وائرس اور انسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس نے دنیا میں ایک ہلکم ڈال رکھی ہے۔ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی اس بیماری نے دنیا کو ایک عجیب معاشرتی اور معاشی دباؤ کا شکار کر دیا ہے اور ہر ملک اس کوشش میں ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے اس بیماری پر قابو پایا جائے لیکن انسان بہر حال انسان ہے اور ایک معاشرتی جانور ہے۔ مکمل علیحدگی نہ صرف ممکن نہیں بلکہ اس کے نتیجہ میں معاشی مسائل بھی بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ دکانیں بند ہونے کی صورت میں روز مرہ کی ضروریات کھانے پینے وغیرہ کی عدم دستیابی ایک مسئلہ کا روپ دھار رہی ہے اور خصوصاً وہ لوگ جو روزانہ کی بنیادوں پر اپنی ضروریات کے لیے محنت کرتے ہیں ان کے پاس کوئی ایسی جمع پونجی نہیں کہ وہ چند روز تک کےلیے ہی کچھ خوراک اکٹھی کر سکیں۔ قید تنہائی کے نفسیاتی پہلو مزید الجھن پیدا کررہے ہیں مستزاد یہ کہ سوشل میڈیا پر ہر شخص خود کو اس بیماری کا ماہر ثابت کرنے کی کوشش میں ہے اور نت نئے مشورے اور نسخے بتائے جارہے ہیں۔

بعض مشورے اٹلی سے آئے ہیں، بعض افراد کے چینی دوستوں نے انہیں اپنے مشوروں اور تجاویز سے نوازا ہے ،مذہبی حلقے الگ پریشانی کا شکار ہیں ۔بعض علما تو “ہم موت سے نہیں ڈرتے” کا نعرہ لگاکر تمام قوم کو موت کے منہ میں جھونکنے کےلیے تیار بیٹھے ہیں جب تک پولیس انہیں “بریفنگ” نہیں دے دیتی وہ یہی مشورہ دیتے ہیں کہ سب ایک دوسرے سے معانقہ کرتے رہیں۔ ﴿البتہ بریفنگ کے بعد کچھ سدھر جاتے ہیں﴾ الغرض دنیا اس وقت عجیب تذبذب کاشکار ہے اور ماہرین اس تذبذب کو مزید متذبذب بنا رہے ہیں۔

کہیں بین الااقوامی تجارت کے حوالہ سےسازش کی باتیں کی جارہی ہیں تو کہیں سپر طاقتوں کے دجالی منصوبوں کا نظریہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اس حوالہ سے گذشتہ دنوں مکرم حسین عبداللہ ہارون صاحب نے بھی سوشل میڈیا پر ایک نظریہ پیش کیا اور حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وائرس دراصل مغربی طاقتوں کی ایک سازش ہے ۔ جو ترقی پزیر ممالک کو تباہ کرنے کےلیے تیار کی گئی ہے۔ بقول ان کے اس وائرس کو یو کے کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا پھر امریکہ میں اسے پیٹنٹ کروایا گیا انہوں نے اس کے پیٹنٹ نمبر کا حوالہ بھی جاری کیا اور اسرائیل میں اس کی دوائٰی تیار کی گئی مقصد یہ تھا کہ دنیا میں ایک ایسا وائرس پھیلایا جائے جو خطر ناک ہو اورتیز رفتاری سے پھیل سکے مگر اتنا خطرناک بھی نہ ہو کہ موتا موتی لگ جائے بلکہ ایک خاص حد تک تقریبا پانچ فیصد اموات ہوں۔ باقی ٹھیک ہو جائیں اور پھر دنیا میں اس کی ویکسین تیار کر کے بیچی جائے اور “لمبیاں رقماں تے لمبے منافع” کھرے کیے جائیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وائرس کا جتنا معاشی اور معاشرتی نقصان ترقی یافتہ ممالک کو ہو رہا ہے وہ غالباً اس خیالی منافع سے بہت زیادہ ہےجو اس ویکسین کی فروخت سے حاصل ہونا تھا ۔ اس قسم کا وائرس جو صرف پانچ فیصد تک اموات کا حساب کتاب رکھ سکے غالباً gene splicing میں ایک معجزہ گردانا جا سکتا ہے جو ریاضی اور شماریات کے فارمولوں کی طرح کام کرے۔

بیالوجیکل ہتھیار ایک ایسی چیز ہے جو کسی ایک ملک تک محدود رہ ہی نہیں سکتی۔ دنیا میں conventional ہتھیار اور کیمیکل ہتھیار تو کسی خاص جگہ یا خاص رقبہ تک محدود رکھے جا سکتے ہیں مگر بیالوجیکل ہتھیار تو تمام دنیا میں پھیلائے جا سکتے ہیں۔ آخر کیوں جو کام چین کی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے شروع کیا گیا تھا اس کا زیادہ تر اثر اٹلی اور اب امریکہ پر پڑ رہا ہے؟

آج کل کی دنیا میں ذرائع آمد و درفت اور نقل حمل اس قدر تیز رفتار ہو گئے ہیں کہ چند گھنٹوں میں انسان اور اشیاء ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح جراثیم اور وائرس بھی انہیں ذرائع کے ذریعہ سفر کرتے ہیں اور اگر ایک سپر طاقت اپنی حماقت سے اپنے حریف کو ختم کرنے کےلیے یہ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرے تو حریف بھی تو اسی راستے سے جوابی کاروائی کر سکتا ہے۔اس لیے میرے خیال میں ہمیں بین الاقوامی سازشوں اور منصوبوں کو بے نقاب کرنے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ خواہ مخواہ قوم کو مزید نفسیاتی الجھنوں میں نہ ڈالیں تو مہربانی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *