پاکستان پیپلزپارٹی کے مختلف جنم

آمرانہ نظام حکومت اور عوام کے مسلسل استحصال کی خلاف بننے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا پہلا جنم 30 نومبر 1967 میں لیا۔ اور آمر ایوب خان کو سوا سال کے عرصہ میں اقتدار کی کرسی اتار پھینکا۔ اقتدار ایوب کے ہاتھ سے نکل کر نئے آمر ہمہ وقت سرور میں رہنے والے یحییٰ خان کے پاس آیا ملک میں پہلی بار عام انتخاب کروائے گئے انتخاب کے نتیجہ میں عوامی لیگ مشرقی اور پیپلز پارٹی مغربی پاکستان

Read more

پاکستان پیپلز پارٹی اور پنجاب

پاکستان پیپلز پارٹی کا پنجاب سے وہ رشتہ ہے جو ماں بیٹی کا رشتہ ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح پیپلز پارٹی پنجاب میں کہیں دکھائی نہیں دیتی اس کی ایک وجہ اگر اسٹیبلشمنٹ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں دوسری وجہ ہم خود بھی ہیں جو سوشل میڈیا پر تو مخالفین کے ساتھ ڈٹ ‏کر جواب دیتے ہیں اور ان کو کامیابی سے بھگا دیتے ہیں لیکن دوسری طرف ہمارا گراؤنڈ لیول پر دھیان بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے اکثر ہمیں اپنے ہی دوست یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے حلقے میں کیا کام کیا۔ جس کا آسان سا جواب تو یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ بھائی کام ہم نے کرنا ہے بالکل سچ ہے ‏لیکن ایک عام جیالے کے پاس وسائل بالکل نہیں وہ وسائل جو عہدے دار پارٹی سے لے رہے ہیں۔

Read more

پیپلزپارٹی پنجاب سے غائب کیوں ہو گئی؟

بھٹو خاندان کی خون جگر سے سینچی اور مسلسل 40 برس تک جمہوریت دشمن ”اصطبلشمنت“ کی تمام تر سازشوں اور جبر و کراہ کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنانے اور قائم رکھنے والی عظیم الشان ملک گیر پارٹی کی بربادی کا آغاز کب، کیسے اور کیونکر ہوا؟ جی ہاں ؛ پارٹی کی حالیہ صورتحال پر کڑھنے والے درد مند خواتین و حضرات اس سوال پر ایک دفعہ غور ضرور فرمائیں کہ کیا زرداری صاحب

Read more

دنیا، پاکستان اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو

پاکستان کی سیاست کے شب و روز سے آگاہ ہر فرد اپنے ایمان کو حاضر ناظر جان کر ضرور حقیقت پسندی کا ثبوت دے گا جب بھٹو کا نام آئے گا۔ بھٹو کی عوام دوستی اور ملکی دوستی کے کئی ثبوت ہیں۔ ہاں وہ لوگ ضرور مخالفت کریں گے جن کے دلوں پر مہریں آنکھوں پر پردہ اور کان بند ہونگے۔ ان سب حقائق کے ہوتے ہوئے مورخ بھی تو فیصلہ کر رہا ہے۔ بھٹو کے وقت کے بد ترین

Read more

پنجاب میں قدم جمانا

سن رہے ہیں کہ پنجاب میں قدم جمانے کے لئے سیٹوں کی ضرورت ہے نامی گرامی سیاست دانوں کی ضرورت ہے الیکٹیبلز کی ضرورت ہے۔ حیرت ہے بھٹو شہید کی پارٹی کو نامی گرامی الیکٹیبلز کی سیٹوں کی ضرورت تو ہے مگر ان ورکروں کی ضرورت نہی ہے جن کا اوڑھنا بچھونا پیپلز پارٹی ہوا کرتا تھا اور ہے۔ پھر سوال تو یہ بنتا ہے کہ یہ نوبت کیوں آئی۔ 2008 پنجاب میں حکومت بن سکتی تھی نہی بنائی پلیٹ میں رکھ

Read more

اور بھٹو امر هو گیا

مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تاریخ کا درخشاں باب 4 اپریل 1979 کو گڑھی خدا بخش میں بند کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ جس میں بظاھر سامراج کے مکھیے کامیاب بھی ہو گئے بھٹو غریب پسے ہوئے طبقے کا ہیرو بن کر سامنے آیا، بے آوازوں کی صدا بن کر ابھرا اور قافلہٴ جمہور کا میر کارواں بن کر چلا بلا کسی غرض سے اپنے ملک کے مظلوم و محکوم عوام کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم

Read more