کورونا وائرس کی اطلاع دینے والی چینی ڈاکٹر کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

18 دسمبر 2019 کو چین کے شہر ووہان کے سنٹرل پولی کلینک ہسپتال میں ایک 65 سالہ مرد پہنچا جسے سانس کی غیر معمولی عفونت یعنی انفیکشن تھی۔ اسے یہ مرض کئی روز سے تھا، وہ معائنے کے لیے مقامی کلینک بھی گیا تھا جہاں اسے نسخہ میں اینٹی بائیوٹک لکھ دی گئی تھی۔ دوا کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اس کو شدید بخار تھا جو کسی طرح بھی کم ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ اس کی برونکو سکوپی کی گئی تھی، کمپیوٹر ٹوموگریفی کی گئی تھی، اور سانس کی نالی سے حاصل شدہ مواد، تجزیہ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا تھا۔

اس ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضان کی سربراہ ڈاکٹر آئی فے سمجھتی ہیں کہ یہ نئے کورونا وائرس سے متاثرہ پہلا مریض تھا، جس کا انہوں نے معائنہ کیا تھا۔ مریض ہونے سے پہلے یہ شخص ووہان کے سمندری غذا کے بازار میں کام کرتا تھا جہاں طرح طرح کے جانور بشمول چمگادڑ بیچا کرتا تھا جو بعد میں اس خاص وائرس کا منبع ثابت ہوئی جس میں تبدیلی mutation ہو چکی تھی اور پھر کہیں بعد میں اس سے ہونے والی مرض کو COVID۔ 19 نام دیا گیا تھا لیکن تب اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد ووہان میں ایسے کئی مریض آئے جنہیں شدید نمونیہ کی شکایت تھی، جس کی وجہ معلوم نہیں تھا اور نہ یہ علم تھا کہ یہ کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ 27 دسمبر کو ووہان کے سنٹرل پولی کلینک ہسپتال میں مرض کی ویسی ہی علامات لیے ایک اور مریض پہنچا تھا جو پہلے مریض سے بیس برس کم عمر کا تھا، مزمن مریض تھا اور پہلے شخص کی نسبت کہیں زیادہ بیمار تھا۔ اس ہسپتال میں پہنچنے سے پہلے مریض ووہان کے ایک دوسرے ہسپتال میں علاج کرواتا رہا تھا مگر اس کی حالت بگڑتی چلی گئی تھی۔ جب مریض یہاں پہنچا تو اس کے خون میں صحت مند مرد کی نسبت آکسیجن کی مقدار بہت کم تھی۔

تین روز کے بعد ڈاکٹر آئی فے کو لیبارٹری سے اس دوسرے مریض کی رپورٹ ملی تھی۔ رپورٹ میں کئی طرح کے بیکٹیریا، خون کے ذرات اور کورونا وائرس SARS کی کالونیاں موجود ہونا درج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر آئی فے کہتی ہیں کہ انہیں رپورٹ پڑھتے ہوئے ٹھنڈے پسینے آ گئے تھے کیونکہ 2003 میں SARS کی وبا پھوٹی تھی۔ اس میں موت کی شرح 9 % رہی تھی جب کہ 50 برس سے بڑی عمر کا ہر دوسرا مریض مر گیا تھا۔

جب میں گھبرائی ہوئی یہ رپورٹ دیکھ رہی تھی تب ہی ہسپتال کے سربراہ میری کھڑکی کے پاس سے گزرے تھے۔ یہ وہ شخص تھے جنہوں نے ذاتی طور پر SARS سے نمٹا تھا۔ میں نے تیزی سے انہیں جا لیا تھا اور رپورٹ دکھائی تھی جسے دیکھتے ہی انہوں نے کہا تھا کہ یہ تو بہت برا معاملہ ہے۔

ڈاکٹر موصوف نے فوراً ہسپتال کی انتظامیہ کو مطلع کیا تھا اور رپورٹ کی نقل ایک اور ہسپتال میں مشورہ کی خاطر ایک دوسرے ڈاکٹر کو ارسال کی تھی۔ یہ دونوں ہم جماعت تھے اور انہوں نے مل کر SARS سے نمٹا تھا اور تھوڑا ہی عرصہ پہلے ایک دوسرے کو پیغامات کے ذریعے مطلع کیا تھا کہ پچھلے دنوں سے سمندری غذا کے بازار میں کام کرنے والے لوگ ہسپتال میں بطور مریض زیادہ آنے لگے ہیں۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ چین کے سوشل میڈیم WeChat پر عام صارف بھی غیر معمولی نمونیہ کی معلومات کا زیادہ تبادلہ کرنے لگے ہیں۔

اس دوران ڈاکٹر آئی فے کو ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے کئی نوٹس ملے کہ نئی مرض سے متعلق معلومات نہ پھیلائی جائیں، اگر اس سے خوف پھیلا تو جوابدہ تمہیں ہونا پڑے گا۔ وہ کہتی ہیں کہ میں سو نہیں سکی تھی، سوچتی تھی کہ کیا کروں۔ اگر میری دی گئی معلومات سے کوئی منفی اثر بھی ہوتا ہے تو کوئی بات نہیں، کم از کم ووہان کی میڈیکل سے وابستہ برادری کو تو یاد دہانی ہوگی کہ ازحد محتاط رہیں۔

اگلے ہی روز انہیں ہسپتال کی انتظامیہ نے بلا کر کڑی سرزنش کی تھی۔ اگرچہ سارا دوش ڈاکٹر آئی فے نے اپنے ذمے لے لیا تھا لیکن ان کے ساتھ مزید آٹھ ڈاکٹروں کو بھی ڈانٹا ڈپٹا گیا تھا جن کے ساتھ انہوں نے WeChat پر اس بارے میں بات چیت کی تھی۔ ان ڈاکٹروں میں ایک ماہر امراض چشم ڈاکٹر لی وین لیان بھی تھے۔ جن کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ انہیں دو بار پولیس نے تھانے میں طلب کیا تھا اور بعد میں تحریر پر دستخط کروائے تھے کہ وہ ”بے بنیاد افواہ“ مزید نہیں پھیلائیں گے۔

ڈاکٹر آئی فے نے انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے مگر ان کی درخواست رد کر دی گئی تھی۔ ڈاکٹر آئی فے نے چین کے جریدہ ”بیوی“ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا، ”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ شام کو جب میں کام سے گھر لوٹی تو میں نے دہلیز سے ہی اپنے شوہر کو کہا کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو بچہ تمہیں پالنا پڑے گا“ انہوں نے بتایا کہ میں نے طے کر لیا تھا کہ اپنوں کو کورونا وائرس اور اپنی سرزنش کے بارے میں نہیں بتاؤں گی لیکن شوہر اور بچے کو تلقین کر دی تھی کہ وہ ماسک اوڑھے بن باہر نہ جائیں۔

اسی روز چین کی حکومت نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کو لکھ بھیجا تھا کہ نامعلوم وجہ سے ہونے والے غیر معمولی نمونیہ کے مریض دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ یہ اس بات کا پہلا سرکاری اعتراف تھا کہ مسئلہ موجود ہے۔ اس نئے مرض کا پہلے ہی کا طرح نہ کوئی نام تھا اور نہ ہی کوئی آگاہ تھا کہ یہ کس قدر خوفناک ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر آئی فے یکم جنوری کو ڈیوٹی پر پہنچی تھیں۔ مضطرب تھیں کہ طبی عملے کو بھی معاملے کی نزاکت بارے متنبہ نہیں کیا جا رہا تھا۔ وائرس سے متعلق ڈاکٹر بس آپس میں ہی بات کر رہے تھے۔ اس بارے میں انٹرنیٹ پر لکھنا یا ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کرنا منع تھا۔ اس کے علاوہ ہسپتال کی انتظامیہ نے ڈاکٹروں اور نرسوں کو حفاظتی لباس پہننے سے روک دیا تھا تاکہ لوگوں میں وحشت نہ پھیلے۔ ڈاکٹر آئی فے نے اپنے ماتحت عملے کو اوورآل کے نیچے حفاظتی لباس پہننے کی ہدایت کی تھی۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہ کر سکتی تھیں۔

چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈاکٹر آئی فے کے شعبہ میں ویسے ہی سات مریض اور پہنچے تھے۔ صورت حالات ہر گھنٹے کے بعد بگڑ رہی تھی۔ پہلے سمندری غذا کے بازار میں کام کرنے والے مریض آتے تھے۔ اب وہ تو کم ہو گئے تھے مگر ایسے لوگ آنے لگے جو کبھی اس بازار نہ گئے تھے بلکہ کنبے کے کنبے اس مرض میں مبتلا ہو کر آنے لگے تھے۔

ڈاکٹر آئی فے کے مشاہدے میں آنے لگا تھا کہ نئی وائرس انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہونے لگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمندری غذا کا بازار تو پہلی جنوری سے ہی بند کر دیا گیا تھا پھر اتنے لوگ کیوں اس مرض میں مبتلا ہونے لگے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مرض ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے لگا تھا۔ مگر ہسپتال کی انتظامیہ ان کی بات ماننے کو تیار نہ تھی، تاحتٰی اس کے بعد بھی جب آؤٹ ڈور کی ایک نرس اس مرض میں مبتلا ہو چکی تھی۔ 16 جنوری کو ووہان کے ڈاکٹروں کے ہنگامی اجلاس تک میں یہ کہا گیا کہ وائرس کا انسان سے انسان میں منتقل ہونا خارج از امکان ہے۔

اس رائے کو صرف 83 سالہ ڈاکٹر ژون نان شیان کی مداخلت ہی بدل پائی تھی۔ موصوف چین کے نامور ترین ماہر متعدی امراض ہیں جنہوں نے 2003 میں SARS کی شناخت کی تھی۔ وہ ووہان پہنچے اور آتے ہی جان گئے کہ شہر وبا کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ 19 جنوری کو انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ نیا وائرس انسان سے انسان میں منتقل ہو رہا ہے۔ اگلے ہی روز بیجنگ نے سرکاری طور پر بحران کو اپنے ہاتھ میں لینے کا اعلان کر دیا۔ ووہان اور صوبہ ہوبے میں جس میں یہ شہر واقع ہے، فوری طور پر انتہائی اقدامات لیے گئے۔ انتہائی سخت لاک ڈاؤن کیا گیا، صوبہ سے جانا اور صوبہ میں آنا روکنے کے ساتھ ساتھ COVID۔ 19 میں مبتلا مریضوں کے لیے عارضی ہسپتال تعمیر کیا جانے لگا۔

https://www.theguardian.com/world/2020/mar/11/coronavirus-wuhan-doctor-ai-fen-speaks-out-against-authorities

شہر کو بند کیے جانے سے چند گھنٹے پیشتر ڈاکٹر آئی فے نے ایک اور واقف ڈاکٹر کو فون کرکے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ بات ہمارے بیچ رہے۔ 21 جنوری کو میرے آؤٹ ڈور میں 1523 مریض آئے جو عام حالات سے دوگنے تھے اور ان میں سے 655 کو شدید بخار تھا۔

یہ تو شروعات تھیں بس۔ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی چلی گئی تھی۔ انتہائی نگہداشت کے وارڈ بھر گئے تھے۔ مریضوں کو برآمدوں میں لٹانا پڑ گیا تھا۔ کچھ تو ہسپتال کے باہر ہی مر گئے تھے اس سے پہلے کہ ان کا معائنہ کیا جاتا۔

طبی عملے کے افراد خود بیمار پڑنے لگے تھے۔ جنوری فروری میں سنٹرل پولی کلینک کے عملے کے 200 سے زیادہ افراد مریض بن چکے تھے۔ مارچ کے وسط تک ان میں سے کچھ انتہائی مریض ہو چکے تھے اور چار چل بسے تھے، جن میں ماہر امراض چشم ڈاکٹر لی وین لیان بھی شامل تھے جنہیں افواہیں پھیلانے کے الزام میں پولیس نے تھانے طلب کیا تھا۔

جنوری کے اواخر تک ایک ایک کرکے ہسپتال کی انتظامیہ کے وہی لوگ بیمار پڑنے لگے تھے جنہوں نے اس نئے کورونا وائرس سے ہوئی مرض کے بارے میں اطلاعات دیے جانے کی تب شدید مخالفت کی تھی جب اسے روکا جا سکتا تھا۔

اپنے انٹرویو میں ڈاکٹر آئی فے نے اعتراف کیا کہ انہیں شدید افسوس ہے کہ انہوں نے دسمبر میں ہسپتال کی انتظامیہ کا کہا کیوں مانا تھا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ کیا ہونے والا ہے تو میں ان کی بالکل نہ سنتی اور ہر اس شخص کو اس بارے میں بتا کے متنبہ کرتی جس سے میں ملتی یا مل سکتی، انہوں نے کہا۔

چینی ماہر ڈاکٹر کہتی ہیں کہ اگر ووہان میں صرف ایک ہفتہ پہلے کوارنٹائن نافذ کر دیا جاتا تو نئے وائرس سے متاثر ہونے والے دو تہائی افراد صحت مند رہتے۔ اور اگر جنوری کے اوائل سے ہی وبا کے خلاف مستعدی سے لڑا جاتا تو چین میں متاثر ہونے والے 95 % افراد کو مریض ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

https://www.businessinsider.com/wuhan-doctor-chinese-sounded-alarm-coronavirus-outbreak-december-2020-3

جریدہ ”بیوی“ کے مارچ کے شمارے میں، جو 10 مارچ کو بازار میں آیا تھا، ڈاکٹر آئی فے کا یہ انٹرویو شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ وبا شروع کیسے ہوئی تھی۔ صرف تین گھنٹے بعد جریدے کی سائٹ سے اور ان تمام چینی سائٹس سے جو اسے ڈاؤن لوڈ کرنے میں کامیاب ہو سکی تھیں، یہ انٹرویو ڈیلیٹ کیا جا چکا تھا اور جریدہ سٹالز سے غائب ہو چکا تھا۔

بی بی سی نیوز کے مطابق اس تاریخ کو ہی چین کے سربراہ شی زی پن ووہان پہنچے تھے شاید اس انٹرویو کو ہٹائے جانے کی یہی وجہ رہی ہو۔ مضمون کے غائب ہونے سے چین میں انٹرنیٹ کا استعمال کرنے والوں میں رنجیدگی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے اس کی نقول سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیں تو انہیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔

26 مارچ کو آسٹریلیا کے ٹی وی چینل کے پروگرام 60 منٹس آسٹریلیا میں بتایا گیا کہ ڈاکٹر آئی فے غائب ہو چکی ہیں۔ جریدہ کے ناشر کا خیال ہے کہ موصوفہ کو رازداری سے حراست میں لیا جا چکا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *