کورونا سرمایہ دارنہ معشیت کی شکست ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا کے اچانک وار کے بعد امریکہ نے اس کو چائنہ کا حیاتیاتی ہتھار گردانا اور چائنہ نے امریکہ کو لیکن سائنس نے ثابت کردیا کہ کرونا ڈی۔این۔اے نہیں بلکہ ار۔این۔اے وائرس ہے اور اس کی مصنوعی تخلیق ابھی انسان کے تصور میں نہیں ہے۔ سائنسدانوں کا یہ بھی خیال ہے ماحولیاتی آلودگی کے اثرات اس کا کارن ہیں۔ کیونکہ ماحولیاتی آلودگی سے ایسے بہت سارے جاندار جن کو کرونا اور بہت سارے دیگر وائرسز اپنا میزبان بناتے تھے اب نہیں رھے اور یہ وائرسز اب انسانوں کے شکار پر نکلے ہیں۔

منڈی اور مقابلے کی معیشت میں انسان قدرتی وسائل پر کسی بد مست ہاتھی کی مانند چڑھ دوڑے اور قدرت نے کرونا وائرس کی صورت میں اپنا انتقام لیا۔

لیکن کرونا اس نیو لبرل کیپٹل ازم کے لیے ایک دلچسپ صورت حال اختیار کر گیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے نیو لبرل سرمایہ داروں نے نے مل کر تین ٹریلین ڈالرز اس نظام کو بچانے کے لیے مختص کیے ہیں۔ صرف امریکہ میں تیس لاکھ سے اوپر لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ تیل کی قیمتیں 30 سال کی کم سطح پر آچکی ہیں. سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں۔ مختصر یہ کہ اس وقت بہت سارے کرونا مریضوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی معشیت بھی وینٹیلیٹر پر ہے۔

وبا نے یہ باور کروایا کہ ریاست کا رول چاھے وہ معشیت میں ہو یا سماجی معاملات میں کیونکر اہم ہے اور اس کی مثال چائنہ ہے جس نے بچی کچھی ریاست کے سہارے بہت جلد اس وبا پر قابو پا لیا اور لبرلز آزادی کے چکر میں اس قدر بے بس ہو گئے کہ اگر کرونا سے بچنا ہے تو منڈی خطرے میں ہے اور منڈی کو بچانا ہے تو کرونا بے قابو ہوتا جا رہا ہے۔ چائنہ نے لاک ڈاون اور ریاستی وسائل کے استعمال کی حکمت عملی کے ذریعے اس پر قابو پا لیا اور کل کے دن چائنہ میں کرونا کے ایک مریض کی تشخیص بھی نہیں ہوئی۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چائنا نے اس حکمت عملی کو کیسے کامیاب بنایا۔ ہمارا خیال ہے کہ چائنہ مکمل طور پر نیو لبرل معاشی اصولوں پر کار بند ہے جو غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے چاینہ میں اج بھی اگر کوئی پرائیویٹ کمپنی بناتا ہے تو اس میں سے کچھ شئیر قانونا گورنمنٹ کے ہوتے ہیں۔ 1980 کی دہائی کے بعد چائنہ نے اس خالص سرمایہ دارانہ نظام کو کافی حد تک لاگو کر لیا تھا لیکن 2008 کے معاشی بحران کے بعد چائنہ نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور آہستہ آہستہ سٹیٹ کے رول کو بڑھانا شروع کیا۔

چونکہ نیو لبرل معاشی نظام میں چیزوں کی پیداوار منڈی کے اصولوں پر ہوتی ہے اور منڈی کا اصول یہ ہے کہ چیزوں کی پیداوار منافع کے لیے کی جاتی ہے نہ کہ ویلفئیر کے لیے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج دنیا کی بڑی طاقتوں کے پاس بی۔52 تو ہے لیکن وینٹیلیٹر ز ،ماسکس اور دیگر ضروری سامان نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عام حالات میں غریب لوگوں کی ضرورت ہے اور غریبوں سے منافع نہیں کمایا جا سکتا۔ ان کی قوت خرید نہیں ہوتی۔

اب اس میں کچھ ترقی پزیر ممالک ایسے بھی ہیں جو اضطراب کا شکار ہیں کیونکہ وہ تو دنیا معاشی طاقتوں کے ٹرینڈ کو فالو کر رہے تھے۔ملک میں نظام کوئی اور لاگو تھا اور نعرے کچھ اور تھے۔ لیکن ان کے کیے یہ ایک اچھا موقع ہے فلاحی ریاستیں بنانے کا۔ صرف فیصلوں میں آزادی کی ضرورت ہے۔ ان میں سے اکثر ممالک ایسے ہیں جن کا کنٹرول دفاع کے نام پر اسی طاقتور نظام انٹرنیشنل اسٹیبلیشمنٹ کے پاس ہے اور ان کی مجبوری بھی کیونکہ ان کا معاشی نظام ائی۔ایم۔ایف اور دوسرے مالیاتی ادارے چلا رہے ہیں جو کمیونزم کو شکست دینے کے بعد سرمایہ دارنہ نظام کو مزید منظم کرنے کے لیے بناے گئے تھے۔

مقابلہ سخت ہے کرونا اور سرماے کا لیکن اگریہ جھٹکا نیو لبرلز معشیت برداشت کر بھی جاتی ہے تب بھی ان کو یہ سبق ضرور مل چکا ہے کہ خالص سرمایہ دارانہ نظام شاید اب قابل عمل نہیں ہے کیونکہ کل کو اگر کوئی اور وبا آجاتی ہے جس میں شرح اموات 50 فیصد ہوں اور ٹرانسمیشن کی رفتار یہی ہو تو رہی سہی کسر بھی نکل جاے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
راجہ سعود مجید خان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *