مسیحا سے سپاہی تک: حلف اپنا اپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شام کا جھٹپٹا پھیل رہا ہے۔ مضمحل سورج ڈوبنے کو ہے۔ تھکی ماندی دھوپ کی پیلی کرنیں اور آسمان کی ماند پڑتی نیلاہٹ ایک اداسی بھرا منظر کینوس پہ بناتی ہیں۔ پرندے گھونسلوں کا رخ کر رہے ہیں۔ فضا میں جامد سناٹا ہے گویا کائنات تھم سی گئی ہے۔

میں پورچ میں کھڑی ہوں۔ لان میں میرا پسندیدہ برگد کا درخت چپ چاپ کھڑا ہے۔ جانے کس سوچ میں گم ہے۔ بوڑھے درخت کی عمر کی گواہی لٹکتی ہوئی جٹائیں دیتی ہیں۔ پتوں کے رنگوں کی شوخی ماند پڑ گئی ہے۔ برگد کی بانہوں میں پناہ لینے والے پرندوں کی چہچاہٹ کہیں کھو چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کسی آسیب کا سایہ ہے۔

میں سڑک پہ آتی ہوں، دور دور تک کوئی ذی روح نظر نہیں آتا۔ سڑک ویران پڑی ہے۔ کبھی کبھی کوئی ایمبولینس اس کی تنہائی اور خاموشی میں مخل ہوتی ہے۔

ہمارا رخ اس علاقے کی طرف ہے جو باقی شہر سے کاٹ دیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس علاقے میں وبا کی آفت زیادہ لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے، سو فیصلہ کیا گیا ہے کہ پورا علاقہ سیل کر دیا جائے۔

ہمیں رکنے کا اشارہ کر دیا گیا ہے، ایک باوردی مستعد پولیس کانسٹیبل پاس آتا ہے اور ہمارے باہر نکلنے کی غرض و غایت دریافت کرتا ہے۔ ہم بتاتے ہیں کہ اپنے مریض کا آپریشن کرنے کے لئے ہسپتال پہنچنا ہے اور اس کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

وہ ہمارا کارڈ اور اجازت نامہ دیکھتا ہے اور پھر ایک دوسرے راستے سے جانےکو کہتا ہے۔ ہم پھر ڈرائیو کرتے ہیں، مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے تین اور جگہوں پہ اپنی شناخت کرواتے ہوئے ۔

اس اثنا میں سورج ڈوب چکا ہے۔ چاروں طرف ملگجا اندھیرا پھیل رہا ہے اور میں ہسپتال میں داخل ہونے کو ہوں۔ یہ ہسپتال کم آمدنی والے لوگوں کےعلاقے میں واقع ہے اور اسے سی گریڈ کا رتبہ دیا جاتا ہے۔ یہاں زیادہ تر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور فلپائن کے کم آمدنی والے لوگ آتے ہیں۔

اس ہسپتال میں ہفتہ واری پریکٹس کرنے کی بھی ایک داستان ہے۔ پچھلے برس تک ہماری پرائیویٹ پریکٹس ایک پوش ترین علاقے کے اے کلاس ہسپتال میں تھی جہاں زیادہ تر مغربی ممالک اور سفارت خانوں سے تعلق رکھنے والے مریض آتے تھے۔

ایک شام کلینک ختم کر کے گھر جانے کو تھے کہ نرس نے بتایا کہ ایک پاکستانی مریض مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے۔ اندر بلانے پہ ایک عورت داخل ہوئی جس نے بات کم کی اور آنسوؤں کا دریا زیادہ بہایا۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ پچھلی تین زچگیاں سیزیرین سے ہوئی تھیں۔ آخری پاکستان کے کسی چھوٹے شہر کے ہسپتال میں۔ آپریشن مشکل تھا اور ڈاکٹر شاید اتنی تجربہ کار نہیں تھی سو بچہ نکالنے میں بہت مشکل پیش آئی اور بچہ جانبر نہ ہو سکا۔ اب چوتھے سیزیرین کا مرحلہ تھا۔ سی کلاس ہسپتال کے سپیشلسٹ ڈاکٹرز کر نہیں سکتے تھے۔ کنسلٹنٹ صرف اے کلاس ہسپتال میں بیٹھے تھے اور ان ہسپتالوں کے ہوشربا اخراجات کی وہ متحمل نہیں تھی۔ وہ ہم سے بار بار کہتی “ پلیز میرا آپریشن کر دیں، میں پھر سے اپنا بچہ کھونا نہیں چاہتی۔ لیکن میں اس ہسپتال کی فیس ادا نہیں کرسکتی”

وہ چلی گئی اور ہمیں ایک روگ لگا گئی۔ کیا ہم معاشرے میں وسائل کی بےرحم تقسیم اور ان سے مستفید ہونے والوں کے سہولت کار تھے؟ اس سوالنے بہت دن تنگ کیا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ ایک دن ہم نے بوریا بستر لپیٹا اور سی کلاس ہسپتال میں آ بیٹھے جہاں ہم عوام سے براہ راست تعلق میں تھے۔ جیب پہ لگنے والی زد کی ہمیں پرواہ نہیں تھی۔

اب وہی سی کلاس ہسپتال اپنے حدود اربعے اور مریضوں کی وجہ سے آفت زدہ علاقے میں آ چکا تھا۔ ہمیں صبح سے فون آ رہے تھے کہ ہم آپریشن کیسے کریں گے۔ مریضہ بار بار حواس باختہ ہو کے پوچھتی تھی اگر آپ نہ پہنچ سکیں تو؟

ہم ہسپتال پہنچ چکے تھے۔ انتظار گاہ اور راہداری سنسان پڑے تھے، تیزی سےآپریشن تھیٹر کی طرف لپکے۔ پہنچنے پہ معلوم ہوا کہ بتایا گیا ہے کہ مریضہ کی رہائش والے علاقے کے ہر فرد کو کورونا کا مریض سمجھا جائے گا جب تک کہ ٹیسٹ نیگیٹو نہ ہو۔

عملہ کچھ پریشان نظر آیا، سب کو تسلی دی کہ ہم اس جنگ کا اہم حصہ ہیں سو فرض کا تقاضا مسیحا کے حلف کو سر بلند رکھنے میں ہے۔ سپاہی سرحد کی حفاظت کا حلف اٹھاتا ہے اور مسیحا انسانی جان کی حفاظت کا۔ حلف کسی کا ہاتھ نہیں پکڑ لیتا۔ اسے نبھاہنے  کے اپنے اپنے ڈھنگ ہیں۔

N95  ماسک اور کٹ پہن کے آپریشن شروع کیا۔ نہ جانے کیسے ایک پرانی یاد آ گئی۔

ہماری دوست ڈاکٹر افشاں متین کے والد سرجن متین راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں آپریشن کرتے ہوئے کانگو وائرس کا شکار ہو کے اللہ کو پیارے ہوئے تھے۔ افشاں اس وقت بہت چھوٹی تھی۔ میڈیکل کالج میں ہمارےساتھ پڑھتے ہوئے اپنے ابا کے ذکر سے اس کی آنکھوں میں ستارے روشنی دینے لگتے تھے۔

کیا کل کو ماہم، شہر بانو اور حیدر بھی؟ دل نے ایک چٹکی بھری!

آپریشن ختم ہو چکا تھا۔ مریضہ بار بار آنسو بھری آنکھوں سے ہمیں تکتی تھی اور مسکراتی تھی۔

ہم پھر سڑک پہ تھے۔ نیلا آسمان تھک کے سو چکا تھا، ستارے ٹمٹماتے تھے، فضا میں ہوا کی سرسراہٹ تھی۔ سٹریٹ لائٹس کی پھیکی روشنی اندھیرے اور اداسی کو پاٹنے سے قاصر تھی۔ ہمیں پہلی دفعہ سمجھ آئی کہ شہر سائیں سائیں کیسےکیا کرتا ہے؟

گھر پہنچنے تک پھر اک مسافت طے کرنی تھی گویا اک آگ کا دریا تھا جو پار کرنا تھا۔ اک آس کا دیا تھا جو ہم نے ہاتھ میں تھاما تھا اپنے پیاروں سے پھر سے ملنے کے لئے۔

اداس ، خاموش اور جامد فضا نے ہماری سرگوشی سنی۔۔۔

یہ دنیا جہاں زندگی لمحہ لمحہ

گزرتی ہوئی اور یہیں پر

کسی عکس میں الفتوں اور ستم گاریوں کی

چکا چوند گردش ہر اک ثانیے میں

ہزاروں ہیں گرداب اور میں ابھرتا ہوں

ہر پل نئے کیف و کم میں

اسی موسلا دھار بارش میں

بھیگے در و بام، کوچے گلی اور میدان!

(محمد سلیم الرحمن)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *