بڑے شہروں کے فائیو اسٹار ہسپتال اور قصباتی مریض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تنویر جہاں نے اپنا تجربہ “مجھے وینٹی لیٹر نے نئی زندگی دی ” بیان کرتے ہوئے ایک سوال اٹھایا ہے کہ ہمارے ہاں صحت کی سہولیات کا کتنا فقدان ہے اور پھر وہ صحت کی سہولیات کے لیے ایک مہم کا آغاز کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے دعوت دی ہے کہ لوگ طبی سہولیات کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کریں۔

مجھے بہت سی راتیں یاد آ رہی ہیں، جب میری والدہ کی طبیعت خراب ہوتی تھی تو ہمیں لاہور بھاگنا پڑتا تھا۔ میرا تعلق راہوالی، گوجرانوالہ سے ہے۔ گوجرانوالہ لاہور سے کار پر ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے اور اگر لوکل ٹرانسپورٹ استعمال کی جائے تو یہ فاصلہ کم از کم تین گھنٹے پر مشتمل ہے۔ گوجرانوالہ میں ایک سول ہسپتال، ایک کمبائینڈ ملٹری ہسپتال جس کو عام زبان میں سی ایم ایچ کہتے ہیں اور کچھ پرائیویٹ ہسپتال ہیں۔ ہمارے دیہاتوں میں جب لوگ سیریس بیمار پرتے ہیں اور لوکل ڈاکٹر مریض کو لاہور لے جانے کے لیے کہتے ہیں تو مریض کے گھر والے رونا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ عموما جب ایک شدید بیمار شخص کو لاہور بھیجا جاتا ہے تو یا تو وہ راستے میں ہی دم توڑ دیتا ہے یا پھر کچھ دنوں بعد فوت ہو جاتا ہے۔ بہت کم لوگ تندرست ہو کر واپس جاتے ہیں۔

چونکہ میری امی کو ایک سے زیادہ بیماریاں تھیں تو ہمیں لاہور میں بھی مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا تھا۔ دل کے مرض کے لیے ماہر امراض قلب، ٹانگ کی درد کے لیے ارتھو پیڈک اور معدے کے لیے الگ ہسپتال، الگ ڈاکٹر، تو ہمیں کافی تجربات ہیں۔

ہمیں روٹین میں مہینے میں ایک بار ان کو لاہور لانا ہوتا تھا مگر جب وہ زیادہ بیمار ہو جاتیں تو ان کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑتا مریض کو بازار کا کھانا تو نہیں دیا جا سکتا، اسی لیے گوجرانوالہ سے کھانا بھی پک کر آتا۔ ایسے موقعوں پر امی کے ساتھ چوبیس گھنٹے رہنے والا ہمیشہ میرا بھائی اعجاز ہوتا۔ خدا اس کو ہمت اور تندرستی دے، بہت ہمت اور حوصلے کے ساتھ وہ ہفتوں ہسپتال میں رہتا، راتوں کو جاگتا اور امی کی ہلکی سی آواز پر چوکس ہو جاتا۔ میں ان ہسپتالوں کو فائیو اسٹار ہسپتال کہتی ہوں۔ جن کے ریٹس فائیو سٹار والے ہیں جبکہ سروس ٹو سٹار والی ہے۔ کمرہ لینے سے پہلے پوچھا جاتا ہے کونسے ریٹ والا کمرہ چاہیے؟ ٹسٹ اگر کمرے میں کرانے ہیں تو اور پیسے جمع کروا دیں۔ اگر مریض زیادہ بیمار ہے تو ڈاکٹر دو دفعہ وزٹ کرے گا اور پیسے ڈبل ہو جایئں گے۔ مگر سٹاف کی ٹرینگ صرف بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرنے تک ہی ہے۔ سٹاف نہایت لاپرواہی سے زور دار آواز سے دروازہ کھولتا اور بند کرتا ہے۔ کھانے کی میز گھسیٹ دینا، بے دردی سے بیڈ کو ہلا دینا عام سی بات ہے۔ ہسپتا ل سٹاف یا ڈاکٹرز کے لیے تو مریض، شدید مریض یا موت عام سی بات ہے مگر ان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ جس کے قریبی عزیز ہوتے ہیں ان کے لیے اس وقت دنیا ختم ہو جاتی ہے جب ان کا مریض مر جاتا ہے ۔

لہذا میرے خیال میں جب ہم صحت کی سہولیات کی بات کرتے ہیں تو ہمیں ڈاکٹرز، سٹاف اور ہسپتال کے عملے کی پروفیشنل تربیت کی بات کرنی پڑی گی۔ جس میں تکنیکی تربیت کے علاوہ، پروفیشنل ethics ، کمونیکیشن، قوت برداشت کو بڑھانے جیسی ٹرینگ بھی ہونی چاہیے۔ ایک اور اہم بات، سپورٹ سٹاف کا سارا دھیان ٹپ پر ہوتا ہے۔ سپورٹ سٹاف کو ٹپ دینی چاہیے مگر ان کی سروس کو اس سے فرق نہیں پڑھنا چاہیے۔ ان فائیو سٹار ہسپتالوں میں صفائی تسیلی بخش نہیں ہوتی۔ یہ کہانی تو ان لوگوں کی ہے جو صحت کی سہولیات خریدتے ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک کہاوت ہے کہ خدا کسی کو بیماری اور مقدمے کا سامنا نہ کرنا پڑے ورنہ گھر اور خاندان اجڑ جاتے ہیں۔ لہذا ہمیں اس بات پر زور دینا چاہیے کہ سہولیات صرف لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ تک نہیں محدود ہونی چاہیں ان کو چھوٹے شہروں اور دیہاتوں تک لے جانے کی بات کرنی ہے۔

انہی تجربات میں ہمارا سامنا نہایت پروفیشنل، اپنے کام کے ماہر ڈاکٹرز اور جونیئر سٹاف سے بھی ہوا ہے جو اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں۔ میری امی ہمیشہ ایسے ڈاکٹرز کے پاس جانا پسند کرتی تھیں جو ان کی پوری بات سنتے تھے، وہ کہا کرتی تھیں کہ انسان کی آدھی بیماری کٹ جاتی ہے اگر ڈاکٹر تحمل سے مریض کی بات سن لے اور پھر اس کو بیماری کے بارے میں تفصیل سے سمجھا دے۔ ایسے ڈاکٹرز بھی ہیں جو ایک ایک گھنٹہ ان کی بات سنتے تھے اور جب تک ان کی تسلی نہیں ہوتی تھی ان سے بات چیت کرتے تھے اسی طرح جونیر سٹاف میں بھی پروفیشنل لوگ موجود ہیں۔

میں اپنی بات ڈاکٹر قیصر بنگالی کے ایک جملے پر ختم کرتی ہوں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں۔ “ہمارا مسئلہ پبلک ہوتا ہے اور ہم اس کا حل پرائیویٹ بتاتے ہیں”۔ اس تحریر کو ختم کرتے ہویے مجھ یوں لگ رہا ہے کہ میں بھی وہی کر رہی ہوں جو ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *