سیف سپیس اور مادری زبان کا میلہ

جب آپ میری طرح ملک سے باہر رہتے ہیں تو آپ اس خواہش کے ساتھ جیتے ہیں کہ کاش کبھی اپنے وطن عزیز سے کوئی خیر کی خبر آسکے۔ مگر ہوتا ایسا نہیں ہے۔ یہ خبر کی ایک خصو صیت ہے کہ وہ جتنی بری ہوتی ہے اتنی بڑی ہوتی ہے اور جتنی اچھی اتنی…

Read more

روشن خیال باپ کی خوش قسمت بیٹیاں

لبنی مرزا اور خالد سہیل کے مضامین ”نوید کی گرل فرینڈ“ اور ”میری جوان بیٹی کا بوائے فرینڈ“ اور خاص کر اس پر دیے گئے تیز و تند تبصروں یا عشرت پوپل کا تبصرہ ”ایسے باپ کہاں ڈھونڈیں“ نے مجھ میں یہ تحریک پیدا کی کہ میں اپنے والد سید محمد مظاہر کی اپنی بیٹیوں سے تعلق کا ذکر کروں۔

ویسے تو میرے والدین کے بہت سے بچے ہیں جو جذباتی اور نظریاتی طور پر ان سے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر میرے والدین نے 70 کی دہائی میں دو بیٹیاں پیدا کیں۔ جن میں کسی فیملی پلینگ کے اشتہار کے عین مطابق ٹھیک 4 سال کا فرق تھا۔ وہ بھی اس معاشرے میں جہاں چاروں طرف لوگ لڑکے کی امید پر 6 یا 8 لڑکیاں پیدا کرتے تھے۔ ویسے تو میری امی اس فیصلے کو اپنا فیصلہ گردانتی تھیں۔ مگر اس معاشرے میں اگر ایک عورت یہ فیصلہ کرپائے تو بھی اس میں اس کے شوہر کا کچھ نہ کچھ ہاتھ ضرور ہو گا۔ ہم دونوں بہنوں کو (شادی اور اس کے ساتھ جڑی کینیڈا اور ساوتھ افریقہ کی ہجرت کے نتیجے میں ) اپنا گھر چھوڑنے تک اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ہم لڑکیاں ہیں اور ہم کوئی کام اس لیے نہیں کرسکتے کہ ہم لڑکے نہیں۔ اور نہ اب تک بھائی کی کوئی کمی محسوس ہوئی۔

Read more

ع سے عورت، م سے مرد، پ سے پاکستان

میں نےاس مضمون میں ڈاکٹر خالد سہیل کے مضمون "عین عورت اور میم مرد کا رشتہ "کو پاکستان کے حالات کے تناظر میں آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے – ایک تخلیقی عمل کے دو مختلف روپ ایک دوسرے سے صنفی اعتبار سے قطعی مختلف بلکہ ضد جیسے آگ اور پانی مگر ایک دوسرے کے…

Read more

خود سے محبت

سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ اپنے آپ کو کیسے ڈھونڈا جائے؟ اپنے سے دوستی کیسے کی جائے؟ اپنے سے تعلق کیسے بنتا ہے؟ میرا خیال ہے یہ سوالات غلط ہیں۔ صحیح سوال یہ ہے کہ آپ کب کیسے اور کہاں کھوگئے؟ اور اپنے سے تعلق کب اور کیسے ٹوٹا؟ اپنا آپ کھوجانے سے کیا مراد لی جائے؟ ذہنی صحت کے محققین کے مطابق اپنے کو کھونے کا عمل ہمارے پیدا ہوتے ہی شرو ع ہو جاتا ہے۔ ہم پیدا ہوتے ہی سیکھ لیتے ہیں کہ اگر ہم کو زندہ رہنا ہے تو دوسروں پر انحصار کرنا ضروری ہے اور ان پر انحصار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں سے ایک خاص قسم کا تعلق لگاؤ اور جڈت قائم کی جائے۔ ایسی جڈت کے لیے ضروری ہے کہ اپنی خوشی اور مرضی کے بجائے دوسروں کی خوشی اور مرضی سے کام کیے جائیں۔ اور ان کے مطابق اپنے کو ڈھال کر ان کا پسندیدہ بنا جائے تاکہ وہ خوش ہوکر ہم سے تعلق لگاؤ یا جدت قائم رکھ سکیں۔

Read more

کیا آپ اپنے ان کہے سچ کا بوجھ لیے پھر رہے ہیں؟

کیا ہمارا خیال ہے کہ جو خواتین می ٹو کی کہانیاں سامنے لے کر آرہی ہیں ان کو اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں ہے؟ کچھ لوگ ذمہ داری کا احساس دلا کر ان کہانیوں کو ڈس کریڈٹ تو نہیں کرنا چاہتے؟ کیا ہم ان عورتوں کو اس طرح ہمت نہیں دلا سکتے ہیں کہ ”ہاں تم اس لمحے کے لیے تیار ہو، جاؤ تم کامیاب ہو گی اور اگر کامیاب نہ بھی ہو ئیں تو کوئی بات نہیں ہم پھر بھی تمہارے ساتھ ہیں“ کیا ہم ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلا کر اپنی کہانی بتانے سے روک تو نہیں رہے؟

دو ا قسام کے لوگ ہیں ایک جو کہانی سنانے کی اہمیت سے واقف ہیں اور ایک جو کہانی سنانے کو فضول سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اپنی کہانی سنا ئی کہ ان کا استحقاق کیسے مجروح ہوا تو اس سے ان کو کیا فائدہ ہوگا؟ تو کیا ہم کو اپنی کہانی بیان کرنے کے فوائد پر نظر ڈالنے کی ضرورت نہیں؟ کیا ہم نہیں جانتے ہیں کہ احساس شرم نے انسانی زندگیوں کو کس طرح سے جکڑا ہوا ہے؟ اگر شرم کا ایندھن اس کو راز رکھنے میں نہیں ہے؟ تو کیا اس کا توڑ اس کو بیان کرنے میں نہیں ہوگا؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ احساس شرم کا بازار ٹھنڈا ہو تو اس کا علاج اپنی کہانی سنانا ہے کہ نہیں؟ اور دوسرے کو سوائےاپنے احساس ندامت قبول کرنے کے اور کیا کرنا ہے؟

Read more

خالد سہیل اور رابعہ الربا کی کتاب ‘درویشوں کا ڈیرہ’ پر تبصرہ

کہتے ہیں گولی اس وقت چلتی ہے جب مکالمہ رک جاتا ہے – شاید پاکستان میں بھی اس لئے اتنی گولی چلتی ہے کہ وہاں مکالمے پر جمود طاری ہے – ہر سطح پر سینسر شپ خیالات کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے – خوف کا یہ عالم ہے کہ انسان اپنے سے گفتگو…

Read more

بے خبری کا علاج خبر ہے تنگ نظری کا کوئی علاج نہیں

آج بہت دنوں بعد لکھنے کی تحریک اس وقت پیدا ہوئی جب ہم سب پر وہ خبر پڑھی جس میں ”سلونی چوپڑا نے کھل کے سارے واقعے کی تفصیل سنا دی“ تھی۔ خبر نے ایک عجیب سی خوشی پیدا کی جیسے ایک دروازہ کھل گیا ہو۔ مگر لکھنے کی تحریک خبر کے نیچے لکھےگئے کمنٹس…

Read more

سلونی چوپڑا، خبر کا جبر اور زاہد تنگ نظر

  آج بہت دنو ں بعد لکھنے کی تحریک اس وقت پیدا ہوئی جب ہم سب پر وہ خبر پڑھی جس میں "سلونی چوپڑا نے کھل کے سارے واقعے کی تفصیل سنا دی" تھی۔ خبر نے ایک عجیب سی خوشی پیدا کی جیسے ایک دروازہ کھل گیا ہو۔ مگر لکھنے کی تحریک خبر کے نیچے…

Read more