کیا مذہب اور سائنس اپنی الگ شناخت برقرار رکھیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرنطینہ میں مقید ہوئے پتا نہیں کتنا عرصہ بیت چکا ہے ہوئے مگر سورج اور چاند کی آنکھ مچولی کھڑکی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ تنہائی میں گردشِ شب و روز تو وہی رہتی ہے مگر وقت کا پیمانہ بدل جاتا ہے جیسے مارکیز کے ہاں تنہائی کے سو سال بیتے تھے۔ مارکیز کی تنہائی میں انتظار تھا، فرصت تھی، وقت تھا، ارتقا تھا اور قرنطینہ کی تنہائی خوف میں لپٹی ہوئی ہے، اندیشوں میں گھری ہوئی ہے۔ اس تنہائی نے دنیا کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا ہے۔

اس تنہائی نے مذہب، سائنس، ماحول، سیاست اور انسانیت کو ایک نئی نظر سے دیکھنے کی فرصت مہیا کی ہے۔ مذہب کے پردے کے پیچھے چھپے صنم خانوں کو بے نقاب کر کے ایک نئی شکل نکالی ہے۔ آج کعبہ، کلیسا، مسجد اور گردوارے ویران ہیں اور ابھی تک قیامت کا سورج طلوع نہیں ہوا اور عبادت گزار اپنے عقیدے کی دہلیز پر بیٹھے اپنے خداؤں کے لیے دعا کناں ہیں۔

اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا

جو قومیں سائنس کے دوڑ میں پیچھے رہ گئی ہیں ان کی تنہائی سے لڑنے کی قوت مدافعت بھی کمزور ہے اور خوف کے سائے میں زیادہ قد آور ہیں۔ اس تنہائی نے مذہب اور سائنس کے فرق اور استعمال کو واضح کیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر غور کرنے کا وقت اب میسر ہوا ہے تو محسوس ہوا کہ واقعی سنگین غلطی ہوئی ہے اور قدرت نے سب کو ان کے وقت میں قید کر دیا ہے۔

خود کے ساتھ بیٹھنے کا وقت ملا ہے تو ایک بے معنی خاموشی اور بے ربط گفتگو درمیان میں ہے جیسے دو اجنبی پہلی مرتبہ مل رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ آشنائی ہو گی مگر اس وقت تک ایک اجنبی کے رخصت ہونے کا وقت ہو چکا ہو گا۔ اب ہوا چلنے کا احساس بھی ہونے لگا ہے، بارش کی بوندوں کی آواز بھی سنائی دیتی ہے، گھاس کا رنگ بھی مزید گہرا ہو گیا ہے اور آسمان پر ستارے بھی زیادہ چمکتے ہیں۔

چار دیواروں کے اندر زندگی کسی اور سیارے پر زندگی کا احساس دلاتی ہے جہاں قید تنہائی ہے، وقت ہے، فرصت کی روانی ہے اور اسے گزارنا ہے یا کتاب، فلم، موسیقی، شاعری یا انٹرنیٹ جیسے چند عناصرِ حیات موجود ہیں۔ سائیبر سپیس نے مصروفیت کی دھند میں لپٹے ہر رابطے کو بحال کیا ہے۔ پرانے مشاغل کو ماضی کی الماریوں سے جھاڑ پونچھ کر پیش کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی کھڑکی کھول کر اپنی پرانی دنیا پر بھی نظر ڈال لیتا ہے۔ یہ انسانی نفسیات ہے جب بھی دائرہ حیات تنگ ہوتا ہے تو اس کی زندہ رہنے کی جدو جہد تیز ہو جاتی ہے۔ اس لئے حقیقی انسانی رابطوں کی جگہ مصنوعی روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔

”کچھ تو اے یار علاجِ غمِ تنہائی ہو (عمران شناور) “

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ جب یہ نیا انسان اپنے پرانے سیارے پر واپس جائے گا تو اس دنیا کے خدو خال کیا ہوں گے۔ جب یہ تنہائی کا طوق اتارا جائے گا تو کیا یہ نیا انسان اپنی پرانی روش پر لوٹ آئے گا یا اپنی ترجیحات بدلے گا۔

اس تنہائی کے بعد بھی مذہب اور سائنس اپنی الگ شناخت برقرار رکھیں گے یا ہم اسے اپنی ذہنی پسماندگی کی بھینٹ چڑھا کر دوبارہ ایک ملغوبہ بنا دیں گے؟ مگر ایک بات تو طے ہے کہ اس پرانے سیارے کے رنگ بہت مختلف اور گہرے ہوں گے اور اس کھڑکی سے جہاں سے آج قرنطینہ کی تنہائی جھانکتی ہے وہاں کل موسمِ گل کا نظارہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *