اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی

Read more

ملتانی ملنگ

”ہیلو ہیلو! ایکسیوز می۔“ اس نے ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں سب کو متوجہ کیا اور کھانسنے کے بعد ڈائس پر رکھی تحریر پڑھنے میں لگ گیا۔ یہ رپورٹ اُس نے ابھی ابھی باہر انتظار گاہ میں بیٹھ کر لکھی تھی۔ اُس کے بال بکھرے تھے اور لگ بھگ چار پانچ دن کے بالوں نے بھری رخساروں پر سیاہی پھیری تھی۔ اُس کی توند ایک نیم فارمل قسم کی شرٹ میں تقریباً ایسے پھنسی تھی کہ جلد کی آخری

Read more

منور آکاش: ترجمہ شدہ آدمی

منور آکاش کو میں نے پہلی دفعہ کب اور کہاں دیکھا، مجھے یاد نہیں۔ نہ ہی یہ یاد ہے کہ ہماری پہلی ملاقات کب ہوئی تھی۔ یقیناً ہم پہلی دفعہ گول باغ کی کسی محفل، ملتان آرٹس فورم یا ذکرین لٹریری فورم کی کسی نشست میں ملیں ہوں گے۔ مجھے اتنا یاد ہے اس زمانے میں وہ اتنا دل برداشتہ نہیں ہوا تھا کہ ہمہ وقت اپنا سر بالوں سے پاک رکھے، بلکہ اس زمانے میں کونے کھدرے کے بالوں

Read more

جہاں آباد کا شاعر اور بنگال کی دیپتی

تاریخ، سیاست اور ادب کے تعلق کی کہانی اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان اور طاقت کے ساتھ اس کی جڑت کی داستان۔ مذاہب کی تاریخ دیکھ لیں، قانون اور اصولوں کے بننے کی وجوہات ڈھونڈ لیں یا ایوانوں کی راہداریوں میں پہنچنے والوں کی داستان سن لیں، سب کہانیاں طاقت کے حصول اور اس کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں لپٹی نظر آئیں گی۔ انسان نے سب سے زیادہ نقصان بھی اپنی ہی نسل کو پہنچایا ہے اور اسی

Read more

غبارہ موومنٹ کا جوکر

فنکار (اگر واقعی فنکار ہو تو ) اپنے کام، اطوار، روئیے، اور گفتگو (فن کارانہ و غیر فن کارانہ) کے علاوہ اپنے بظاہر حلیے اور ظاہراً شخصیت سے بھی جان لیا جاتا ہے۔ اور اس جاننے سے پہچاننے کی ابتدا ہوتی ہے۔ میرا پہلا تعارف ان کے اسی ظاہراً فن کارانہ لک سے ہوا تھا۔ یہ 2007 کے غروب ہونے سے ذرا پہلے مہینوں کی بات ہے جب میں ہر شام اپنی کچی پکی نظموں، غزلوں سمیت گول باغ پہنچ

Read more

اصغر ندیم سید کی کتاب ’پھرتا ہے فلک برسوں‘ کے خاکے

افسانے میں کہانی اور کردار دونوں مصنف کی انگلیاں پکڑ کر چلتے ہیں اور کبھی اسے چلاتے ہیں، کہانی میں کردار کی شخصیت بنانا مصنف کی چند بنیادی ترجیحات میں سے ایک ہوتا ہے جبکہ خاکہ اس کے برعکس ہے۔ آپ کے پاس ایک ہی شخص ہے، جسے کردار بھی بنانا ہے اور کہانی بھی۔ مگر خاکہ کہانی تو نہیں ہوتا۔ خاکہ کہانی نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی ادھوری، ٹوٹی ہوئی، بھولی ہوئی، مٹائی ہوئی کہانیاں ہوتی ہیں۔ جنہیں

Read more

غصیلا درویش

گول باغ کے کسی چائے خانے میں اگر آپ ایک بھاری بھر کم شخص کو بیٹھا دیکھیں، جس نے کاٹن کے کھلے پاجامے پر ٹی شرٹ پہنی ہو، اس کی انگلیاں طرح طرح کے نگینوں والی انگوٹھیوں سے بھری ہو اور کسی انگلی میں تو دو انگوٹھیاں ہو، اور وہ کبھی اپنے یاقوت کو سیدھا کرے اور کبھی فیروزہ کی سمت درست کرے، پھر اپنی کلائیوں میں ایسے ہی نگینوں سے بھرے چاندی کے کڑے سیدھے کرے، ٹانگ پر ٹانگ

Read more

پانی پر تیرتا بھنورا – فرخ حماد

وہ مجھے ہر دوسرے دن بس میں نظر آتا، اکثر ایک ہی نشست یا اس کے آس پاس کہیں بیٹھا۔ بس میں بیٹھتے ہی وہ اپنا بھورا بستہ اپنی گود میں رکھ لیتا اور اس میں سے آوازیں سننے والی تاریں برآمد کر کے کانوں میں گھسا لیتا۔ بظاہر وہ ایک باڈی بلڈر لگتا تھا مگر سورج کے سوا نیزے پر آئی گرمی میں بھی ایک اضافی شرٹ پہن کر آتا مبادا دھول سے بچا رہے۔ جس دن یہ اضافی

Read more

ماسٹر سٹیفن پر اچٹتی نظر

میں نے جب اسے پہلی بار دیکھا تو وہ اب سے کچھ کم جوان تھا اور کسی روسی ناول کے کردار کی امریکی پیش کش لگتا تھا۔ جو اک ہجوم اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اردو کسی نئے انداز میں بولنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہلکے رنگ کی جینز کے ساتھ گہرے رنگ کی شرٹ اور چوڑے فریم کی عینک پہنتا تھا۔ اس کے کان بالوں سے ڈھنکے تھے اور اب کی نسبت توند کچھ نکلی تھی۔

Read more

پیپل کی چھاؤں میں اگا انگارہ

تاریخ یا مہینہ تو یاد نہیں البتہ دن جمعہ کا تھا۔ میں حسب روایت علی ہسپتال سے نو نمبر کی ویگن پکڑ کر گول باغ پہنچا تھا۔ ویگن جس جگہ رک کر مسافروں کو اتارتی عین اسی جگہ ایم ڈی اے (ملتان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) کی کچرے سے بھری ٹرالی منہ کھولے منتظر ہوتی۔ کبھی کبھی تو ویگن سے اترتے ہوئے پاؤں کسی تھیلے، چھلکے یا استعمال شدہ بنیان پر آ جاتا۔ ان بھبکوں سے محظوظ ہوتا، دامن بچاتا میں عمارت

Read more

موت سے جنم لیتی کہانی۔ دشت امکاں

کہانی ایک خاتون کی اپنے مرحوم شوہر کی زندگی کی روداد سے شروع ہوتی ہے اور زمان و مکاں سے بہت دور کرداروں کے سہارے چلتی ہوئی صحرا کی ریت کے ذروں میں کہیں جا سوتی ہے۔ کہانی ختم ہونے کے بعد بہت دیر آپ کہانی سنانے والی کے بیان سے جنم لینے والے پہلے مکالمے کو یاد کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ کئی مکالموں کو جنم دیتا ہے۔ مرحوم شوہر بہت بڑے مؤرخ تھے، ان کا نام جو بھی

Read more

آنکھیں ملتا صوفی۔ ریحان اقبال

آپ اسے صوفی کہہ لیں، سست اور آرام پرست سمجھ لیں، بے ضرر سا ذرہ سمجھ لیں، اصول پسند نظریاتی مان لیں یا فلسفوں میں الجھا ہوا مذہبی تصور کر لیں۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ آپ کی سمجھ کا پاس رکھے گا اور آپ ہمیشہ اسے وہی سمجھتے رہیں گے جو آپ سمجھ رہیں ہیں۔ وہ اتنا کثیر الجہت نہیں کہ یہ سب خوبیاں خود میں رکھتا ہو مگر وہ اتنا وسیع المزاج ضرور ہے کہ آپ

Read more

خالد سعید: صحرا میں نخلستان

بوسن روڈ کے اطراف شیشوں میں لپٹے شاپنگ پلازوں کی بنیادوں میں پرنسٹن سگریٹ کی وہ راکھ شامل ہے جو کئی منطقی مباحث کے دوران بنی۔ ایسے ہی ایک پلازے کی جگہ سنٹرل کالج ملتان تھا۔ جس کے احاطہ میں ایک شخص اپنی ٹانگوں کو قینچی بنائے، بایاں ہاتھ بغل میں گھسائے، راکھ بنانے میں مشغول جھوم رہا تھا۔ راکھ کپڑوں میں اکٹھی ہوتی اور نیلی جین سے نیچے اتر جاتی۔ یوں ہی جھومتے اچانک اس نے سگریٹ گرائی، ”اچھا

Read more

مہانوں کی بستی میں بسرام کرتے: سید نجم الحسن

تصویر کی تعریف میں تصور کو جس طرح معدوم کر کے صورت و نقش کو اہم بنایا گیا یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہانی سے اہم کردار کو جانا گیا۔ تصویر ایک دھڑکتے لمحے کو ساکت شکل میں زندگی کی گرمی بخشتے ہوئے وہ دھڑکتا لمحہ ہمیشہ کے لئے امر کر دیتی ہے، لیکن کہانی یہاں اختتام پذیر نہیں ہوتی، بلکہ یہ تو کہانی کی ابتداء ہے۔ وہ دھڑکتا لمحہ بالکل اس اچھوتے خیال جیسا ہوتا ہے جو کہانی

Read more

معنی کی تلاش میں بھٹکتے افسانے

افسانہ کسی ایک جملے، واقعے یا کردار پر لکھا جا سکتا ہے، یعنی آپ محض ایک جملے کو حیات بخشنے کی خاطر ایک کہانی ترتیب دیتے ہیں اور اس کہانی میں کہیں وہ جملہ ایسے پرو دیتے ہیں کہ وہ پورے متن سے رشتہ جوڑ لے۔ وہ جملہ کہلوانے کی چاہ میں ایک کردار پکڑا جاتا ہے اور اس کردار کی شخصیت، سماجی زندگی اور نفسیاتی صورت حال کو ایسے نکھارا جاتا ہے کہ وہ ایک جملہ اس کے منہ

Read more

جاوید صدیقی کے خاکوں کا روشن دان

جاوید صدیقی کے خاکوں کی کتاب ’روشن دان‘ ایسی روشن، قیمتی اور دلچسپ شخصیات سے متعارف کراتی ہے کہ کچھ دیر کے لئے جاوید صدیقی سے حسد ہونے لگتا ہے کہ کیسی نایاب کہکشائیں انہیں میسر رہیں اور وہ ان کے ساتھ رشتوں میں جڑے رہے۔ اس کتاب میں دس شخصی خاکے ہیں۔ خاکے کیا ہے، محبت نامے ہیں اور کہانیاں ہیں جو پل پل مڑتی ایک نئی کروٹ لیتی چلی جاتیں ہیں۔ ان خاکوں کا مزاج اردو کے روایتی

Read more

ذائقوں سے بھرے رنگ- کھانے کی پینٹگز

غذا کسی بھی خطے کی تہذیب و ثقافت اور وہاں بسنے والے لوگوں کے مزاج کی عکاس ہوا کرتی ہے۔ ہر نسل اپنے پرکھوں کی خوراک میں کچھ نیا شامل کر لیتی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے یوں ہی رواں ہیں۔ پتوں اور جانوروں کے شکار سے یہاں تک پہنچتے پہنچتے انسانی غذا نے بہت اشکال بدلی ہیں۔ رہی سہی کسر میگڈونالیزیشن اور کوکاکولائزیش کی صورت میں بین الاقوامی فوڈ چینز نے پوری کر دی۔ دھائیوں تک اس آسان

Read more

ادھورے آدمی کی مہلت

ناول کا آخری صفحہ پلٹتے ہوئے اُس کے چہرے کے تاثرات بد لنے لگے اور آنکھوں میں بھرا پانی اخراج کا راستہ تلاش کرنے لگا۔ آخری صفحے کے لفظ دھندلا رہے تھے۔ اُس نے سوچا میں ایسی ہی ایک کہانی پر سالوں سوچتا رہا ہوں جس کے کردار اپنی زندگیوں میں ان کردارں سے کہے ں بڑے تھے۔ متن کی آخری سطور ختم ہوتے ہی اُس نے اِس بین الاقوامی پذیرائی حاصل کرنے والے نادل کے ٹاءٹل کو دیکھا اور

Read more

کانچ کا پُتلا: صادق علی شہزاد

اُسے مکمل علم نہ تھا کہ یہ یونانیوں کا نظریہ ہے یا رومیوں کا، مگر وہ اِس کامل یقین کے ساتھ اُسے سمجھا رہا تھا کہ گمان ہوتا تھا یہ اُس کا اپنا ہی بنایا اور پالا ہوا نظریہ ہے کہ ساری دنیا کا یہ نظام عورت اور مرد کے وجود کے فرق سے کام کر رہا ہے اور اِس پورے نظام کی تخلیق کا بنیادی مقصد اُس فرق کے ساتھ، عورت اور مرد کا ایک دوسرے سے محبت کرنا

Read more