کرونا کے کچھ مثبت پہلو اور اثرات


اب تک کم و بیش اس دُنیا میں بسنے والے تمام ہی لوگ اس نئی وباء کے بارے میں اتنا کچھ جان چکے ہیں کہ مزید کچھ کہنا لکھنا فقط پہلے سے کہی گئی باتوں کا اعادہ ہی ہو گا اور یہ الگ بات کہ اس بیماری کے ڈر سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کچھ نیم حکیم لوگوں نے اپنی دکان چمکانے کے لئے نام نہاد قسم کے ٹوٹکے اور مفروضے مارکیٹ میں چھوڑنا ابھی تک نہیں چھوڑے۔

اس مرض نے جہاں ہم انسانوں کو ہر طرف سے اور ہر لحاظ سے ڈرایا ’وہیں اگر ہم اس کے کچھ مثبت پہلو دیکھیں تو زندگی میں کچھ نئی جہتیں اور بالخصوص ہمارے معاشرے کو بہت کچھ نیا ملے گا اور معاشرے کی مجموعی ترقی کو نئی راہیں میسر آئیں گی۔

اس وبا کے دوران چین کے حالات نے ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی اہمیت کو جس طرح اجاگر کیا اور عالمی مارکیٹ میں اس کی کمی نے ہمارے مقامی تحقیق دانوں اور ہنرمندوں کو اپنے طور پہ اسے کم خرچ اور کم وقت میں تیار کرنے پہ جس طریقے سے کام کیا وہ ثابت کرتا ہے کہ ہماری یونیورسٹیز محض بیروزگار ہی پیدا نہیں کرتیں اگر ان کو مناسب سہولتیں دے کر دانشمندی سے استعمال کریں تو ہم مقامی طور پر ہی بہت سی چیزوں میں خودکفیل ہو کرملک کو معاشی فائدہ بھی پہنچا سکتے ہیں۔

لاک ڈاوَن کی صورتحال نے ہمیں ایک موقع فراہم کیا کہ ہمارے معاشرے کی خاندان جیسی بنیادی اکائی جدید ٹیکنالوجی کے باعث جس افراتفری اور بے ہنگم پن کا شکار ہو گئی تھی اُسے پھر سے بیٹھ کر درست کر لیا جائے اور جہاں جہاں کوئی میم میخ درست کرنے کی ضرورت تھی وہ نپٹا لی جائے تاکہ آئندہ نسل بھی خاندانی نظام سے اسی طرح مستفید ہو سکے جیسے کے پہلے والے اس سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں۔

ہمارے علما اوردانشور ہمیں سادگی کا درس دیتے رہے جو ہمارے کانوں پہ جوں تک نہ رنگوا سکا لیکن اس وبا نے ہماری ساری کی ساری تقریبات کو سادگی کا ایسا سبق سکھا دیا کہ یہ تقریبات مدتوں نہ صرف یاد رہیں گی بلکہ ان کی ضرب المثال بھی جلد ہی بن جائیں گی۔ اس موقعے سے یہ ثابت ہو گیا کہ اگر ہم نیک نیتی اور صدق دل سے چاہیں تو یہ تقریبات سادگی سے بھی ہو سکتی ہیں۔ کوئی کسی کی ناک نہیں کٹتی ’زندگی پہلے ہی کی طرح چلتی رہتی ہے۔

اس وبا سے صفائی اور پاکیزگی کا جو درس پورے عالم کو ملا ہے اس سے بھی یقیناً آنے والوں دنوں میں ہمیں اپنے آس پاس صفائی رکھنے اور حفظانِ صحت کے اصولوں پہ عمل کرنے میں آسانی رہے گی اور صفائی کو نہ صرف گھروں بلکہ دفاتر ’بازار‘ پارک اور ایسی دیگر جگہوں پر بھی فوقیت دی جائے گی۔

لازم درسی تعلیم کے ساتھ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو ہنرمند بھی بنا دیں تو یہ ایسے حالات کے لئے بہت زیادہ کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو آن لائن ڈیٹا بھی مرتب کر لینا چاہیے جس سے ہم بروقت معلومات لیں سکیں کہ لاک ڈاوَن کے حالات میں کس طرح اور کس قسم کے لوگوں کو باہر نکلنے کی اجازت دی جائے کہ معیشت کا پہیہ نہ رُکے اور دیہاڑی داروں اور غریبوں تک کیسے راشن پہنچایا جا سکے۔

آخرمیں دورِ حاضر کی ایک بہت ہی جاندار اور دل سے شاعری کرنے والی شاعرہ سیدہ منزہ صاحبہ کی شاعری سے کچھ انتخاب:

سناٹا گلی کوچوں میں ہے چھایا ’یا رب خیر کرنا
وبا کا چار سُو ہے سایہ ’یا رب خیر کرنا
سبھی گریزاں ہیں ملنے ملانے سے آج کل
دلوں پہ خوف کا ہے پہرہ ’یا رب خیر کرنا
ابھی ویران ہیں مسجد ’کلیسا اور مندر
انسان کو ابھی ہے خطرہ ’یا رب خیر کرنا

Facebook Comments HS