کرونا کے دنوں میں فراڈیوں کی عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانی چونکہ دنیا کی ذہین ترین قوم ہیں اس لیے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے فائدے کے لیے مواقع پیدا کر لیتے ہیں۔ اب یہی دیکھیں کہ دنیا سہمی جا رہی ہے کہ کرونا کی وجہ سے معیشت تباہ و برباد ہو جائے گی اور لوگوں کی آمدنی کے ذرائع ختم ہو جائیں گے، اور ہم نے اس وبا کو ہی چار پیسے بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اسلام آباد سے کرونا کے نام پر فراڈ کی دو خبریں ملی ہیں۔

ایک گروہ نے اپنا نمبر مشتہر کیا ہوا ہے کہ جسے راشن چاہیے اس نمبر پر فون کرے اور مفت راشن لے۔ ضرورت مند فون کرتے ہیں تو وہ لمبی چوڑی لسٹ بتاتے ہیں کہ یہ دیں گے وہ دیں گے۔ آٹھ دس ہزار کا راشن انگلیوں پر گنا دیتے ہیں اور فون کرنے والے کا دل تسلی پاتا ہے اور شکرگزاری کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں کہ راشن بالکل مفت ہے لیکن اسے بھیجنے کے لیے کورئیر کا خرچہ (بلٹی) آپ کو دینا ہو گا، اس لیے ایک ہزار روپے ایزی پیسہ کر دیں۔ لوگ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد نا راشن کا کچھ پتہ چلتا ہے نا ہزار روپلی کی کوئی خبر ملتی ہے۔

ایک دوسری پارٹی خود راشن نہیں دیتی، یوٹیلٹی سٹور سے دلواتی ہے۔ وہ ڈھائی ڈھائی سو روپے کے ٹوکن بیچ رہی ہے جسے یوٹیلٹی سٹور پر دکھا کر راشن لیا جا سکتا ہے۔ جب غریب ٹوکن لے کر یوٹیلٹی سٹور پر جاتا ہے تو اسے راشن نہیں ملتا، سرپرائز ملتا ہے کہ وہ لٹ گیا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ یہ تو نہایت ہی شقی القلب لوگ ہیں جو وبا کے ستائے ہوئے غریبوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ایک نہایت پڑھے لکھے ڈاکٹر صاحب ایسا نہیں کرتے۔ پچھلے دنوں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ اپنے کلینک کا نمبر بتاتے ہوئے لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ کرونا سے نجات پانی ہے تو اپوائنٹ منٹ لیں اور علاج کروانے پہنچ جائیں۔ وائرل ویڈیو میں وہ کچھ یوں کہتے ہیں :

حاجی سرور صاحب ایڈوائس پر عمل کرتے ہوئے سٹیم لے رہے ہیں۔ ہم نے بہت واجبی دام رکھے ہیں اور پانچ منٹ کے سیشن کے ہزار روپے چارج کر رہے ہیں۔ یہ سٹیمر جو آپ دیکھ رہے ہیں ٹاپ کا سٹیمر ہے جو جرمنی سے لیا گیا ہے۔ اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بھاپ کو عین اسی جگہ پہنچاتا ہے جہاں یہ وائرس قیام کرتے ہیں۔ حاجی صاحب نے ہزار روپے جمع کروائے ہیں اور سٹیم لے رہے ہیں۔ تو آپ سب لوگوں سے بھی درخواست ہے کہ فوری طور پر اپوائنٹمنٹ بک کرائیں۔ آ کر بھاپ لیں اور کرونا کو بھگائیں۔

اس بات کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے کہ وہ بیوٹی پارلر میں استعمال ہونے والا فیشل سٹیمر ایسے انوکھے انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اس کی بھاپ ناک کی سیدھ میں ماری جائے تو سیدھی اس جگہ پہنچتی ہے جہاں کرونا وائرس قیام کرتے ہیں اور انہیں جلا کر خاک کر دیتی ہے۔ ہمارا گمان تو یہی ہے کہ یہ مہلک وائرس ناک میں ہی قیام کرتا ہو گا۔ کوئی موجدین کی قدر کرنے والا ملک ہوتا تو کرونا کا ایسا زبردست علاج ایجاد کرنے پر انہیں اپنے سب سے بڑے سویلین اعزاز سے نوازتا اور نوبل کمیٹی والے تعصب سے کام نا لیتے تو اس برس کا نوبل انہیں کے نام کرتے۔ وائے افسوس کہ ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے پولیس نے ان سے وائرس کا یہ کیڑا مارنے کا طریقہ سمجھنے کے لیے انہیں بلا لیا۔

غالباً انہیں فارماسوٹیکل کمپنیوں کے عالمی مافیا کے اشارے پر ڈرایا دھمکایا گیا ہو گا جو ایک ڈیڑھ برس بعد کرونا کا علاج دریافت کر کے لمبے نوٹ کمانے کے چکر میں ہے اور بیوٹی پارلر کے فیشل سٹیمر سے وائرس مارنے کا سستا طریقہ اسے اربوں کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچا دے گا۔ بہرحال سبب جو بھی ہو اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی ایک نئی ویڈیو سامنے آ گئی۔ اس میں وہ کچھ یوں فرماتے ہیں :

ایک ویڈیو جو وائرل ہو رہی ہے وہ بڑی مس انڈرسٹینڈنگ ہے۔ یہاں میرے ایک کزن سجاد صاحب نے سٹیم کی کچھ بات کی۔ دوسرے میرے کزن ہیں حاجی سرور صاحب ان کی ایک کلپ ہم نے اپنے فیملی گروپ میں شیئر کی ہے۔ یہ میری فیملی کا گروپ ہے اور حاجی سرور صاحب بھی میرے کزن ہیں۔ یہ سب مذاق ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں ہے اور نا ہی یہاں ہم نیبولائزر کی ایسی کچھ فیس لے رہے ہیں۔ ہم تو یہاں پر فی سبیل اللہ وہ سارے کام کر رہے ہیں جو ہم بتانا نہیں چاہتے۔ میں آپ سب دوستوں سے گزارش کروں گا کہ اس نیگیٹو پروپیگنڈے کو بند کریں بجائے اس کے کہ آپ غلط چیزوں کو پھیلائیں۔ یہ ایک مذاق ہے اور اسے مذاق میں ہی رہنے دیں اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اور نا اس قسم کی کوئی موو ہے کہ ہم اس میں سے کوئی پیسہ بنائیں۔ یہ پیور فیملی گروپ کی بات تھی جو غلط طریقے سے کنوے ہو گئی ہے۔ بہرحال اس سے کسی کا دل دکھا ہے تو میں اس کے لیے شدید معذرت خواہ ہوں۔

ہم ان ڈاکٹر صاحب کو اس بھاپ سے کرونا مارنے کا طریقہ ایجاد کرنے پر مبارک باد دیتے ہیں اور ان کے جذبے کی داد دیتے ہیں کہ وہ بہت سارے فلاحی کام فی سبیل اللہ کر رہے ہیں جو اپنی طبعی انکساری کی وجہ سے کسی کو بتانا بھی نہیں چاہتے۔ انہوں نے واضح کر دیا ہے کہ فیملی گروپ میں اپنے ہسپتال کا نمبر مشتہر کر کے عوام کو اپوائنٹ منٹ لے کر بھاپ لینے کی درخواست کرنا ان کا خاندانی مذاق ہے تو اس نیگٹیو پروپیگنڈے کو بند کیا جائے۔ نیز ہم ان فراڈیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں جو کرونا کی وبا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب عوام کو لالچ یا ڈراوا دے کر لوٹنے کا دھندا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1270 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *