ذائقوں سے بھرے رنگ- کھانے کی پینٹگز


غذا کسی بھی خطے کی تہذیب و ثقافت اور وہاں بسنے والے لوگوں کے مزاج کی عکاس ہوا کرتی ہے۔ ہر نسل اپنے پرکھوں کی خوراک میں کچھ نیا شامل کر لیتی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے یوں ہی رواں ہیں۔ پتوں اور جانوروں کے شکار سے یہاں تک پہنچتے پہنچتے انسانی غذا نے بہت اشکال بدلی ہیں۔ رہی سہی کسر میگڈونالیزیشن اور کوکاکولائزیش کی صورت میں بین الاقوامی فوڈ چینز نے پوری کر دی۔ دھائیوں تک اس آسان غذا کی خوش ذائقی کے بعد دنیا واپس دیسی پکوانوں کا رخ کر رہی ہے۔

خوراک انسانی زندگی اور بقا کا اہم جزو ہے۔ تو کس صورت فلسفہ، مذہب، ادب وآرٹ سے الگ رہ سکتی تھی۔ ہمیں افلاطوں کی ’ری پبلک‘ سے قدیم قصوں تک خوراک کا تذکرہ ملتا ہے۔ دوسری طرف یونانی آرٹ کی تاریخ سے اہرامِ مصر کی اندرونی دیواروں تک خوراک آرٹ اور بلخصوص مصوری کا اہم موضوع رہی ہے۔ وینسی کی ’دا لاسٹ سپر‘ ہو Carracci کی ’The Beaneater‘ ہو، وین گاف کی ’دی پوٹیٹو ایٹر‘ ہو یا ورمیر کی ’The Milk Maid‘ غذا یورپ کی ہر آرٹ کی تحریک کا حصہ نظر آئی۔ کبھی حقیقت پسندی کی تحریک کی صورت اور کبھی کافی آرٹ اور کونزیومر کلچر کی شکل میں۔

مریم ارسلان اس روایت میں اپنا حصہ ایک مختلف طرز میں شامل کرنے والی مصورہ ہے جس نے غذا اور پکوان کو اپنے فن میں نیا روپ دیا ہے۔ مریم نے روزمرہ کے کھانوں کا انتخاب اس چالاکی سے کیا کہ وہ اپنے رنگوں سے ایک بڑی مقدار کی غذائیں پینٹ کر سکے۔ یہ پینٹنگز صرف پوش ڈائنگ کے کمروں یا باورچی خانوں کی زینت بننے کی بجائے موجودہ دور کی روایتی اور جدید غذاؤں کی تصویری تاریخ بنتی دِکھائی دے رہی ہیں۔

ریلیزم کی تحریک کے دوران کھانے پینے کی چیزوں کو صرف اُن کے اصلی روپ میں کینوس پر اتارا جاتا رہا۔ مریم کا کام جہاں ان غذاؤں کو ایک رنگوں کی شکل دے رہا ہے وہاں کھانے والے کی زندگی میں ان غذاؤں کی اہمیت اور دلچسپی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ کچھ پینٹینگز ایسی ہیں جو کھانے کی استعمال شدہ حالت کو تصویر کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں۔ کوکنگ میگزین یا ریسٹورینٹس کے اشتہارات میں جی لبھانے کے لئے کھانے کی غیر حقیقی اور مصنوعی تصاویر بنائی جاتی ہیں جس کے پیچھے مارکیٹنگ اور کھانے کی ترغیب دے کر کمائی کے سوا کچھ مقصد نہیں ہوتا۔

بانظرِ غائر دیکھا جائے تو مریم کا کام ان دونوں مقاصد کو پورا کر رہا ہے۔ یعنی وہ بیک وقت ریلیسٹ اور کمرشل پہلو پورے کر رہی ہے۔ مگر بطور فن کار اُس کی مہارت ان کھانوں کو طرح طرح کی سطح پر پینٹ کرنا ہے۔ اُس نے صرف کینوس پر اکتفا نہیں کیا بلکہ سٹیل پلیٹس، لکڑی، شیشہ اورچینی کے برتنوں کو اپنے کام کے اظہار کے لئے موزوں جانا ہے۔ مریم کے کام میں کھانوں کا ایک میلہ لگا ہے۔ ناشتے کی اجلت میں بنائے جانے والے انڈے سے، فرائز اور گلاب جامن سے پوش ہوٹلوں میں پیش کیے جانے والے ہائی ٹی پلیٹر تک سب دستیاب ہے۔

کچھ فن پارے ایسے ہیں جہاں پینٹگ ایک کہانی کی شکل میں داخل ہو جاتی ہے۔ وہ ڈونٹ اور سٹابری کے جنگل اگاتی ہے اور کھانے کے اصل رنگوں کی بجائے انہیں اپنے پسندیدہ رنگوں سے رنگ دیتی ہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے اُس نے کچھ بھی اور تخلیق کرنے کی بجائے کھانوں اور پینٹنگ میں اپنی مشترکہ دلچسپی کو اپنی تخلیقی قوتوں سے فنی شکل دی ہے۔ اُس کے برش کے سٹوک اور رنگوں کی پرتیں اس کے کرافٹ کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

جہاں خوراک کے علاوہ برتن اور کراکری دِکھانا مقصود تھا وہاں اُس نے تھری ڈی کی تیکنیک کا سہارا لیا اور کسی ایسی سطح پر پینٹ کیا جس سے کثیر الجہت تاثر ابھر کر سامنے آسکے۔ جیسے فرائی پین، لکڑی کے فریم یا شیشے کی میزیں۔ یہ سب کرنے کے لئے اُسے بے بہا رنگوں کا استعمال کرنا پڑا جس میں وہ ہرگز بخیل نہیں ہے۔ ان فن پاروں میں جزئیات کی انتہا یہ ہے کہ کچھ جگہوں پر کسی پکوان کے اجزا کی ہیت اور پک جانے کے بعد کی شکل یہ تک واضح کر دیتی ہے کہ اس چیز کو کتنی دیر یا کتنے درجے پر بھونا یا فرائی کیا گیا ہے۔

یہ مثال ہمیں ’بریک فاسٹ ایگ‘ ، ’مکس سبزی‘ یا ’براونی‘ جیسی پینٹنگز میں بہت آسانی سے دِکھائی دیتی ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر کمال یہ ہوا کہ کسی چیز کے ٹھوس، مائع یا محلول ہونے کی جزئیات بھی اتنی نفاست سی کھینچی گئی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے برگر سے کیچپ نکل رہا ہے اور آئس کریم کی چاکلیٹ بہنے لگی ہے۔ ان فن پاروں میں رنگ بھرے ذائقے کسی خاص قسم یا علاقے کی غذاؤں کا نہیں بلکہ پھلوں سے لے کر ہانڈیوں اور فاسٹ فوڈ سے لے کر انواع واقسام کی سویٹس تک کئی ڈشز تک پھیلے ہیں۔

بظاہر یہ بات بہت معمولی سی محسوس ہوتی ہے کہ کوئی مصور کھانے پینے کی چیزوں کو پینٹ کر رہا ہے۔ نقادوں کے نزدیک یہ شاید سنجیدہ آرٹ بھی نہ ہو۔ باورچی خانوں کے لئے بنائی گئی غذاؤں کی کپڑوں پر کشیدہ کاری یا ڈرائنگ ہو یا پھر مڈل کلاس کے کچن میں لگی امرودں والی معروفِ زمانہ ٹائلز، ان کو تو ہم محض تزئین و آرائش یا ڈیکوریشن کہہ سکتے ہیں مگر ایسے کام کو ہرگز نہیں جو فنی سطح پر جمالیاتی طور پر سماج اور انسان کے احساسات کے ساتھ جڑ رہا ہو۔

مریم ارسلان کے  کام کی ملکی اور بین الاقوامی گیلریز میں نمائش ہو چکی ہے۔ رواں برس 5 مارچ کو ان کے کھانوں اور رنگوں نے تاثیر آرٹ گیلری میں رونقیں سمیٹیں۔ مریم نے کسی بھی چیز کو انفرادی طور پر چن کر مصورنہیں کیا بلکہ وہ ایک سریز میں کام کرتی ہیں۔ اس سے پہلے وہ اپنی شخصیت اور خاکوں کو ایک سیلف پورٹریٹ سریز کی صورت مکمل کر چکی ہیں۔ وہ چاہتی تو کسی بھی اورپہلو کو چنا جا سکتا تھا مگر غذا اور کھانے پینے کی اشیاء کا انتخاب اُن کے کام کے ساتھ اُن کی ذات کی تشفی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور جب کوئی فن پارہ فنکار کی ذات میں جذب ہو کر تخلیق ہوتا ہے تو اُس کی بات ہی الگ ہوتی ہے۔ تبہی تو یہ گمانہ ہوتا ہے کہ یہ مصوری صرف آنکھوں کے لئے نہیں کیونکہ ان فن پاروں پر نظر ڈالتے ہی پیٹ میں چوہے دوڑنے لگتے ہیں اور منہ پانی سے بھر جاتا ہے۔

Facebook Comments HS