سوال کرنا ایک فطری حق ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آج سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے ایک دن سورج ایسے ہی طلوع ہوا تھا۔ ایتھنز کی عدالت کے کٹہرے میں بوڑھا انکسا غورث کھڑا تھا۔ ملک کے بڑے جج، مذہبی رہنما اور حکمران طبقہ اسٹیج پر براجمان تھے۔ ہزاروں لوگوں پر مشتمل بھیڑ جمع تھی۔ انکسا غورث پر الزام تھا کہ ان کے افکار مذہب کے خلاف ہیں بھیڑ میں جمع کچھ افراد کا مطالبہ تھا پھانسی دی جائے، کچھ لوگ اپیل کر رہے تھے کہ علاقہ بدر کیا جائے۔ اور کچھ کا خیال تھا کہ عمر قید میں رکھنا ‏ٹھیک ہے۔
انکسا غورث اپنے دور کے عظیم سائنس دانوں میں سے تھا جس نے سورج اور چاند گرہن کو سائنسی بُنیادوں پر بیان کیا۔ اور انہیں مظاہر قدرت قرار دیا۔ ان کا خیال تھا کہ چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے بلکہ یہ مٹی اور چٹان سے بنا ہے۔ سائنسدان کے خیالات رائج الوقت مذہب کے تعلیمات کے خلاف تھے لہٰذا مذہبی رہنماوں اور حکمران طبقے کو خطرہ لاحق ہوگیا کے یہ خیالات نوجوان نسل کو اپنی ثقافت اور مذہب سے باغی نہ بنائیں۔ اور یوں جاہلوں کی عدالت میں جہالت جیت گئی۔
بوڑھے سائنسدان کی کتابیں ضبط کی گئی اور انہیں علاقہ بدر کرکے ان کے تعلیمات پر پابندی عائد کردی گئی۔ تاریخ کے صفحے پر اس طرح کے ہزاروں دل خراش واقعات پڑھنے کو ملتے ہیں۔

سقراط جیسا عالم انسان زہر کا پیالہ پی رہا ہے تو کہیں ابن الہیشم کو جان بچانے کے لیے پاگل پن کا ناٹک کرنا پڑ رہا ہے۔

اور کہیں بو علی سینا کی لائبریری جلائی جا رہی ہے۔

ان سب کا قصور یہ تھا کہ یہ لوگ سوال کرنے اور سچ تلاشنے کا ہنر جان گئے تھے۔

ان ہستیوں نے انسان کو سوال کرنا سکھایا۔

دراصل سوال اور تشکیک انسانیت پر قدرت کا ایک بہت بڑا فضل ہے۔اور انسانی دماغ کا خاصا ہے جو اسے باقی تمام جانوروں سے افضل بناتا ہے

بنی نوع انسان نے آج تک جتنی بھی ترقی اور آسودگی سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبہ زندگی میں حاصل کی ہے۔یہ سب سوال کرنے اور اس کے نتیجے میں حاصل علم و تحقیق کی بدولت ہے۔

زمانہ قدیم میں سب سے زیادہ عبرت ناک سزائیں صاحب علم اور سوال اٹھانے والے افراد کو دی گئی کیونکہ کے سوال وہ واحد ہھتیار ہے جو جھوٹ کے بت کو پاش پاش کر دیتا ہے۔ جو جہالت کی کمزور دیوار کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔حق کے متلاشی اسی رستے پہ چل کر اپنی منزل پا لیتے ہیں۔

پاکستان کے نظام تعلیم میں کئی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ طلبہ کو سوال کرنے کا ہنر نہیں سکھایا جاتا ہے۔ چند ‏ایک طلبہ میں اگر یہ ہنر پیدائشی طور پر موجود ہو تو اساتذہ حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ڈانٹ کر طعنہ دیتے ہیں کہ یہ سوال استاد کے علم کو پرکھنے کے لے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے طلبہ میں تخلیق کی بجائے تقلید اور تائید کی صفت پائی جاتی ہے۔ اس لیے اس قوم میں خوارزمی، بوعلی سینا ،جابر بن حیان پیدا ہونا بند ہوگیا ہے اور نا ہی نیوٹن، تھومس ایڈیسن، آئن سٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ پیدا ہونا شروع ہوا ہے

انسانی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہیں کہ کوئی بھی نظریہ فلسفہ یا کوئی مادی ایجاد وقت گزرنے کے ساتھ تبدیلیوں سے گزرا ہے۔ ۔وہ تمام نظریے جو جامد تھے یا ان کے پیروکار وقت کی ضروریات کے حساب سے ان میں تبدیلی کے مخالف تھے اور وہ تمام نظریات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ کیونکہ کوئی شے دور کے حساب سے انسانی ضروریات اور معیار پر پورا نہ اترے تو لوگ بیزار ہوکر اسے کسی متبادل سے بدل دیتے ہیں۔

انسان طبعی طور پر تغیر پسند واقع ہوا ہے۔یہ تغیر پسندی انسانی طبیعت میں اس کے شعور کی وجہ سے ہے۔ طبعی طور پر وہ ہر دن زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتا ہے اور ہر شے کو ہر طرح سے مکمل اور نقص سے خالی دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے ہر انسانی ایجاد دن بدن بہتر سے بہتر انداز میں پیش ہو رہی ہے دور جدید میں ٹیکنالوجی کو ہی لیں۔ہر دن نت نئے موبائل فون اور ایپس آ رہے ہیں۔ اور بہتر سے بہتر انداز میں۔

یہ کلیہ ہر چیز پر لاگو ہوتی ہے چاہے وہ مادی شے ہو یا کوئی نظریہ و فلسفہ ہو۔ لہٰذا انسانی سوچ اور شعور کو دبانا انسانی طبیعت اور فطرت کے خلاف ہے یہ انسانیت پر ظلم اور انسانیت کی توہین ہے

والدین اساتذہ اور علماء کو چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں کو سوچنا اور سوال کرنا سکھائیں۔ جو نوجوان سوال اٹھائیں ان کے مدلل جواب دیں۔ لا علمی کی صورت میں کنارہ کشی کرنے کی بجائے ان کو جواب تلاش کرنے میں مدد دیں اور حوصلہ افزائی کریں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کو رحمت سمجھا جائے، جہاں علمی بحث و مباحثوں میں ہار جیت کا تصور نہ ہو بلکہ ہر دن کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ ہو۔ ایک ایسے ہی معاشرےمیں فلسفی سائنس دان اور عظیم رہنما پیدا ہوتے ہیں۔ جو اپنے کارناموں سے دنیا کو مستفید کرتے ہیں۔ اور رہتی دنیا تک اپنی قوم و ملت کا نام روشن کرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر اشفاق احمد پرکانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *