب کی طرح کورونا وائرس سے ہوئے بے روزگار اور بے گھر لوگ اپنی خودی کو ختم کرتے ہوئے بے نظیر انکم سپورٹ اور خان صاحب کے احساس پروگرام اور لنگر خانوں میں پیٹ پالتے نظر آئیں گے۔

مردوں اور عورتوں کی لمبی قطاریں اے ٹی ایم کے چکر، ایجنٹ مافیا کے جھانسوں اور غربت کے گول چکر میں پستے رہیں گے۔ اس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ سیاسی لوگ تو قرنطینہ میں ہیں اور تمام کریڈیٹ کچھ خاص لوگ لے رہے ہیں۔ ویسے بھی ہر سیاسی جماعت اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کی کوششوں میں ہے اور عوام بیچارے کورونا وائرس کے حوالے ہیں۔ امریکا اور یورپ میں کورونا کیسز اور اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہاں تقریباً ہر شخص ہی اپنا کورونا ٹیسٹ کروا رہا ہے مگر پاکستان میں صرف اور صرف بیرون ملک سے آئے اور مشتبہ اشخاص کا ہی کورونا ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

اگر خود کورونا کا ٹیسٹ کرانا ہو تو تقریباً 8 ہزار روپوں سمیت کئی پاپڑ بھی بیلنے پڑتے ہیں اور ساتھ ساتھ کورونا ٹسٹ کرنے والی کئی کٹس اور نجی لیبارٹریاں بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں۔ صرف انہی لوگوں کو ہی کورونا سے ہوئی اموات میں شامل کیا جا رہا ہے جن کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے لہذا کورونا کو اتنا بھی ہلکا نہ لیا جائے۔ کورونا کی بیماری پاکستان میں بھی یورپ اور امریکا جیسی تیزی سے پھیل رہی ہے مگر ٹیسٹ عام نہ ہونے کی وجہ سے اس کا صحیح اعداد و شمار ممکن نہیں۔

ہم خوف خدا کی باتیں تو کرتے ہیں مگر چیزوں میں ملاوٹ کرنا، ذخیرہ اندزوی اور منافع خوری کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ ہماری قوم ایمان کی باتیں زیادہ اور توہمات پر یقین زیادہ رکھتی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستانی سعودی عرب، ایران سمیت پوری دنیا میں خوار ہوتے رہے، بیرونی وبا بغیر کسی روک ٹوک ملک میں داخلے کا سبب بنی اور وزیر خارجہ صاحب دورہ چین سے لوٹنے کے بعد خود ساختہ قرنطینہ میں چلے گئے اور پھر ان کو کشمیر اور کشمیریوں کی یاد ستائی۔

ملک کے وزیر اعظم اشیا کی آمد و رفت میں سہولت کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ سے بات کرنے کے بجائے رینجرز کو حکم صادر کرتے ہیں اگر قانوں نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام چھوڑ کر راشن باٹنے میں لگ جائیں تو اس جگہ کا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ پھر پیش امام صاحب بھی حق بجانب ہیں کہ لوگوں سے صرف اور صرف مسجد کا قرضہ اتارنے کے لیے چندہ مانگتے رہیں اور لوگ بیچارے ادرک اور پیاز کے ٹوٹکوں سے کورونا کو بھگائیں اور مانگنے والیاں لاک ڈاؤن کے باوجود جگہ جگہ بچوں کے دودھ کے لیے صدائیں لگاتی نظر آئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *