چینی مافیا کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ کون اور کیوں منظر عام پر لایا؟ حامد میر کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی حامد میر نے ایف آئی اے کی جانب سے آٹے اور چینی بحران کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے دور میں اُن کی پارٹی اور حکومت کے وزیروں کی کرپشن کی کہانی وہی واجد ضیاء سامنے لائے ہیں جو شریف خاندان کے بارے میں بھی جے آئی ٹی رپورٹ لے کر آئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق حامد میر نے مختلف ٹویٹس کرتے ہوئے کہا ہے کہ زبان خلق نقارہ خدا ہوتی ہے، خلق خدا پہلے ہی جانتی تھی چینی چور کون تھے؟ جس جس نے چینی چوروں کے بارے میں سوال اٹھایا اسے غدار قرار دے کر چپ کرانے کی کوشش ہوئی لیکن جب ناقابل تردید ثبوت سامنے آ گئے تو پھر مجبوری میں رپورٹ سامنے لانی پڑی کیونکہ خلق خدا سے کچھ نہیں چھپایا جا سکتا۔

ایک دوسرے ٹویٹ میں حامد میر کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں ان کی پارٹی اور حکومت کے وزیروں کی کرپشن کی کہانی وہی واجد ضیاء سامنے لائے ہیں جو شریف خاندان کے بارے میں بھی جے آئی ٹی رپورٹ لے کر آئے تھے، اس وقت نواز شریف کی حکومت تھی، کریڈٹ حکومت کو نہیں، واجد ضیاء کو ملا ۔ نئی رپورٹ کا کریڈٹ بھی ا نکا ہے، کسی اور کا نہیں۔

حامد میر نے رات گئے اپنے تیسرے ٹویٹ میں کہا کہ واجد ضیاء نے کوئی دھماکہ نہیں کیا۔ اس نے اپنی رپورٹ میں ان حقائق کی تصدیق کی جو غدار اور “لفافہ” میڈیا پہلے ہی بتا چکا تھا اس رپورٹ سے ثابت ہوا کہ ٹی وی چینلز اور اخبارات پہلے سے سچ بول رہے تھے لیکن سوشل میڈیا پر کچھ اصل “لفافے” چینی چوروں کے حق میں جھوٹ بول رہے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں ملک میں پیداہونےوالےآٹےاورچینی بحران کےحوالے سے ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پرآگئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا۔ دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔

رپورٹ میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کے سمدھی چودھری منیر کے بھی پیسے کمانے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *