عدت کا حصار

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں کوئی نہ کوئی ایسی حکمت پوشیدہ ہے، جس تک انسان کی نظر نہیں جا سکتی۔ وہ اصول، جو قرآن و سنت کی رو سے طے شدہ ہیں، انہیں سنجیدگی سے جاننے کی ضرورت ہے۔ روزمرہ زندگیوں میں ہم نے بہت سے معاملات یہ کہہ کر چھوڑ رکھے ہیں کہ جب ضرورت پڑے تو کسی سے پوچھ لیں گے۔ یا پھر دیکھا دیکھی اپنا لیتے ہیں اور معاشرے میں

Read more

پاکستانی ڈرامہ اور بے عمل نسوانی کردار

پاکستانی ڈرامہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1964 ء میں پی ٹی وی کے قیام کے بعد پہلا ڈرامہ نذرانہ کے نام سے پیش کیا گیا تھا، جس میں نمایاں اداکار محمد قوی خان اور اور کنول نصیر تھے۔ اس کی ڈائریکشن فضل کمال نے کی۔ جس کے بعد ڈراموں کے ایک طویل سلسلے کا آغاز ہوا۔ یہ ڈرامے نہ صرف پاکستان بلکہ بر صغیر پاک و ہند میں یکساں مقبولیت رکھتے تھے۔ ان میں سے چند ڈراموں کے نام

Read more

جادو کی کھڑکی

زندگی میں بعض واقعات، ملاقاتیں اور حادثات دفعتا رونما ہوتے اور ہم پر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں کہ بعد میں ہم سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یہ کب اور کہاں کی بات ہے۔ ہمیں یاد تو کچھ نہیں آتا البتہ اس کے اثرات ہم میں اس طرح سرایت کر جاتے ہیں کہ بقیہ زندگی میں ہم انہیں خود سے جدا نہیں کر سکتے۔ نعیم فاطمہ علوی سے ملاقات بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ جس کے بارے میں تیقن

Read more

کک کک کھٹاک پٹاک – قصہ ایک باورچی کا

شادی کا کچن سے گہرا تعلق کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ رشتہ دیکھنے کا آغاز ہی اسی سوال سے ہوتا ہے کہ لڑکی کچھ پکا سکتی ہے یا نہیں۔ لڑکا اور اس کے گھر والے اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ شادی ہوتے ہی نئی دلن کچن سنبھالے اور ان کی ذمہ داری ختم ہو۔ ابتدا میں تو دلہن بیگم بڑے چاؤ سے اور شوق سے یہ ذمہ داری سنبھالتی اور تعریفیں وصول کرتی ہے۔ لڑکے کو خاص طور پر

Read more

فلم کملی

پاکستانی سینما کی کہانی خاصی پرانی ہے۔ 1930 میں پہلی فلم، حسن کا ڈاکو، سے جس سفر کا آغاز ہوا، اس میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی اور لاہور سینما کے حوالے سے بڑے مراکز کے طور پر جانے جاتے رہے۔ اسی دوران اسے نہ صرف ایک انڈسٹری کا درجہ ملا بلکہ لالی وڈ کا نک نیم بھی ملا۔ عروج کے اس دور میں پاکستانی کلچر کی ایک شناخت پاکستانی سینما بھی تھی اور اس کا

Read more

زندگی اے زندگی

زندگی کی سب سے بڑی نعمت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے نکلیں تو شاید بات بہت دور تک نکل جائے گی۔ تمام زندگی ہم ایک لایعنی جدوجہد میں گزار دیتے ہیں اور اپنے آس پاس ہر طرح کی نعمتیں، آسانیاں جمع کرنے میں زندگی تج دینے کو ہر لمحہ تیار ہوتے ہیں۔ لمحہ بہ لمحہ یہ جدوجہد تیز سے تیز تر ہو رہی ہے۔ آئیے آج کی تحریر میں اپنی اپنی زندگیوں کو آج کل کے تناظر میں

Read more

ابھی ہمیں باہر نہیں جانا

کرونا وائرس کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی کہاں ہے۔ 23 مارچ 2020 کے بعد لگ رہا تھا کہ زندگی تھم گئی ہے، ہم کہیں رک گئے ہیں، لیکن آج سوچیے تو دو ماہ گویا پلک جھپکتے میں گزر گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک تحریر، ہم کیوں بند ہیں، کے عنوان سے تحریر کی تھی۔ جس میں ایک بچے کی تمثیل پیش کی گئی تھی، جو کسی غلطی، شکایت یا نافرمانی کی سزا کے طور پر کمرے میں بند کر دیا

Read more

تعلیم کے وائرس کی بات

تدریس کے شعبے سے منسلک ہونا خوشی اور تفاخر کا باعث ہوتا ہے۔ اس پیشے کو جتنی اہمیت دی جاتی ہے، یہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا متقاضی ہے۔ مخصوص حالات میں تو طلبہ و طالبات، اساتذہ اور تعلیمی اداروں سے منسلک تمام افراد ایک خاص منظم زندگی گزارتے ہیں۔ البتہ جہاں غیر معمولی حالات سامنے آ جائیں، وہاں روزمرہ روٹین سے ہٹنا پریشان کن ہو جاتا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے کرونا وائرس سے جو معمولات متاثر ہوئے ہیں، ان میں تدریسی عمل سر فہرست ہے۔ کرونا کی خبر پھیلنے کے بعد سب سے پہلے جو ادارے بند کیے گئے تھے، وہ تدریس سے متعلق ہی تھے۔ اور اعلان ایسے وقت میں کیا گیا، جب سالانہ امتحانات سر پر تھے۔ لہذا طلبہ و طالبات، والدین اور اساتذہ کا تشویش میں مبتلا ہونا لازمی امر تھا۔

فروری، مارچ سے اب تک اس ضمن میں جن اعلانات کا انتظار کیا جا رہا تھا، وہ آج وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت

Read more

محترمہ صدیقہ انور کی یادیں

تعلق، ایک چھوٹا سا لفظ سے لیکن کبھی کبھی یہ اتنا جامع ہو جاتا ہے کہ اس کی تشریح کئی صفحات کالے کرنے سے بھی نہیں ممکن نہیں ہوتی۔ آج کی تحریر بھی ایک ایسے ہی تعلق پر مبنی ہے۔ دو روز قبل معروف ادیب و شاعر جناب انور مسعود کی اہلیہ محترمہ صدیقہ انور کا انتقال ہوا۔ ان کے اچانک انتقال پر ہر طرف نہ صرف افسوس کا اظہار کیا گیا، بلکہ دعاؤں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ وہ

Read more

ہم کیوں بند ہیں؟

کرونا کی وبا نے پوری دنیا کو گھروں میں بند ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہر ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کی غرض سے کوششوں میں مصروف ہے، کچھ افراد کو زبردستی اندر دھکیلا جا رہا ہے اور کچھ خوف کے باعث چھپے بیٹھے ہیں۔ ہر روز، ہر جگہ یہی سوال سامنے ہے کہ کس جگہ اور کتنے لوگ اس وبا کا شکار ہو رہے ہیں۔ خوف کے ساتھ ساتھ ایک سوال یہ بھی ہے اور میڈیا کے علاوہ

Read more

فرصتِ بے لذت

وقت گزارنا یا اس کی تقسیمِ کار، ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اپنے ارد گرد عموما ہم دو طرح کے لوگوں کو دیکھتے ہیں۔ ایک وہ، جن سے وقت، کاٹے نہیں کٹتا اور دوسرے وہ، جن کے پاس وقت کی قلت ہے۔ فی زمانہ ہم، آپ جن معاشروں میں رہتے ہیں، وہاں مصروفیت کا رونا عام ہے۔ ملازمتیں، تیز رفتار زندگیاں، سماجی اور معاشرتی سرگرمیاں، سر اٹھانے کی فرصت نہیں دیتیں۔ وہ خواتین، جو مسلسل، گھر اور دفاتر

Read more

نئی نسل کا نصاب اور استاد کی بے بسی

اس مضمون سے یہ ہر گز مراد نہ لی جائے کہ کسی لبرل خاتون کا اس قسم کا پروپیگنڈا ہے، جسے موم بتی مافیا وغیرہ کہا جاتا ہے۔ بلکہ یہ سراسر ایک تعلیمی اور نصابی نظام کے بارے میں سوچنے کی ایک کاوش ہے۔ تعلیم کے شعبے سے طویل وابستگی کے باعث اکثر اپنی بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ درج ذیل تصویر، جو میرے بیٹے نے مجھے بھیجی اور ساتھ ہی یہ سوال بھی لکھ بھیجا کہ بہ حیثیت،

Read more