کرونا اور ایک سرکاری دفتر کی پریشانیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں صبح سویرے اُٹھ کر تیار ہو رہا تھا کہ ثانیا کی آنکھ کھل گئی اور وہ حیرت کے تاثرات کے ساتھ تیوری پر بل لاتے ہوئے پوچھنے لگی، ”اجی اتنی صبح کہاں جا رہے ہو تیار ہو کے؟ “ معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے میں نے جواب دیا، ”آفس جا رہا ہوں بیگم صاحبہ“ تو پھر سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو گئی، ”ہر دفعہ تو اتنی جلدی نہیں جاتے؟ اور 15 دن پہلے ہی تو گئے تھے، ابھی مہینہ پورا بھی نہیں ہوا۔ “

”ہاں، بتانا بھول گیا تھا، معظم صاحب کا فون آیا تھا رات کو، آنے کی گزارش کر رہے تھے، میں نے بھی سوچا کہ بھئی اتنے دنوں سے باہر نہیں نکلا، تازہ دم ہو کر آ جاؤں گا۔ “ یوں کہہ کر اس کو ماتھے پہ بوسا دیا اور گاڑی کی چابیاں لیتے ہوئے گھر سے نکلا۔ گاڑی پر نظر پڑتے ہی خیال آیا، ”3 سال پہلے کا ماڈل ہے، کیا مصیبت ہے کہ اب بڑی گاڑی رکھنے میں بھی خطرہ! لعنت ہو اس نیب پر کہ جس نے جینا حرام کر دیا ہے۔ “

خیر، دفتر پہنچا تو صاحب نے اٹھ کر استقبال کیا، اور کرتے بھی کیسے نہیں؟ ہماری ہی سیاسی سپورٹ کی بنیاد پر تو اس دفتر میں ٹکے رہے ہیں۔ مکاری، عیاری، منافقت اور سیاسی چال بازیوں پہ تو چلتی ہے ہماری یہ چھوٹی سی دنیا۔

میں عموماً مہینے میں ایک بار دفتر کا چکر لگاتا ہوں۔ دستخط کر کے اور کمیشن لے کر واپس چلا آتا ہوں۔ الیکشن کے ٹائم پر معظم صاحب سے 10 کروڑ بھی لینے ہوتے ہیں پارٹی فنڈ کے نام پر اور کبھی کوئی جلسہ وغیرہ ہو تو گاڑیوں اور لنگر کا خرچہ دینا تو ان کے فرائض میں شامل ہے۔ ہم اگر یہ سی ایس ایس کا امتحان دے پاتے تو یہ سیٹ ہماری تھی پر کہاں پڑھائی لکھائی اور کہاں ہم؟ ہم سے نہ ہوئے یہ کام۔

خیر آفس میں حاجی اکرام پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے، وہ بھی احترام کے ساتھ جھک کر ملے۔ میری خبر سنتے ہی خادم حسین، حافظ نعمان اور بشیر چچا بھی معظم صاحب کی آفس میں آ گئے۔ صاحب خاصے پریشان جبکہ حاجی اکرام، حافظ نعمان اور خادم حسین بھی غم و غصّے کی حالت میں نظر آئے۔ بشیر چچا کو صاحب نے چائے لانے کے لیے کہا اور یوں بات شروع کی، ”بھئی سی ایم صاحب نے کل سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ لعنت ہو چائنہ والوں پر، پتہ نہیں کیا کھاتے رہتے ہیں اور ہماری جان کا عذاب بنا دیا ہے۔

اب آپ ہی بتائیں اگر آفس بند رہے گا تو کمیشن کیسے ملے گا؟ پھر اوپر سے الیکشن بھی آ رہے ہیں تو پارٹی فنڈ کا انتظام بھی تو کرنا ہے۔ “ ابھی معظم صاحب چپ ہوئے ہی تھے تو حاجی صاحب کسی لاوے کی طرح پھٹ پڑے، ”بھائی 45 سال کا ہونے کو آیا ہوں، گیارہ سال سے مسلسل حج پر جا رہا ہوں لیکن ایسی حالت تو نہ دیکھی نہ سنی۔ کعبے کو ہی بند کردیا ہے، اس سال تو حافظ صاحب بھی ساتھ چلنے کو تیار تھے۔ “ یہ کہہ کر انھوں نے حافظ صاحب کو دیکھا اور حافظ صاحب بھرائی ہوئی آواز میں بولنے لگے، ”جناب 2 سال تو لگ گئے اپنی جگہ بنوانے میں، اس سے فارغ ہوا ہی تھا تو نیب لے گئی۔

“ معظم صاحب نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا: ”آپ کو بھی ضرورت تھی نا محل بنوانے کی؟ لوگ تو یہی سوچیں گے نہ کہ ایک کلرک کو کون سا قارون کا خزانہ ہاتھ لگا کہ راتوں رات کچی بستی چھوڑ کر یہ محل بنوایا، اور وہ بھی ڈیفنس میں، ہونہہ، خود بھی مرتے اور ہمیں بھی مرواتے۔ “ میری طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید بولے، ”ان کو ہی دیکھیں ذرا، اللہ پاک کے فضل و کرم سے کیا نہیں ان کے پاس؟ لیکن پھر بھی اسی مکان میں رہتے ہیں کہ جس میں 15 سال پہلے رہتے تھے اور گاڑی بھی صرف کرولا ہی رکھی ہوئی ہے۔

“ تب تک چائے آ چکی تھی، ہم سب چائے پینے لگے تو خادم حسین کسی شکست خوردہ سپاہی کی طرح بول اٹھے، ”کیا بتاؤں صاحب! پچھلے ایک سال کے کمیشن کو ہاتھ ہی نہیں لگایا کہ زیارتوں پر جاؤں گا پوری فیملی کے ساتھ، امی ابا بھائی بہنوں بیوی بچوں کے پاسپورٹ بھی بنوا لیے تھے حتیٰ کہ ایران کا ویزہ بھی لگ گیا تھا بس عراق اور شام کا ویزا آنا تھا۔ “ وہ چپ ہوا تو کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ معظم صاحب نے دراز سے لفافے نکالے اور سب کو تھما دیے۔

میں نے چپ چاپ لفافہ جیب میں رکھا۔ خادم نے شکایتی انداز میں کہا، ”کیا صاحب! لوگوں کو ڈراؤں دھمکاؤں بھی میں، وصولی بھی میں ہی کروں، پھر بھی میرا اتنا کم حصہ؟ “ حاجی صاحب اور حافظ صاحب بھی بیک وقت بولے، ”ہمیں بھی تو کم حصہ دیا گیا ہے، مرغے پھنسا کر تو ہم ہی لاتے ہیں نا آخر۔ “ معظم صاحب معمول کی مکاری والی مسکراہٹ کے ساتھ بولے، ”ارے بھئی حالات آپ کے سامنے ہیں، جب حالات بہتر ہو جائیں تو زیادہ حصہ لے لیجیے گا۔

“ یہ بات ختم ہوئی تو میں نے کہا، ”بتا رہے تھے کہ اٹلی اور امریکہ میں بھی کافی خراب حالات ہو گئے ہیں، روز ہزاروں اموات ہو رہی ہیں۔ “ معظم صاحب بولے ؛ ”ہاں بھائی، لیکن وہ اپنے کام سے سچے ہیں، کنٹرول کر لیں گے۔ “ حاجی صاحب ذرا جذباتی ہوتے ہوئے بولے، ”دیکھیے، بات یہ ہے کہ یہ کافروں پر اللہ کا عذاب ہے، چاہے وہ کتنے ہی ایمان دار اور اپنے کام سے سچے کیوں نہ ہوں، یہ مریں گے اور واصلِ جہنم ہوں گے، ہم تو ایمان والے لوگ ہیں، ہمیں یہ کرونا کچھ نہیں کرے گا، مسلمانوں کو تھوڑی لگے گا یہ وائرس۔

“ میں نے ٹوکتے ہوئے کہا: ”حاجی صاحب پر ایران میں تو بہت لوگوں کو ہوا ہے! “ حاجی صاحب نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، ”تو وہ کم بخت کون سے مسلمان ہیں؟ “ ان کا یہ کہنا تھا کہ خادم کے ہاتھ ان کے گریبان کی طرف بڑھے اور دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے۔ معظم صاحب اور حافظ صاحب دونوں کو چھڑانے لگ گئے۔ خادم اور حاجی صاحب کی گالیوں سے سارا آفس گونج رہا تھا۔ میں قہقہے لگاتا ہوا آفس سے نکلا اور گھر چلا آیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعید علی شاہ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *