فرصتِ بے لذت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت گزارنا یا اس کی تقسیمِ کار، ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اپنے ارد گرد عموما ہم دو طرح کے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ ایک وہ، جن سے وقت، کاٹے نہیں کٹتا اور دوسرے وہ، جن کے پاس وقت کی قلت ہے۔ فی زمانہ ہم، آپ جن معاشروں میں رہتے ہیں، وہاں مصروفیت کا رونا عام ہے۔ ملازمتیں، تیز رفتار زندگیاں، سماجی اور معاشرتی سرگرمیاں، سر اٹھانے کی فرصت نہیں دیتیں۔ وہ خواتین، جو مسلسل، گھر اور دفاتر میں مصروف رہتی ہیں۔ چھٹیوں کے لیے ترستی رہتی ہیں۔

ہر چھٹیوں میں بے شمار منصوبے بنائے جاتے ہیں، جن میں بچوں اور گھر پہ بھرپور توجہ دینا، الماریوں کو درست کرنا، تفصیلی صفائی، اپنی گم شدہ نیندوں کو پورا کرنا وغیرہ تو عمومی طور پر شامل ہوتے ہی ہیں۔ اسی افراتفری میں اگر سماجی ذمہ داریاں آ جاتیں تو وہ ایک الگ وبال ہوتا۔ شادی، غمی، سال گرہ وغیرہ کی تقاریب سے بچنے کے لیے بسا اوقات تو فون ہی نہیں اٹھائے جاتے، کیونکہ اپنے مقررہ فرائض میں سے یہ وقت فالتو خرچ کرنا کسی کو نہیں بھاتا۔

کچھ عرصہ پہلے تک تو یہ حسرت ہی رہتی تھی کہ صبح الارم کی گھنٹی نہ بجے، اوقاتِ کار کی پابندی سے کبھی جان چھوٹ بھی جائے۔ کیا روزانہ صبح تیار ہونا ضروری ہے۔ انسان بغیر استری کے جھنجھٹ کے بھی تو زندہ رہے۔ کاش کہیں نہ جانا ہو اور ہم مزے کی نیندوں کے مزے لے سکیں۔ یہ خواہش ہر اس بچے کے دل میں جنم لیتی ہے، جسے اسکول میں داخل کرایا جاتا یے اور پھر چھٹی کے خواب دیکھنا، تب تک اس کا حق ہوتا ہے، جب تک وہ زندگی کے اسکول سے فارغ التحصیل نہیں ہو جاتا۔

سو، فروری کے آخر تک ہم ہر فارغ انسان کو رشک کی آنکھ سے دیکھا کرتے تھے۔ اور خیالی منصوبے بنایا کرتے تھے کہ کبھی ریٹائر ہو کر ہم بھی فراغت کے دن دیکھیں گے۔ خوب کتابیں پڑھیں گے، اپنی نامکمل کتابوں کو مکمل کریں گے، جن رشتہ داروں سے ملے مدت ہوئی، ان سے لمبی لمبی گپ شپ کریں گے۔ ہم ان سب لوگوں کو رشک کی نظر سے دیکھتے تھے، جنہیں یہ تمام نعمتیں میسر تھیں، ہمارے لیے فرصت کا خیال ہی محال تھا۔ اور یہی صورت ہمارے کروڑوں، اربوں ساتھیوں کی دنیا بھر میں دیکھنے کو ملتی رہی۔

یکم مارچ کے بعد، گویا زندگی پلٹ سی گئی۔ تعلیمی ادارے بند ہوئے، چھٹیوں کی سرشاری سے بھرپور نعرے بھی سننے میں آئے۔ نا عاقبت اندیشوں نے تو سیرو تفریح کی غرض سے بکنگ کرانے کی بھی ٹھان لی۔ ساتھ ہی کچھ تشویش ناک خبریں بھی گردش کرنے لگیں اور کرونا کی وبا نے دیکھتے ہی دیکھتے ہر جگہ اپنے پنجے گاڑ لیے۔

ایک ماہ، اس فرصت میں گزارنے کے بعد ہر دن بے کیف اور ہر رات بے چینی کی حالت میں کٹتی ہے۔ فرصت بھی ہے، سونے کے لیے وقت بھی، مگر نیند کی دیوی مہربان نہیں ہوتی۔ ایک نادیدہ خوف ہر لمحہ اپنی گرفت میں لیے رکھتا ہے۔ مزے مزے کے کھانے پکانے کی فرصت میسر ہے، مگر خواہش کہیں مر سی گئی ہے۔ کئی تصنیفی منصوبے نامکمل ہیں، مگر یک سوئی عنقا ہے۔ دنیا جہاں کی آسائشیں ارد گرد ہیں مگر نظر دنیا کی بے ثباتی پہ رہتی ہے۔ جن اقارب سے ملنے کی کبھی فرصت نہیں تھی، اب جی چاہتا ہے کہ ایک مرتبہ ان سے ملنے کا موقع ملے۔ کوئی لفظ، کوئی خیال، پل بھر کو نہیں ٹک رہا۔ موت کی چاپ سنائی دے بھی رہی ہے اور کان بند بھی ہیں۔ اذانوں کی آوازیں بھی بلند ہو رہی ہیں، لیکن میڈیا کے شور میں ہمیں فرصت نہیں مل رہی کہ ان پر توجہ دے سکیں۔

صاحبو۔ زندگی میں ملنے والی یہ پہلی فرصت ہے جو گمبھیر سناٹوں میں گھری ہوئی ہے، خوف، بے بسی، تکلیف، آپ اسے کچھ بھی کہیے۔ ہم سب اس کا شکار ہیں۔ یہ وہ گناہِ بے لذت ہے، جس کی تمام عمر خواہش رکھنے کے باوجود، ہر شخص اس سے چھٹکارا چاہتا ہے۔ پوری دنیا میں کسی کو ایسی فرصت درکار نہیں، جس میں وہ محصور ہو۔ اس سے قبل کشمیر، افغانستان، شام یا فلسطین میں محصور افراد کا محض تذکرہ کیا جاتا رہا ہے، اب تو دنیا بھر میں اس محصوری نے اپنی حکمرانی تسلیم کرا لی ہے۔ کرونا سے نجات پانے کے بعد، زندگی کی خواہش کے علاوہ“ ہر انسان اگر اپنے لیے کچھ مانگے گا تو وہ صرف مصروفیت ہو گی۔ کسی کو ایسی فرصتِ بے لذت نہیں چاہییے جو موت کو اپنے جلو میں لے کر آئے۔
اللہ سب کو محفوظ رکھے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *