وبا کے دنوں میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبا کے دنوں میں، خوف کے ماحول میں، بے یقینی، بیماری اور موت کے پھیلتے ساۓ، محدود یا مکمل لاک ڈاؤن، راستے بند، سڑکیں سنسان، مسجدیں ویران، اس پر میڈیا کی سنسنی اور خوف پھیلاتی خبریں اور تجزیے، خوراک کی کمی اور قحط کے اندیشے، قرنطینہ اور آئسولیشن مراکز سے آنے والی خوفناک خبریں، حکومتی اداروں کی بے بسی اور بے حسی، ہر پل پھیلتی نت نئی افواہیں اور دل دہلا دینے والی وڈیوز۔ یہ سب ہمارے اعصاب پر بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے کسی اضافی عقل کی ضرورت نہیں کہ اگر یہی خوف اور بے یقینی برقرار رہے تو ان گنت نفسیاتی مسائل جنم لیں گے، لوگ وائرس اور بھوک سے شاید بچ نکلیں مگر نفسیاتی مسائل ان دیکھے بھوت کی طرح ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ اس بحرانی صورتحال میں جہاں بیماری اور بھوک سے بچ نکلنے کے منصوبے بن رہے ہیں وہیں حکومتوں کو اس طرف بھی گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے

لیکن کسی بھی بحران میں صرف حکومت سے تمام توقعات وابستہ کر لینا اور ذاتی ذمہ داری سے خود کو آزاد سمجھ لینا انتہائی قبیح عمل ہے۔

سوال یہ ہے کہ انفرادی طور پر ہم کیا کر سکتے ہیں؟

ہمیں پرامید اور مثبت ذہنی رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسی خبریں، تجزیے، تصویریں اور ویڈیوز جو خوف پھیلاتے ہیں ان سے خود بھی دور رہیں اور دوسروں کو بھیجنے سے بھی گریز کریں۔ اس کی بجائے امید اور حوصلہ بڑھانے والی گفتگو کیجیے اور اچھی خبروں کی تلاش میں رہیے ایسی ہی چیزیں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بھی بھیجیے

سکرین سے دور رہیے، سکرین چاہے ٹی وی کا ہو، لیپ ٹاپ، ٹیب یا پھر سمارٹ فون کا اس کا ہمارے اعصاب پر برا اثر ہی پڑتا ہے، چاہے آپ یو ٹیوب پر کوئی اچھی فلم یا کوئی سبق آموز ویڈیو ہی دیکھیں ۔ ویڈیو میڈیم ہمارے ذہن کے لیے بالکل ویسا ہی ہے جیسا ہمارے معدے کے لیے جنک فوڈ ہے ، جیسے جنک فوڈ کھانے میں آسان اور مزیدار، مگر اثرات میں ہمارے نظام انہظام کے لیے تباہ کن ہے اسی طرح ویڈیو ورژن دیکھنے میں بہت آسان اور مزیدار مگر ہمارے اعصابی نظام کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ اس کی بجائے کتابیں پڑھییے، اور ان سے کشیدہ دانش اور حکمت اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے شیئر کیجیے

پلٹ کر اپنی زندگی پر ایک نظر ڈالیے یقیناً ہر کسی کی طرح آپکی زندگی میں بھی کئی مشکل موڑ آۓ ہوں گے، آپ نےماضی میں کئی بار بیماری، خوف اور بے یقینی کا سامنا کیا ہوگا۔ آپ کی زندگی کی کشتی کئی منہ زور طوفانوں سے گزر کر یہاں تک پہنچی ہوگی۔ کئی بار آپ نے موت کی سرسراہٹ اپنے جسم کے ہر خلیے میں محسوس کی ہوگی، لیکن آپ اگر یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو پھر آپ ابھی بھی زندہ ہیں۔ یقین رکھیں اس وبا کے دور سے بھی آپ بچ کر گزر جائیں گے۔

یقین کیجیے یہ دنیا عارضی ہے اور ہم سب کو جلد یا بدیر مر جانا ہے۔ موت کا ایک دن معّین ہے۔ ہم اس سے زیادہ اس دنیا میں قیام نہیں کر سکتے۔ کسی کو اس وائرس سے مرنا ہے، کسی کو دوسرے یا تیسرے وائرس سے، کسی کی موت سڑک کے حادثے میں ہو گی تو کسی کا ہوائی جہاز کریش ہو گا، کسی کو آگ لپٹے گی تو کسی کو پانی نگل لے گا۔ یہ ہماری زندگی کی وہ بلی ہے جس سے ہم آنکھیں بند نہیں کر سکتے۔ احتیاط اور مکمل احتیاط، ہم پر لازم ہے مگر موت کا خوف خود پر طاری کر لینا بزدلی اور کم ہمتی ہے۔

اچھے کاموں میں حصّہ لیجیے، عبادات میں دل لگائیے، یوگا کیجئے، ورزش کیجئے، چہل قدمی کیجے، گھر میں بزرگوں اور بچوں کے ساتھ وقت گزارا کیجئے، اگر شادی شدہ ہیں تو اپنے شوہر / بیوی کی چند خوبیاں تلاش کرنے کی کوشش کریں اور اگر مل جائیں تو انہیں بتانے کی کوشش کریں کہ آپ کو ان میں اچھائیاں بھی نظر آتی ہیں۔ جن لوگوں سے ناراضی ہے ان کو معاف کر دیں اور جو آپ سے ناراض ہیں فون یا ٹیکسٹ پر ان سے معافی مانگ لیں۔ اپنے دوستوں، رشتہ داروں، ہمسایوں اور آفس کے لوگوں کی خیریت معلوم کرتے رہیں اور اگر کوئی مشکل میں ہے تو اس کی مکمن حد تک مدد کریں۔

پچھلی وباؤں کی طرح یہ وبا بھی انشاءاللہ جلد چلی جائے گی، اور زندگی پھر سے کھل اٹھے گی، پھر راستے کھلیں گے، گلیاں آباد ہوں گی، ہم ہاتھ ملائیں گے، گلے ملیں گے، پھر سے محفلیں جمائیں گے، دعوتیں اڑائیں گے اور اس وقت کو کسی سابقہ سنگ دل محبوبہ کی طرح بھول جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *