حالتِ جنگ، کرونا اور ملکی معیشت سے لڑنا!
اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں پھیلے کورونا وائرس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین بحران قرار دے دیا ہے۔ درحقیقت یہ کروناوائرس ہے کیا؟ اگرچہ اس کی علامات کے مطابق یہ بخار سے شروع ہوتا ہے پھر خشک کھانسی آتی ہے۔ ایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق انفیکشن کے لاحق ہونے سے لے کر علامات ظاہر ہونے تک کا عرصہ 14 دنوں پر محیط ہے۔ لیکن کچھ محققین کا کہنا ہے کہ یہ 24 دن تک بھی ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات بہت کم ہیں۔
اب تک پوری دنیامیں اس کے 1079978 کیسز رپوٹ ہوئے، جس میں 58110 افراد لقمہ اجل بنے اور 227668 افراد صحتیاب ہوئے۔ جبکہ پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 5 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 40 تک جاپہنچی ہے جب کہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2583 ہوگئی ہے۔ آزادکشمیر میں مصدقہ کیسز کی تعداد 09، شہر اقتدار اسلام آباد میں 68، بلوچستان 175، گلگت بلتستان 193، خیرپختونخوا 343، سندھ 783 اور 1012 کیسز کے ساتھ پنجاب سرِفہرست ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بعد ملک بھر میں 23 مارچ سے لاک ڈاؤن جاری ہے جس میں 14 اپریل تک توسیع کردی گئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہواجب ریاست کے حکم پر کاروبار 22 دن کے لیے بند کردیا گیا۔ حکومت کے ان سخت اقدامات کی وجہ سے روزمرہ اور دیہاڑی دار مزدور کے ساتھ ساتھ کاروبار سے وابستہ ملازم اور مالکان سب کے سب متاثر ہورہے ہیں اور کاروبار سے منسلک مقامی سپلائی چین پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی معیشت ایک اور زوال کے دہانے پر کھڑی ہے۔ 2008 ء میں آنے والے عالمی معاشی بحران سے بھی زیادہ ہے اور دنیا سخت معاشی مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے کیونکہ ایک طرف وائر س کے خوف سے عالمی تجارت رک گئی ہے جبکہ دوسری جانب پوری دنیا میں سیاحت متاثر ہوئی ہے جو کہ اربوں ڈالر سالانہ کی انڈسٹری ہے۔
اگرچہ اسپرین استعمال سے ہر مہینے 250 افراد جان سے جاتے ہیں، سرجری، غلط ادویات اور میڈیکل کے شعبہ سے منسلک افراد کی غلطی سے ہر مہینے 20 ہزار لوگ مرتے ہیں، فلو سے ہر مہینے 39 ہزار لوگ، HIV، سے ہر مہینے 49 ہزار، روڈ ایکسیڈنٹ سے 90 ہزار اور ہارٹ اٹیک سمیت دل کی بیماریوں سے ہر ماہ دو ملین لوگ ابدی نیند سو جاتے ہیں۔ کورونا وائرس کا خوف یقینی طور پر ذہنی دباؤ کو جنم دے رہا ہے۔ اس مرض سے ہونی والی معاشی بدحالی اس غریب طبقے کی جان لے رہی ہے جو اس لاک ڈاؤن سے دو وقت کی روٹی کمانے سے بھی گیا۔ اس وقت ہر امیر اور غریب اس معاشی بدحالی سے پریشان ہے۔ یہی صورتحال رہی تو ملکی خزانہ جو پہلے ہی بیرونی امداد سے چلتا ہے مکمل طور پر ان کی بھیگ پر آپہنچے گا۔ جب ریاست کے پاس ہی دینے کو کچھ نا رہا تو ہم تو دوسروں کی غلام ہو کر رہ جائیں گے۔
یوں لگتا ہے جیسے کشمیریوں پر تو سرِعام تشدد کرکے انہیں اپنا غلام بنانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے یہاں ہمیں آہستہ آہستہ غربت کا زہر دے کر مارا جارہا ہے اور پھر جو بچ جائیں انہیں اپنا غلام بنا لیا جائے گا۔ وزیراعظم صاحب نے بالکل درست کہا ہمیں گھبرانا نہیں ہے بلکہ اس وقت سے ڈرنا ہے جب ہم ان نہج پر پہنچ جائیں گے کہ جب ہمیں بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے گا۔ جو کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے لگا کر ووٹ لیا کرتے تھے، ہمیں دینے کے لئے ان کے پاس دو وقت کی روٹی بھی نہیں ہوگی۔
جس کا عملی نمونہ دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف کے نام پر دینے والا چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام ہے۔ جس میں زکوۃ کے مستحق ایک لاکھ 70 ہزار خاندانوں کی امداد کے لئے 87 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ چیف منسٹر انصاف امداد پروگرام کے لئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ 25 لاکھ مستحق خاندانوں کو 4 ہزار روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ وزیر اعلی پنجاب انصاف امداد پروگرام کا تمام نظام آن لائن ہے، درخواست دینے والوں کے کوائف کی تصدیق کی جائے گی اور لاکھوں لوگوں کو تصدیق کے بعد یہ امداد فوری طور پر دی جائے گی۔
درخواست گزاروں کو کسی دفتر میں نہیں آنا پڑے گا۔ آن لائن صرف نام، شناختی کارڈ نمبر اور موبائل فون نمبر کی معلومات لی جائیں گی۔ مالی امداد کی ادائیگی بھی آن لائن ہی ہو گی اوردرخواست گزار شکایات بھی آن لائن درج کرا سکیں گے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایک دیہاڑی دار مزدور اتنا پڑھا لکھا اور باشعور ہوگا جو اس تمام آن لائن پروسیجر کو فالو کرسکے؟ اور پھراسی حکومت کی مرہونِ منت جو مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اس میں ان 4 ہزار میں آئے گا کیا؟
2 سے 3 افراد پر مشتمل ایک گھر کے راشن کا اوسطاً خرچہ ہی تقریباً 12 ہزارروپے بنتا ہے تو کہاں 4 ہزار اور کہاں 12 ہزار اور پھر وہ 4 ہزار لینے کے لئے بھی آپ کے پاس آن لائن تمام سہولیات موجود ہوں، گھر پر کھانے کو روٹی ہونا ہو نیٹ ضرور ہونا چاہیے، پھر ایک مہنگا نا بھی صحیح 10 ہزار تک کا ایک موبائل فون ہو جس پر آپ آن لائن اپنی درخواست جمع کروا سکیں، چلیں یہ بھی نہیں تو چلو ایک عدد کمپیوٹر تو ہو نا بھئی کیونکہ مارکیٹ تو بند ہیں آپ پھر درخواست کہاں سے جمع کروائیں گے؟ مطلب صاف ظاہر ہے کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ دینا ہے لیکن وہ بھی اس کی گردن کاٹ کر اور تو کوئی راستہ نظر دکھائی نہیں دے رہا۔
اگر آپ کو اپنی اور اپنوں کی زندگی پیاری ہے تو حقیقت جان کر جیو، زندہ رہناہے اور بہتر زندگی گزارنی ہے تو ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں جو آپ کو آنے والے بدتر حالات سے بچاسکتی ہیں۔ بلاشبہ لاک ڈاؤن کوئی بہتر حل نہیں اس سے تباہی ہی تباہی ہے لیکن اس حکومت کے پاس اور کوئی حل بھی نہیں۔ گھر بیٹھ کر ذراسوچئے کہ ہم کس طرح خود ان حالات سے نکال سکتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل فراہم کرسکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مشکل وقت سے لڑنے کی توفیق عطافرمائے اور جلد از جلد اس مشکل گھڑی سے نکالے۔ آمین


