اور بھٹو امر هو گیا
مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ کا درخشاں باب 4 اپریل 1979 کو گڑھی خدا بخش میں بند کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ جس میں بظاھر سامراج کے مکھیے کامیاب بھی ہو گئے
بھٹو غریب پسے ہوئے طبقے کا ہیرو بن کر سامنے آیا، بے آوازوں کی صدا بن کر ابھرا اور قافلہٴ جمہور کا میر کارواں بن کر چلا بلا کسی غرض سے اپنے ملک کے مظلوم و محکوم عوام کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم لئے ایک ذہین وفطین سیاستدان بے رحم سامراجی قوتوں کی بھیانک منصوبہ بندی کا شکار ہوگیا تھا
شہید بھٹو سیاستدان نہیں تھا ہاں واقعی وہ ایک سیاستدان نہیں تھا کیونکہ اگر وہ سیاستدان ہوتا تو وہ سامراجی قوتوں کے بنائے ہوئے رستوں پر چلتا اور اپنی جان بچا لیتا۔ مگر نہیں بھٹو سیاستدان تو تھا ہی نہیں وہ تو درویش ملنگ مست تھا جو اپنی دھن میں غربت غلامی میں پھنسی ہوئی عوام کو دعاؤں کے ساتھ دواؤں کا سامان میسر کرتا تھا
بھٹو ایک شاعرتھا، باغی اورانقلابی تھا۔ اور سچے انقلابی مکاری اور دھوکے بازی کی روح سے واقف نہیں ہوتے، وہ دما دم مست قلندر کرنے کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کے وجود کے گرد ایک طلسم ہوتا ہے وھی جادو وہ ہالہ جو بھٹو کے گرد تھا کہ ساری خدائی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایک وہ جو اس کی موت کی خبر سن کر خود کو مار گئے تھے اور دوسرے وہ جو مٹھائیاں تقسیم کرتے تھے۔
بھٹو شہید کے جرائم کی فہرست بہت لمبی ہے مثال کے طور پر دو لخت ہوئے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک چمکتا ستارہ بنا دینا۔ دشمن کے قبضہ میں پھنسی ہوئے 93000 فوجی جوانوں کو اور 13000 مربع میل پر دشمن کے قبضے کو چھڑوا دینا۔ بے سرزمین بے آئین کو ایک متفقہ آئین دے دینا۔ مملکت اسلام میں مسلم ممالک کو ایک جگہ اکٹھا بٹھا دینا۔ مسلم دنیا میں پہلا ایٹمی پاکستان بنا دینا۔ غریب عوام کو زبان دے دینا۔ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کھڑا کر دینا بھٹو شہید کے بڑے جرائم میں شامل ہیں۔ مگر میری نظر میں بھٹو صاحب کی سب سے بڑی غلطی اس سامراج کے مُکھیوں کو للکارنا تھی۔ جس کی پاداش میں ڈالرز کے عوض بکنے والے ججز جنرلز کا کندھا استعمال کرتے ہوئے سامراج کے مُکھیوں نے غریب بے کس عوام سے ان کا محبوب چھین لیا
سامراج کے مُکھیوں نے جسمانی طور پر بھٹو صاحب کو شہید کردیا دفنا دیا مگر آج تک عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکے اور نا نکال سکیں گے
شہید بھٹو کل بھی غریب عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا اور آج بھی راج کرتا ہے۔ بھٹوصاحب شہید ہو کر امر ہوگئے اور بھٹو کے قاتل بھٹو کو شہید کرنے والے گمنام ہو گئے۔ جئے بھٹو


