کووڈ 19 کے ترقی پذیر ممالک پر معاشی اثرات – ہارورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر کی نظر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ریما حَنا ہارورڈ کینیڈی اسکول میں ساؤتھ ایسٹ ایشیاء سٹڈیز کی جیفری چیہ (Jeffery Cheah) پروفیسر اور انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایریا کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ وہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سنٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی زیرنگرانی ایویڈنس فار پالیسی ڈیزائن (EPoD) کے فیکلٹی ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دےرہی ہیں۔ اُن کی تحقیق نہایت پسماندہ اور غریب ممالک، ترقی پذیرممالک اور معاشی لحاظ سے اُبھرتے ممالک میں عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے گرد گھومتی ہے ۔ ماہرِ ڈویلپمنٹ اکنامکس کی حیثیت سے پروفیسر ریما نےحالیہ دنوں سنٹر فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے ایک ساتھ ایک نشت میں عالمی سطح پر نوول کورونا وائرس جیسے وبائی امراض کے معاشی اثرات اوراس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک میں پیدا ہونے والے مسائل کے حوالے سے چند سوالات کے جوابات یوں دیئے ۔)

سوال: نوول کورونا وائرس جیسی وبائی بیماری کا معاشی اثر کیا ہے؟ کیا یہ اثر ممالک کے لحاظ سے مختلف ہے؟

جواب: نوول کرونا وائرس کا معاشی اثر تباہ کن ہوسکتا ہے کیونکہ پیداوار، خوردہ فروشی ، تجارت اور تقریبا ہر چیز منجمدہو چکی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لئے یہ خاص طور پر تباہ کن ہوسکتا ہے کیونکہ وہاں کے شہریوں کو جس طرح کی صحت اور معاشی مدد کی ضرورت ہے جسے فراہم کرنے کی خاطر درکار فنڈز جمع کرنے کے لئے وسائل کم اور قرضے لینے کی صلاحیت بھی کم ہے اور شہریوں کو اُن کی ضرورت کے مطابق اس قسم کی مدد فراہم کرنا قرض کا خطرہ مول لینا ہے۔

خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے حوالےسے مجھے فکر ہے کہ جو لوگ یہ معاشی بدحالی برداشت کریں گے وہ وہی لوگ ہوں گے جو پہلے ہی غریب اور کمزور ہیں۔ اس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار شامل ہیں جن کے لئے ایک ہفتہ یا دو ہفتے کی آمدنی میں روکاوٹ بھی ان کے کاروبار کو ختم کر سکتی ہے۔ غیر رسمی طور پرکام کرنے والے لوگ جن کے کام میں باضابطہ تحفظ کی کمی ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے غریب بچے جو سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جو “آن لائن پڑھائی پر جانے” کے بجائے سکول جانا چھوڑ دیں گے یا والدین پر انحصار کریں گے “جواُن کو گھر پر تعلیم دیں گے” یعنی وہ بچے جو پہلے ہی سکول چھوڑنے کے خطرے سے دوچارتھے وہ واپس سکول نہیں جاسکیں گے۔

سوال: ترقی پذیر ممالک کو عوامی خدمات کی فراہمی میں کون سے عام مسائل درپیش ہیں؟

جواب : یہ وہ اہم وقت ہے جب ہمیں شہریوں کی خدمات میں اضافہ کرنے کے لئے پہلے سے کئی زیادہ حکومت کے کام کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحت کی خدمات ضروری ہیں لیکن ہمیں بڑے پیمانے پر معاشی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو عام اوقات میں بھی عوامی خدمات کی فراہمی کے لئے بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ٹیکس کی کم آمدنی سے وسائل کی فراہمی میں کمی ہوتی ہیں اوراس کے ساتھ اداروں کے اندر کے مسائل ان خدمات کی فراہمی میں روکاوٹ بن جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر یہاں امریکہ میں حکومت کے پاس معلومات موجود ہیں کہ کس کے پاس ملازمت ہے اور وہ کتنا کماتے ہیں۔ اگر کوئی اپنی ملازمت کھو بیٹھتا ہے یا بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بہت کم کماتا ہے تو مناسب مدد کے لئے نقد رقم کی منتقلی ، بے روزگاری انشورنس ، فوڈ سپورٹ ، مفت صحت انشورنس وغیرہ فراہم کرنے کے لئے حکومت کے پاس ملازمت اور اجرت کے لئے اہلیت کی حیثیت کی تصدیق کرنے کے لئے معلومات موجود ہیں۔ اصل میں انفارمیشن حاصل کرنے کا زیادہ حصہ ٹیکس سسٹم کے ذریعے بھی چلتا ہے جو “کمائی ہوئی انکم ٹیکس کریڈٹ” جیسے پروگرام مہیا کرتا ہے جس سےغریبوں کو نقد رقم فراہم کی جاتی ہے۔

تاہم ترقی پذیر ممالک میں بہت سارے لوگ مزدوری کرتے ہیں یا غیر رسمی طورپر اپنا کاروبار (یعنی اپنی زمین پر ایک چھوٹا سا کاروبار) چلاتے ہیں جس کے کوئی باقاعدہ دستاویزات موجود نہیں ہوتے۔ بہت کم افراد ٹیکس کے باضابطہ نظام میں اپنا حصہ ڈالنے کے قابل ہوتے ہیں۔ حکومت کے پاس حقیقی معلومات پر مبنی کوئی ڈیٹا بیس موجود نہیں ہوتا جسے ضرورت کے مطابق حکومت لوگوں کو مالی مدد کے لئے استعمال کرسکتی ہے ۔

سوال: COVID-19 جیسے وبائی امراض کے دوران ترقی پذیر ممالک کے لئے یہ پریشانی کیسے بڑھ جاتی ہے؟ کیا حکومتوں کے پاس قلیل مدتی طور پر خدمات کی فراہمی کے لئے کوئی فوری حل موجود ہے؟

جواب: بحران کے اوقات ترقی پذیر حکومتوں کے لئے بہت ساری پریشانیاں بڑھاتے ہیں کیونکہ بہت سارے لوگوں کو جلدی اور ایک ساتھ مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جہاں وسائل کی رکاوٹیں تیزی سے اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ پھر ایسے وقت میں یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ شہریوں سے کس طرح سے رابطہ کیا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کس نے اپنی ملازمت اور / یا کاروبار کھو دیا ہے اور کس تیزی سے مدد فراہم کی جا سکیں۔

فوری اصلاحات یعنی وسائل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے فنڈنگ باڈیز کو ایسے ممالک کے لئے مالی اعانت اور قرضوں میں اضافے کے لئے بڑے پیمانے پر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے جو صحت کی خدمات کو بڑھا دینےہیں اور اپنی معیشتوں کو تیز تر رکھنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے میں پہلی ترجیح یہ معلوم کرنا ہے کہ صحت کی خدمات کو کس طرح اور کس تیزی سے بڑھایا جائے۔ ایسا کرنے کے لئے ہر ملک کی موجودہ صورتحال پرانحصار ہوتا ہے کیونکہ مختلف ممالک میں شہری اور دیہی علاقوں کے اندر صحت کے نظام میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔

دوسری ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کیا لوگوں کے پاس کھانے کے لئے کافی مقدار میں خوراک موجود ہے اورکیا وہ اپنا کرایہ ادا کرسکتے ہیں؟ اور یہ بھی کہ کیا چھوٹے کاروبار ختم تو نہیں ہوئے وغیرہ۔ ایسے وقت میں نئے پروگرام ڈیزائن کرنے کے بجائے موجودہ سیفٹی نیٹ پروگراموں میں توسیع کرنے سے کام تیزی سے ممکن ہو سکتا ہے — (ڈونر)ایجنسیاں رقم کے مقدار میں اضافہ کرسکتی ہیں اور اہلیت کے شرائط میں سختی کم کرسکتی ہیں۔

حکومتیں COVID-19 کا مفت علاج بھی فراہم کرسکتی ہیں تاکہ جن خاندانوں کو بیماری کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ڈاکٹروں اور اسپتال میں قیام پذیری کے دوران فیس کی ادائیگی کےلئے قرض لینے میں نہ پھنس جائیں اورحکومتیں بحران کے دوران چھوٹے کاروبار میں قرضوں کی ادائیگی معطل کرنے کے لئے بینکوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہیں۔ اور ہر ملک میں زمینی حقائق کے پیش نظر حکومت عارضی طور پر یونیورسل نقد رقم کی منتقلی بھی کرسکتی ہے یا اگر کھانے کی قلت ہو تو خوراک کی تقسیم میں مدد کرسکتی ہے۔

سوال: ان حالات میں بین الاقوامی ترقی پر مرکوز ریسرچ پراجیکٹس کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟

جواب: ہم میں سے بہت لوگ بہت ساری بڑی ٹیموں کے ساتھ کام کرتے ہیں جو مختلف حکومتوں اور این جی او کے شراکت داری میں شہریوں کا سروے کرنے جیسے دیگر کام کےلئے فیلڈ میں موجود ہوتی ہیں۔ میری پہلی کوشش یہ بات یقینی بنانا تھی کہ ہماری ٹیمیں محفوظ ہوں اور ہم جہاں جہاں کام کرتے ہیں وہاں ہر ملک میں صحت عامہ کے ضوابط کی ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہماری ٹیمیں کام کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی ٹیموں کو گھر پرسے کام کرنے کے لئے کہہ دیا اورہم نے تمام فیلڈ کی سرگرمیاں بند کردیں۔

جب ہم نے یہ بات یقینی بنا دی کہ ہماری فیلڈ ٹیمیں محفوظ ہیں تو ہم یہ جاننے کے لئے تیار ہوگئے ہیں کہ ہم کس طرح سے (حکومتوں) کی مدد کرسکتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا مطلب دو اہم سرگرمیاں ہیں۔ پہلی یہ کہ سیفٹی نیٹز اور سوشل انشورنس کی ریسرچر (محقق) کی حیثیت سے میں اپنی خدمات حکومتوں کی مدد کے لئے استعمال کرسکتی ہوں جن کو معاشی بدحالی کے دوران ان پروگراموں کو بڑھانے کے لئے مشورے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ دوسری یہ کہ ہماری تحقیقی ٹیم اس بات کا تعین کررہی ہے کہ ہم معاشی عوامل سے متعلق حقیقی معلومات کس طرح اکٹھا کرسکتے ہیں جیسے کہ ملازمت میں کمی ، کام کے اوقات میں کمی ، خوراک کا عدم تحفظ — جو حکومتوں کو ثبوت سے آگاہ پالیسیاں ((evidence based policies بنانے میں مدد کرسکتی ہیں تاکہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات میں شہریوں کو صحیح وسائل اور خدمات مہیا کر سکے۔

Rema Hanna
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *