وبا کے دوران ٹورانٹو میں سوشل سروس ورکر کا ایک دن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے تو کافی دنوں سے مجھے یہ خیال آرہا تھا کہ مجھ کو سوشل سروس ورکر کی ڈائری لکھنی چائیے مگر آج کا دن کام پر کچھ ایسا تھا کہ مجھے لگا آج تو ڈائری لکھنا ہی پڑے گی۔ ایسا بھی کوئی مختلف دن نہیں تھا آج۔ مگر شاید میں نے کل اور آج کام کرنے میں ایک خاص طرح کی فرحت محسوس کی جس نے مجھ کو اس کو قلم بند کرنے پر اور اکسایا۔ ڈائری لکھنے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ یہ شاید کام پر ہونے والے جذباتی دباؤ کو جسم سے باہر نکالنے میں میری مدد کرسکے۔ دوسرا اپنے پڑھنے والوں کو اپنے شہر میں ہونے والے سماجی خدمات کا اندر سے کچھ حال احوال بھی سنا سکوں۔

کوؤیڈ 19 کی وبا کے دور میں جب زیادہ تر لوگ گھر پر مقید ہیں یا گھر سے ہی کام کر رہے ہیں وہاں میرے کام میں اتنا ہی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہم لوگوں کو روزانہ کی ضرورتوں کے مطابق نئے اصول اور ضوابط بنانے اور ان کا اطلاق کرنا پڑرہا ہے۔

میری جاب کو ہارم (ضرر) ریڈکشن کیس مینیجر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جو کہ ایک ٹرانزیشنل ہاؤسنگ کے پروگرام سے وابستہ ہے۔ میرا کام ان لوگوں کو ایک سال کے لیے ایک کمرا مہیا کرنا ہے جو کہ بہت دنوں سے سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں اور ذہنی صحت اور نشے کی عادت سے جوجھ رہے ہیں۔

ایک وقت تھا جب نشے کے عادی افراد سے کہا جاتا تھا کہ پہلے نشہ چھوڑو پھر ہم تمہاری کوئی مدد کریں گے مگر اب ایسا نہیں ہے اب ہم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ان کی سطح پر جاتے ہیں ناکہ ان سے امید کریں کہ وہ ہماری سطح تک پہنچیں (ہم ان پر اپنی کوئی شرط مسلط نہیں کرتے) جو کہ ہارم ریڈکشن طریقہ کار کا ایک حصہ ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہارم ریڈکشن میں یہ بھی شامل ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے کو کوئی نقصان پہنچا رہا ہے تو اس نقصان کو کس طرح کم سے کم سطح پر لایا جائے۔

جس کی سب سے بڑی مثال سیف انجیکشن سائیٹس ہیں۔ جہاں پر لوگ اپنی پسند کا نشہ لے کر آتے ہیں اور انجکشن کی نئی کٹ مفت میں حاصل کرتے ہیں اور تربیت یافتہ ہیلتھ کیر عملے کی موجودگی میں اپنے کو انجیکشن لگاتے ہیں۔ اس سے اوور ڈوز ہونے کی صورت میں ان کی جان بچ جانے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اور استعمال شدہ سوئی کا اندیشہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ جس سے نشے کی عادی افراد بہت سی بیماریوں سے بھی بچ جاتے ہیں۔

سیف انجیکشن سایٹ جیسی خدمات ہمارے پروگرام کا بھی حصہ ہیں۔ ہم اپنے پروگرام میں شریک کلائنٹ سے کہتے ہیں کہ وہ کوئی نشہ اکیلے میں نہ استمعال کریں بلکہ ہم سے انجیکشن یا سموکنگ کٹ لے کر ہم کو مطلع کردیں کہ ہم نشہ استمعال کرنے جا رہے ہیں تو ہم دس منٹ میں جان بجانے والی ادویات کے ساتھ آپ کو چیک کرلیں گے۔ کسی نا گہانی کی صورت میں فوری مدد فراہم کریں گے اگر اور ضرورت ہوئی تو 911 کال کرکے طبی مدد بھی بلا لیں گے۔ اس طرح ہمارے یہاں اوور ڈوزکی صورت میں ہونے والی اموات کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ مگر ابھی بھی بہت کام ہونا باقی ہے۔

کوؤیڈ 19 سے پہلے ہم اور ہمارے کلائنٹ جیسے لوگ اوور ڈوز کی وبا سے نبرد آزما ہو رہے تھے۔ اب اس میں جیسے کرونا کا تڑکہ بھی لگ گیا ہے۔ جو لوگ پہلے ہی اپنی جان کی پرواہ نہیں کرپاتے تھے ان کو کوؤیڈ 19 کی سنگینی کا اندازہ کروانا جیسے جان جوکھوں کا کام تھا۔ جس کو شاید پاکستان والے بہت بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ان لوگوں کو یقین آیا ویسے ہی ان کی انگزایٹی لیول کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔

کچھ نے تو ہارم ریڈکشن کے سارے اصول ایک طرف رکھ کے اپنے کو اور نشے میں ڈبو لیا اور کچھ خود کشی کے بارے میں پھر سے غور کرنے لگے۔ ہم نے ان لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اپنے کمروں میں رہیں اور ٹی وی سے دل بہلانے کی کوشش کریں ہم صبح کا ناشتہ اور شام کاکھانا مفت ان کے کمرے میں پہنچا دیں گے۔ مگر دو تین دن میں ہی روم سروس ان کے لیے ناکافی ہوگئی اور وہ ہر بار ایک ہی طرح کا کھانا کھا کھا کر بور ہو گئے۔

ہاں تو میں بتا رہی تھی کہ آج کام پر دن کافی ہمت افزا تھا کیونکہ میں 70 سال کے ایک نئے کلائنٹ سے ملی جو آج کل شیلٹر میں راتیں بسر کر رہے ہیں اور کسی مستقل رہائش ملنے کی انتظار کے دوران ہمارے یہاں کچھ دن کے لیے رہنا چاہتے ہیں تاکہ اس عمر اور وبا کے دور میں گلیوں یا عارضی بستروں میں نہ سونا پڑے۔ اس وقت کسی نئے فرد کو اپنے پروگرام میں شریک کرنا کسی وائرس کو اپنی حدود میں لانے کے مترادف ہیں مگر ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اگر کس ایک کو بھی وائرس سے بچا سکتے ہیں تو ضرور بچاہیں گے۔

ہماری ایک اور رہائشی جس کو آخری بار میں نے ایک ہفتہ پہلے دیکھا تھا ابھی لاپتہ ہیں اس وقت وہ بری طرح کھانس رہیں تھیں اور میں ان کا ٹیسٹ کروانے لے جانا چاہتی تھی مگر وہ کسی چھلاوے کی طرح غائب ہو گئیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا حالانکہ سارے جیل اور اسپتال میں پوچھ لیا جہاں عموما وہ مل جایا کرتی تھیں۔ پھر پولیس کو فون کرکے ان کی گمشدگی اور زبردست کھانسی کی رپورٹ درج کروائی۔ ایک پولیس والے تحقیق کرنے کے غرض سے مجھ سے ملنے بھی آئے۔ میں نے ان کو بتایا کہ وہ اپنا ماہانہ چیک وصول کرنے بھی نہیں آسکی ہیں اور یہ تشویش ناک بات ہے مگر انہوں نے کہا یہ کوئی ایمرجنسی نہیں نہ وہ بچی ہیں نہ بوڑھی تو ہم ان کو ڈھونڈنے کہیں نہیں جائیں گے لیکن رپورٹ درج کر لیتے ہیں۔ میں نے سوچا ہے اب روز پولیس اسٹیشن فون کرکے ان سے پوچھوں گی کہ معاملہ کہاں تک پہنچا۔

ایک کلائنٹ دکانیں بند ہونے کی وجہ سے اپنے فون کا بل وقت پر نہیں دے پائے تو ان کا فون بند ہو گیا ہے تو فون پر ان کا بل ادا کروایا اور ان کو تسلیاں دیں کہ ان کو اب کچھ دن صبر کرنا پڑے گا جب تک کہ رقم کمپنی کے پاس نہیں پہنچ جاتی اور وہ ان کا فون دوبارہ چالو نہیں کرتی۔

ایک اور کلائنٹ کا ماہانہ چیک نہیں آیا تھا اوران کا متعلقہ ادارے سے سماجی فاصلے کی وجہ سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ وہ کوؤیڈ 19 کے ڈر سے نہیں بلکہ اس ڈر سے کہ کہیں قرض دار ان کو اس چھوٹی سی رقم کے لیے قتل نہ کر ڈالیں جو وہ ان کو واپس نہیں کر پا رہے۔ اب ان منشیات فروشوں کو کیسے یقین دلائیں کہ چیک ہی کہیں پھنسا ہوا ہے۔ کل ان کے لیے اس ادارے کو فون کرکے ان کے عارضی طور پر بند اکاؤنٹ کو کھلوا کر چیک ریلیز کروایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ چیک ڈاک کے ذریعے تین دن بعد کے بجائے دو گھنٹے کے اندر اس دفتر سے وصول کیا جا سکے۔ جب یہ بات ان صاحب کو بتائی تو انہوں نے بے ساختہ کہا ”تم بہترین ہو“ کچھ ہی گھنٹوں میں وہ سودا سلف کا جھولا کسی انعام کی طرح جھلاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف رواں دواں دکھائی دیے۔

اور آج وہ اس جاب پوسٹنگ کے ساتھ تشریف لائے جو میں نے ان کو دو تین دن پہلے دی تھی کہ وہ پیئر ورکر کی جاب ہے جو ان کے لیے بہترین رہے گی مگر انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ ان کی جان خطرے میں ہے وہ کوئی جاب واب نہیں کر سکتے۔ آج ان کا ارادہ بدل گیا تھا کہ اب وہ اس نوکری کے لیے اپلائی کرنے کو تیار ہیں کہ یہ ان کی آئیڈیل جاب ہے اس میں ان کو اپنے جیسے لوگوں کی مدد کرنے کا موقع ملے گا۔

کوشش کروں گی کہ سوشل ورکر کی ڈائری لکھتی رہوں۔ مگر کبھی کبھی لگتا ہے اپنے کلائنٹس کی باتیں بتانا کہیں اخلاقی طور پر غیرپیشہ ورانہ رویہ تو نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *