پاکستان میں رضاکارانہ کام اور وزیر اعظم کووڈ 19 ریلیف ٹائیگر فورس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی آفت کے موقع پر کیا کرنا ہے اس کی منصوبہ بندی ہمیشہ پہلے سے کی جاتی ہے۔ تیاری اور آفات سے نپٹنے کی اپنی صلاحیتوں کو بڑھانے کا عمل عام حالات میں بھی مسلسل جاری رہتا ہے۔ جیسے ہی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے آفات سے نپٹنے کا نظام ایک مشین کی طرح متحرک ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں پچھلی دو دہایوں میں ملکی تاریخ کی بڑی قدرتی آفات کے باوجود بھی ہمارا نظام آفت آنے کے بعد ہی متحرک ہوتا ہے۔ آفات کی روک تھام، تخفیف اور طویل مدتی تیاری کے مراحل میں اقدامات کا فقدان ہے۔ حکومت اور رفاہی اداروں کا رضاکاروں کو منظم کرنا اور بحران کی تیاری اور طویل مدتی بحالی میں شامل کرنا ہنگامی حالات کے انتظام کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ طویل مدتی اقدامات اکیلے کسی حکومت کے بس کی بات نہی، اس لیے رضاکاروں کو ہر سطح پر بھرتی کیا جاتا ہے۔

رضاکارانہ کام وہ کام ہیں جو لوگ خدمت کے جذبہ کے ساتھ اپنا وقت اور مہارت مختلف شعبوں میں دیتے ہیں۔ رضاکارانہ خدمات میں شامل ہونا ہمارے معا شرے اور ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ رضاکارانہ کام معاشرے میں ایک مثبت انداز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ بیرونی ممالک میں لوگ ہر طرح کی وجوہات کی بناء پر رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات دیتے ہیں۔ زیادہ تر رضاکاروں کا کہنا ہے کہ یہ بہت فائدہ مند ہے اور نئی مہارتیں سیکھنے، دوست بنانے اور کام کا تجربہ حاصل کرنے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔ یہ بہتر ملازمت کے امکانات بڑھاتا ہے، معاشرے کی بھلائی میں اپنا کردار ادا کرنا، نئے علم اور تجربے سے اپنی موجودہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور بہتر صحت برقرار رکھتا ہے۔ رضاکار بننے سے، آپ نہ صرف دوسرے لوگوں کی مدد کرتے ہیں، بلکہ آپ اپنی مدد بھی کرسکتے ہیں۔

رضاکارانہ کام کے اہم شعبوں میں سماجی اور قانونی خدمات، شہری اور ماحولیاتی آگاہی اور وکالت، فنون اور ثقافت، تعلیم، صحت کی خدمات اور بین الاقوامی تعلقات اور ترقی شامل ہیں۔ ان مختلف شعبوں میں رضاکار انفرادی اور خاندانوں کو پرو بونو لیگل ایڈ خدمات، رہائشی دیکھ بھال، ملازمت کی تلاش، سماجی رفاہی تنظیموں کے دفاتر کے لئے انتظامی مدد فراہم کرنا، غیر منافع بخش اسپتال، کلینک اور صحت کے شعبے کی تنظیموں کی مدد، امن و سلامتی، انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور جنگلات کی حفاظت، شجر کاری، شہر، دریاؤں اور ساحلوں کی صفائی میں حصہ لینا، ماحولیات کی تحقیق میں معاونت اور آگاہی کی مہم چلانا شامل ہے۔

رضاکار بین الاقوامی آفات میں بھی علمی مدد کرتے ہیں۔ رضاکار صرف افرادی قوت نہی بلکہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے پیشہ ور طبقات انجینئر، ڈاکٹر اور محقق بھی ہو سکتے ہیں۔ ان مختلف قسم کی مہارت کا صحیح جگہ پر استعال یقینن ایک دشوار کام ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کا ”وزیر اعظم کووڈ 19 ریلیف ٹائیگر فورس“ کے نام سے رضاکار پروگرام شروع کرنا یقیناً اچھا قدم ہے۔ مگر جب اس احسن قدم کو ہم زمینی حقیقتوں سے ملاتے ہیں تو حالات مختلف نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اس کام کو دو اہم مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا، رضاکار کیسے اپنے تجربے کو ملازمت کے حصول اور اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے میں استعمال کریں۔ دوسرا عام حالات میں ادارے رضاکاروں کو کیسے مشغول رکھیں۔ تیسرا مختلف رفاہی شعبوں میں کام کرنے والے رضاکاروں کو ایک چھتری تلے منظم کرنا ہے۔

پاکستان میں ہر آفت کے بعد رضاکاروں کو منظم کیا جاتا جو کسی بھی تربیت کے بغیر صرف خدمت کے جذبہ سے جڑتے ہیں۔ موجودہ کووڈ 19 بحران سے نپٹنے میں پاکستان میں اعلیٰ مہارت رکھنے والے رضاکاروں پرمشتمل کئی ٹیمیں ملک کے مختلف حصوں میں کام کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں حفاظتی لباس، سپیلڑز وال، نان کنٹیکٹ تھرمیڑ، انسوویلٹر، خراب وینٹیلڑز کی درستگی جیسے پراجیکٹ شروع کر چکے ہیں۔ پیشہ ور افراد پر مشتمل یہ ٹیمیں چند افراد سے شروع ہو کر سیکڑوں افراد تک پہنچ گئی ہیں۔ ان ٹیموں کا آپس میں تو رابطہ ہے مگر یہ کس قدر حکومتی اداروں اور ان کی ضروریات سے منسلک ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل ہے۔

رضاکار آفت گزرنے کے بعد حاصل تجربہ ڈاکو منٹ کیے بغیر ہی اپنے اپنے کاموں پر واپس چلے جاتے ہیں۔ نئی آفت کی صورت میں پھر سے یہ مشق صفر سے شروع کرنی پڑتی ہے جس میں انتہائی قیمتی وقت اور اہم وسائل کا استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں سب سے مشکل کام ان تمام ٹیموں کو ایک مربوط نظام کے ساتھ ایک چھتری کے نیچے رکھنا اور بحران کے خاتمے کے بعد بھی ان کا کسی نا کسی صورت میں جڑے رہنا ہے۔ اگر یہ رضاکار عام حالات میں بھی ضلعی سطح پر شہری حکومتوں سے جڑے رہیں اور اپنی تعلیم تربیت، آگاہی مہم اور اندراج جاری رکھیں تو مستقبل میں فوری مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔

ایک مکمل دیرپا اور مستقل انتظام شہری سطح پر اداروں کے علاوہ جامعات اور پیشہ ور طبقات کے ساتھ شراکت داری قائم کیے بغیر ممکن نہی۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے جو انہیں ایک مربوط نظام کے نیچے لائین تاکہ یہ کام دیرپا ثابت ہوں۔ شہری حکومتیں اور سول ڈیفینس کا ادارہ اس میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ ضلعی سطح پر امن ہو جنگ، آفت ہو یا عام حالات، ہر صورت میں رضاکاروں کا منظم اور فعال ہونا نہایت اہم ہے۔ یہاں پر غیر منافع بخش اور کمیونٹی تنظیموں کے رضاکاروں کو بھی شامل کیا جانا ضروری ہے۔ اداروں کو نچلی سطح پر تعلیم، تربیت، منظم، رضاکاروں کو سارا سال مصروف رکھنا اور مستقبل کے منصوبوں کے ساتھ جوڑے بغیر رضاکاروں کی فوجیں حکومتی چھتری کے نیچے آنا مشکل ہے۔

”وزیر اعظم کووڈ 19 ریلیف ٹائیگر فورس“ اس میں ایک بھرپور کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر یہ کسی طور پرمستقبل میں بھی جاری رہتا ہے تو اس سے کئی دوسرے شعبوں میں بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ شہری حکومتوں کے نیچے یہ رضاکار بھرتی مہم سال بھر چلتی رہیں۔ ان کا ایک مکمل ڈیٹا اور پورا سال ان کو تعلیم تربیت میں مشغول رکھا جائے۔ پاکستان کو آفات کی روک تھام، تخفیف، تیاری، طویل مدتی مرحلے اور ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے جتنے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، اس کے لئے شہری سطح پر رضاکاروں کا منظم ہونا اہداف کے حصول کے لئے آسان ہو جائے گا۔

یاد رہے مناسب تربیت کے بغیر، غیر مربوط، شفافیت اور وسائل سے عاری رضاکار ایک اچھے مقصد کو بھی بگاڑنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور عجلت میں لئے گئے عارضی اقدامات کسی اچھے ایک اچھے مقصد کی اصل روح کو دھندلا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *