ایک باطن پرست کے بیکار سے خیالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح کے سات بج رہے ہے۔ میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوں۔ آسمان بلکل نیلا اور صاف ہے۔ میرے گھر کے سامنے پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے۔ سورج کی کرنیں ان کی کی چوٹیوں پر ابھی تک ٹھیک سے نمودار نہیں ہوئی ہیں. چمن کی گیلی گھاس اور امرود کے پیڑ کے پتوں سے آہستہ آہستہ تبخیر(evaporate) ہونے والے شبنم کے قطرے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہے کہ یہ وقت بھی ٹل جائے گا۔ چرند پرند رزق کی تلاش میں اپنے آشیانوں سے اُڑ کر اِدھر اُدھر جا رہے ہیں۔ حدِ نگاہ تک کوئی بنی آدم نظر نہیں آ رہا۔ ہر سمت صرف مختلف رنگوں کے سیمنٹ، پتھر اور سریے کے بنے ہوئے پکے گھر نظر آرہے ہیں، اور ایسا لگ رہاہے کہ یہاں کے مکین بھی پتھر کے ہی ہوں گے.

میں چونکہ ایک باطن پرست اور انٹروورٹ قسم کی طبیعت کا مالک ہوں، تو میرے لئے اِس وبائی عصر سے احتیاط جسے “سوشل ڈسٹنسنگ” کا نام دیا گیا ہے، ایک قابِل گزارں بلکہ آئیڈیل ضابطہ حیات ہے۔

مجھے یاد ہیں بچپن کے وہ دن جب ہمارے گھر میں بہت سی مرغیاں ہوا کرتی تھی، جن میں سے کچھ مرغیاں میری دادی کی نظروں میں کافی شریر تھیں۔اور ہر وقت کسی نہ کسی جگہ ٹانگ آڑاتی پھرتی تھی۔ ان حرکات کو دادی کے علاوہ سب نظر انداز کرجاتے۔ ایک دن تنگ آکر میری دادی نے ایک کو مرغٹ (حلق/گلا) سے دبوچ لیا تھا۔ اُس بیچارے مُرغے کی پھڑپھڑاہٹ ترس کھانے کی قابل تھی۔ دادی اسے ذبح کرنے والی تھی لیکن میرے شدید اصرار اور ضد پر اُسے بخش دیا تھا۔ قدرت نے بھی ایسی ہی چال چلی ہے ۔ بہت موقعے دیئے ہیں ہمیں سدھرنے کے لئے، لیکن ہم نہ سُدھرنے والے ٹھہرے۔ اب بس قدرت کے ترس کھانے کا انتظار ہے جو جاری ہی رہے گا.

میں کوئی اذیت پسند یا سیڈیسٹ خصلت کا بندہ نہیں ہوں مگر جو کچھ ہو رہا ہے اور جو ہم بھگت رہے ہیں، میں اسے برا یا ظلم ہرگِز نہیں سمجھتا. کیونکہ اصولاً ہم مکافات عمل کے آئینے کے سامنے ننگے کھڑے ہیں۔ اب اگر انسان کا ضمیر زندہ ہو اور وہ اسے اپنے کئے پر ملامت کرے اور سدھرنے کا پکا وعدہ لیں تو سمجھ لیجئے کہ مکافاتِ عمل کا کام پورا ہوگیا.

میرے بڑے بھائی ایکسٹروورٹ ہے، میری طبیعت کے بلکل برعکس۔ وہ کہتے رہتے ہے کہ ” تھا جس کا انتظار یہ وہ سحر تو نہیں”. سچ پوچھئے تو یہ صبح اتنی دل افروز نہیں ہے مگر اتنی مایوس کُن بھی نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں ہم بُھگتیں، تب تک بھگتیں جب تک احساس نہ ہو جائے ہر اُس عمل اور فیصلے پر جو ہم نے کیا ہے اور کر رہے ہے . “جو کیا ہیں، اور جو کر رہے ہیں” اس کی وضاحت کرکے زخم ہرے نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اگر ہر بندہ اپنے گریبان میں جھانکے تو جواب مل جائےگا.

اور ہاں، کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جو شاید قصوروار نہ ہو، مگر متاثر ہوں گے، اس کے علاوہ اور بھی دیگر منفی زاویے ہے جن پر روشنی نہیں ڈالی میں نے، مگر وہ انگریزی میں کہتے ہے نہ “Everything comes at a cost. ” شاید یہ لوگ وہی قیمت ادا کر رہے ہے۔

اختتام ندیم بھابھہ صاحب کے شعر سے کروں گا:
کتنا اچھا تھا ہم سے پہلے وہاں
کوئی رستہ اگر نہیں جاتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسد حسن، پشاور کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *