وفاقی وزیر برائے سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن صاحبزادہ محبوب سلطان گندم بحران میں ملوث قرار: رپورٹ تیار


اسلام آباد: (دنیا نیوز) ملک میں گندم بحران کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ رپورٹ میں وفاقی وزیر برائے سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن صاحبزادہ محبوب سلطان کو گندم بحران میں ملوث قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ جھنگ سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے صاحبزادہ محبوب سلطان 5 اکتوبر 2018 سے 19 نومبر 2019 تک وفاقی وزیر خوراک رہے۔ ماضی میں صاحبزادہ محبوب سلطان مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر بھی قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں۔ وہ مارچ 2018 میں پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چودھری بھی گندم بحران کے ذمہ دار ہیں، فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو گندم خریداری کی صورتحال سے باخبر رکھا گیا، ملک میں گندم اور آٹے کے بحران میں فلورملز ایسوسی ایشن کی ملی بھگت ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ 13 دسمبر 2019ء کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے فلورملز پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا، فلور ملز ایسوسی ایشن نے مسابقتی کمیشن کے جرمانےکو عدالت میں چیلنج کردیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا تحقیقات کا طریقہ کار بہت سست ہے، 13 سال میں مسابقتی کمیشن نے 27 ارب روپے جرمانے میں سے صرف 3 کروڑ 33 لاکھ روپے وصول کیے۔

رپورٹ کے مطابق سندھ نے گندم نہیں خریدی جبکہ پنجاب کی جانب سے خریداری میں تاخیر کی گئی، ای سی سی کو بے خبر رکھنے پر صاحبزادہ محبوب سلطان معقول جواب نہ دے سکے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخواہ گندم کی ضروریات کے حوالے سے پنجاب پر انحصار کرتا ہے۔ ڈائریکٹر فوڈ پنجاب گندم خریداری میں پنجاب کی جانب سے تاخیر پر کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے۔ خیبر پختونخوا کے اس وقت سیکرٹری اور ڈائریکٹر فوڈ ڈیپارٹمنٹ گندم کی خریداری میں تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔

Facebook Comments HS