بھٹو زندہ ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ستر کے عام انتخابات کی باتیں صرف اتنی یاد ہیں کہ انتخابات والے دن پڑوسیوں کے خالو کی کالی گاڑی آئی اور گھر کی خواتین اس میں بیٹھ کر ووٹ دینے گئیں۔ پڑوسی جماعت اسلامی کے ہمدرد تھے۔ ہو سکتا ہے، گھر والوں نے ووٹ جماعت اسلامی کو ہی دیا ہو۔ پاپا مرحوم ان دنوں سابق مشرقی پاکستان میں بحیثیت آڈٹ افسر مقیم تھے۔ ایک بات اور ذہن میں ہے کہ غبارے اور کھلونے بیچنے والے پلاسٹک کا ترازو بھی بیچتے تھے۔ میرا پسندیدہ مشغلہ اس ترازو میں کنکریاں رکھ کر وزن برابر کرنا ہوتا تھا۔

ستر کے عام انتخابات میں ہمارے حلقے ناظم آباد اور ملحقہ آبادیوں سے محمود اعظم فاروقی مرحوم جیتے تھے۔ اور لیاقت آباد اور ملحقہ آبادیوں سے پروفیسر غفور احمد مرحوم۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاپا مرحوم کراچی آ گئے۔ گھر کے بڑے سیاست پر باتیں کرتے تھے تو چلتے پھرتے کچھ باتیں ہمارے کان میں پڑ جاتی تھیں۔ پاپا مرحوم کا ایک جملہ ہمیشہ سے یاد ہے۔ کہا کرتے تھے: ”جماعت اسلامی بائیکاٹ کی سیاست کرتی ہے۔ “ اور دوسرا جملہ ہوتا تھا: ”بھئی ہم تو سرکاری آدمی ہیں، سرکار کو ہی ووٹ دیں گے۔“

سقوط ڈھاکہ کے بعد زمام اقتدار بھٹو صاحب کے ہاتھ آئی۔ بھٹو صاحب کی شخصیت تو سحر انگیز تھی۔ جس سے کم از کم میں تو بہت متاثر تھا۔ بھٹو صاحب کے دور میں اسلامی سربراہی کانفرنس ہوئی۔ جو میرے لیے بہت دل چسپی کا مرکز بنی۔ روز اخبار میں کسی مسلم ملک کی سربراہ کی آمد کی خبر ہوتی۔ اس زمانے کے اکثر مسلم ممالک کے سربراہوں کے نام یاد ہو گئے تھے۔ اسی طرح دار الخلافے اور کرنسی بھی۔ اسی طرح محصورین بنگلہ دیش کی اور نوے ہزار قیدیوں کی آمد بھی کبھی نہیں بھولتی۔

بھٹو صاحب کے دور میں بہترین ملی نغمے ترتیب دیے گئے۔ مہدی ظہیر صاحب کی نعت ”ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں“ کی گونج غالباً اسلامی سربراہی کانفرنس کے دور میں سنائی دی۔ محلے میں ہر سال حاجی ظہور احمد زعفرانی مرحوم میلاد کا انعقاد کرتے تھے۔ اس محفل میں انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ یہ نعت میں نے بھی پڑھی۔

بھٹو صاحب کے دور میں قائد اعظم کا اور علامہ اقبال کا صد سالہ جشن بھی منایا گیا۔ سکولوں کی سطح پر بھی ان صد سالہ جشنوں کے حوالے سے پروگرام ہوئے۔ علامہ اقبال کے حوالے ایک کوئز پروگرام ہوا۔ جس میں میں نے بھی شرکت کی اور دوسرے نمبر پر آیا۔ 23 مارچ کی پریڈ بھی بھی گھر میں بہت ذوق و شوق سے دیکھی جاتی تھی۔

بھٹو صاحب نے اہلیان لیاقت آباد سے وعدہ کیا تھا کہ آپ کو ایک سپر مارکیٹ بنا کر دوں گا۔ اپنے دور حکومت میں انہوں نے یہ وعدہ پورا کیا اور سپر مارکیٹ کی تعمیر ہو گئی۔ مارکیٹ کی اب جو حالت ہے۔ اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ غرض یہ کہ پاپا مرحوم اور ہم تمام بھائی بھٹو صاحب کو بہت پسند کرتے تھے۔ بھٹو صاحب نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کیا تو شہر کراچی کی ہل چل اور رونق میں مزید اضافہ ہو گیا۔

بھٹو صاحب نے 1977 کے عام انتحابات میں کراچی کے حوالے سے حکمت عملی بنائی کہ نیک نام شخصیتوں کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔ ہمارے حلقے سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ حکیم سعید مرحوم اور صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ مولانا زاہر قاسمی جو ہمارے محلے میں ہی رہتے تھے، دیا گیا۔ مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم اور جمیل الدین عالی مرحوم کو بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ملے۔ میرے لیے یہ سارے نام ہی بہت معتبر تھے۔ پاکستان قومی اتحاد سے محمود اعظم فاروقی کو ہمارے حلقے سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ ملا۔

انتخابی جلسے ہونا شروع ہو گئے۔ گھروں محلوں اور اونچے درختوں پر جھنڈے لگنے شروع ہو گئے۔ ہمارے محلے میں تو پی این اے کے ہی جھنڈے نظر آتے تھے۔ میں بھی پیپلز پارٹی کا ایک بڑا سا جھنڈا لے آیا۔ اور گھر کے زینے کے ایک ایسے ستون سے جس میں سریے نکلے ہوئے تھے۔ ان سریوں سے جھنڈے کو باندھ کر لگا دیا۔ جھنڈا ایک آدھ دن کے بعد ہی محلے والوں نے کہہ سن کر اتروا دیا۔ پی این اے کے کسی جلسے میں تو میں نے کبھی شرکت نہیں کی۔ حکیم سعید کا جلسہ عید گاہ میدان ناظم آباد میں ہوا۔ ہاں، اس میں ضرور شرکت کی۔

پی این اے نے آخری جلسہ پٹرول پمپ ناظم آباد کی سڑک پر کیا۔ جس میں اصغر خان مرحوم نے کہا: ”اگر انتخابی نتائج ہمارے حق میں نہیں آئے تو ہم انتخابی نتائج تسلیم نہیں کریں گے۔“ اللہ اللہ کر کے قومی اسمبلی کے انتخابات کا دن آیا۔ بڑے خالو مرحوم کی بحیثیت پریزائڈنگ افسر ڈیوٹی ہمارے گھر کے قریب پولنگ سٹیشن پر لگی۔ ان کو دوپہر کا کھانا پہنچانٕے میں ہی گیا۔ ووٹ ڈالنے کا عمل شہری انتہائی پر سکون انداز سے کر رہے تھے۔ حکیم سعید مرحوم ہار تو گئے۔ لیکن یاد پڑتا ہے کہ 27000 ہزار ووٹ ان کو پھر بھی مل گئے تھے۔

مارچ کی 7 تاریخ کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے تھے اور 10 مارچ کو صوبائی اسمبلی کے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہی شہر کراچی میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ ہنگاموں سے ہمارا علاقہ بھی متاثر تھا۔ انتخابی نتائج حق میں نہ آنے کی وجہ سے پی این اے کے کارکنان پٹرول پمپ اور بینک بھی جلا رہے تھے۔ گرین بیلٹ پر بھٹو صاحب کی علامتی قبریں بنائی جاتی تھیں۔ بے وقت اذانیں دینے کا سلسلہ بھی اسی زمانے میں شروع ہوا۔ ہنگامے جب ملک گیر سطح پر ہونے لگے تو بھٹو صاحب نے ایک مذاکراتی کمیٹی ترتیب دی اور پی این اے کی قیادت کو مذاکرات کا عندیہ دیا۔ مذاکرات شروع ہو گئے اور جب اختتامی مرحلے کے قریب پہنچے تو اسی شب جمہوریت پر شب خون مار دیا گیا۔ بھٹو صاحب اور پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت گرفتار کر لی گئی۔ بھٹو صاحب سے اقتدار چھینے جانے اور گرفتاری سے دل بجھ سا گیا۔ کچھ دنوں بعد بھٹو صا حب کی ضمانت ہو گئی اور وہ بذریعہ ٹرین پنڈی سے روانہ ہوئے۔ ہر سٹیشن پر انہوں نے تقریر کی اور عوام کی امید بندھائی اور بین الاقوامی سازشوں کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔

بھٹو صاحب کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے۔ جلد ہی ان کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ مجھے وہ ٹی وی کلپ آج تک یاد ہے۔ جب جنرل ضیا ٕ الحق بھیگی و کھسیانی بلی بنا بھٹو صاحب سے ملا۔ جب کہ بھٹو صاحب اسی شان و شوکت سے نشست پر براجمان تھے۔ جیسے ایک عظیم رہنما کی نشست و برخاست ہوتی ہے۔ چند دن بعد ہی بھٹو صاحب کو ایک پرانی ایف آئی آر کی بنا پر گرفتار کر لیا گیا اور لاہور ہائی کورٹ نے عجلت میں پھانسی کی پہلے سے تجویز شدہ سزا بھی سنا دی۔

معاملہ سپریم کورٹ چلا گیا۔ سپریم کورٹ کی کارروائی جاری تھی کہ ایک دن عدالت عظمی نے بھی وہی فیصلہ سنا دیا، جس کی توقع کسی آمرانہ دور میں کی جا سکتی ہے۔ بھٹو صاحب کی سزا معاف کرنے کے لیے مشرق وسطی اور بہت سے ممالک کے سربراہوں نے جنرل ضیا الحق کو پیغامات بھیجے اور اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کیا۔ لیکن جنرل ضیا الحق نے تو وہی کرنا تھا۔ جس کام کے لیے ان کو اقتدار پر قبضہ کرنے کی ہری جھنڈی دکھائی گئی تھی۔

جنرل ضیا الحق نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی بھٹو صاحب کی ذاتی کردار کشی قومی میڈیا پر شروع کر دی تھی۔ روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی پر پروگرام نشر ہوتے اور بھٹو صاحب کے سیاسی مخالفین ان کی مبینہ برائیاں اور زیادتیاں بیان کرتے۔ وقت گزرتا گیا کہ ایک دن اندوہناک خبر سننے کو ملی کہ بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ میری عمر تو اس وقت محض پندرہ سال تھی۔ لیکن خبر سن کر جو حال ہوا تھا، وہ نہ پوچھیں۔ سارا دن نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ سب گھر والے اسی کیفیت سے دوچار تھے۔

بھٹو صاحب کے ساتھ جو زیادتی ہوئی۔ بھٹو صاحب کے جانے بعد ان کے سیاسی مخالفین نے بھی اس پر افسوس کا اظہار کیا۔ کسی نے جلدی اور کسی نے کئی برس گزر جانے کے بعد۔ بہرحال وقت نے ثابت کیا کہ آمر مطلق جنرل ضیا الحق نے وطن عزیز کا کس طرح بیڑا غرق کیا۔ جس کے نتائج قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ بھٹو صاحب کا نام ابھی بھی زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ لیکن جنرل ضیا الحق کے نام کی ہر وقت مالا جپنے والے بھی آمر مطلق کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *