چینی اور آٹا بحران کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی: سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور مونس الہٰی نے اٹھایا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ملک میں پیدا ہونے والے آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آ گئی۔  تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق چینی بحران میں سیاسی خاندانوں نے خوب مال بنایا اور جہانگیر ترین اور خسروبختیار کے بھائی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟ اس حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کہتے ہیں کہ یقین ہے کہ کوئی بھی صورت حال ہو، عمران خان انصاف کریں گے۔

اس حوالے سے تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ 3 ارب روپے میں سے ڈھائی ارب کی سبسڈی ن لیگ کے دور میں دی گئی۔ جہانگیر خان ترین نے کہا ہے کہ جس وقت ن لیگ نے ڈھائی ارب کی سبسڈی دی اس وقت میں اپوزیشن میں تھا، میری کمپنیوں نے 12.28 فیصد چینی ایکسپورٹ کی، ایکسپورٹ پہلے آئیں، پہلے پائیں کی بنیاد پر کی گئیں۔

خیال رہے کہ جہانگیر خان ترین تحریک انصاف کے اہم رہنما سمجھے جاتے ہیں جبکہ خسرو بختیار وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور ان کے پاس وزارت تحفظ خوراک اور تحقیق کا قلمدان ہے۔ خسروبختیار کے ایک بھائی مخدوم ہاشم جواں بخت پنجاب کابینہ میں شامل ہیں اور صوبائی وزیر خزانہ ہیں۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی وفاقی وزیر اور حکومتی جماعت کے رہنما پر بحران کی ذمہ داری کا الزام لگاچکی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *