خاطر جمع رکھیے، کرونا کہیں نہیں جا رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کو سازشی تھیوری سمجھیں، پیشن گوئی یا پھر بنیادی سمجھ بوجھ، یہ بات تو اب تقریبا طے ہے کہ ہماری تمام توقعات، خواہشات اور دعاؤں کے برعکس کووڈ۔ انیس کہلانے والا موزی وائرس اتنی جلدی کہیں نہیں جانے والا ہے۔ انسانی تاریخ کی سات بڑی وبائی بیماریوں میں سے چند ایک کی طرح جن میں طاعون، ملیریا، انفلوئنزا، ہیضہ اور ایچ آئی وی شامل ہیں یہ وائرس مستقل طور پر ہمارے ماحولیاتی نظام کا حصہ بن سکتا ہے۔ چنانچہ کرونا ہمارے ساتھ ساتھ بالکل اسی طرح رہ سکتا ہے، جس طرح ہمسائے میں کوئی جھگڑالو قسم کا پڑوسی رہتا ہو اورآپ کو ہر آن کسی نہ کسی وجہ سے لڑائی کا خدشہ لگا رہے۔ لگتا یہ ہے کہ کرونا طویل عرصے تک انسانوں کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتا رہے گا۔

معاملات کو مزید خراب کرنے کے لئے، سونے پہ سہاگہ یہ کہ مستقبل قریب میں، موجودہ کورونا وائرس یکسر مختلف ہیئت اختیار کر سکتا ہے۔ کچھ تعجب نہیں کہ بعض اطلاعات کے مطابق روس، پاکستان اور مشرق وسطی میں پایا جانے والا کرونا وائرس اپنے چین والے پیٹی بھائی سے تھوڑا مختلف ہے۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ یہ وائرس نسل پرست یا قوم پرست ہے، جو مختلف علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں امتیاز برتا ہے۔ سائنس کی دنیا میں وائرس عرصہ دراز سے اپنا رنگ ڈھنگ گرگٹ کی طرح بدلنے کے لئے جانے لئے جانے جاتے ہیں

ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، کچھ بعید نہیں جلد ہی آپ کو کمپیوٹر وائرس کی طرح، ان حیاتیاتی وائرس کے متعلق بھی تازہ ترین اپ ڈیٹس موصول کرنے کے لئے تیار ہونا پڑے۔ شاید بالکل اس طرح جیسے آپ اپنے کمپوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز، دیگر سافٹ ویر یا موبائل ایپس کے نت نئے ورژن، ڈاون لوڈ یا اپ گریڈ کرتے ہیں جلد ہی آپ کو کرونا انیس کے بعد، کرونا ساڑھے انیس یا ۔ کرونا بیس (نیا ایڈیشن) کے آنے کی اطلاعا ت موصول ہو جائیں
یہ اندازہ لگانے کے لئے کے لئے کوئی سائنس دان ہونا ضروری نہیں کہ اس وقت کیا قیامت بپا ہو سکتی ہے اگر سٹیم سیل ریسرچ میں مہارت رکھنے والا کوئی شیطانی ذہن، کمپیوٹر سوفٹ ویئر وائرس کو حیاتیاتی وائرس کے ساتھ مربوط کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ چنانچہ چند سال بعد اگر سائنس دان انسانی دماغ اور کمپیوٹر میں براہ راست رابطہ تیار کرنے سے پہلے کمپیوٹر وائرس اور کرونا جیسے کسی وائرس کا انضمام کرنے میں کامیاب ہو گئے تو نہ تو ٹیکنا لوجی کو مورد الزام ٹھہرائیں اور نہ ہی اسے ناٹرڈیمس کی کوئی پیش گوئی کہیں.

کورونا، طب کی دنیا کا نائن الیون ہے، یہ سائنسی ویتنام ہے یا پھر وبائی ہولوکاسٹ۔ یہ اپنے خاتمے کے لئے، اپنے خلاف کسی جنگ عظیم کا منتظر ہے۔ کرونا ہمارے اطراف کی ہر چیز بدل دینے پر قادر ہے لہذا یہ توقع نہ کریں کہ یہ دنیا اتنی ہی اچھی اور خوشگوار جگہ ہوگی جو آپ اپنے رضاکارانہ یا زبردستی قرنطینہ میں داخل ہونے سے پہلے چھوڑ کر آے تھے۔ جن دنوں آپ اندر تھے باہر کی دنیا بدل گئی تھی
بہت جلد وہ بدصورت نظر آنے والے کرنسی نوٹ، جن پر وائرسوں کی کالونیاں آباد ہوتی تھیں، صاف اور محفوظ ڈیجیٹل اور کریپٹوکرنسی کو راستہ فراہم کریں گے، آن لائن تعلیم کوئی خاص انتظام و انصرام نہیں بلکہ معمول کی بات ہوگی، میگا شاپنگ مالز کا زمانہ اختتام پذیر ہوا، آپ کی پسندیدہ پرچون کی دکان اور برینڈڈ شاپس متروک ہوئیں، ریاستی نگرانی، چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، اب زیادہ منظم اور مفصل ہوگی، پوری دنیا میں صحت کے نظام پر نظر ثانی ہو گی، فوجیں حیاتیاتی جنگ کی حکمت عملی مرتب کرنے پر مجبور ہوں گی ، وبائی امراض کے خلاف رسپانس ٹیموں کو انہی خطوط پر استوار کرنا ہو گا جن پر پولیس، فائر برگیڈ اور ایمبولینس کام کرتی ہیں۔ گھر کے ماہانہ سودا سلف کی فہرست میں میں آٹے، چینی، گھی اور دالوں کے ساتھ ساتھ ماسک اور سینیٹائزر کا مستقل اضافہ ہو جائے گا
کرونا کی آمد ٹچ ٹیکنالوجی کے خاتمے کا حکم دے سکتی ہے۔ کرونا آج کی سمارٹ ٹچ مصنو عات کی جگہ ان سے بہتر ٹچ فری مصنو عات کی راہ ہموار کرے گا۔ لہذا برسوں سے تجرباتی بنیادوں پر تیار ہونے والی، انسانی اشاروں پر کام کرنے والی ٹیکنالوجی، ہماری توقع سے بہت جلد مرکزی دھارے میں شامل ہوسکتی ہے۔ کرونا کی آمد ٹچ آلات اور مصنو عات کی رخصتی کا اعلان ہے۔

افسوس! کرونا نے جدید ترین میزائلوں، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور جوہری آلات بنانے والوں کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔ جب ایک ایسے دشمن کے خلاف لڑنے کا وقت آیا، جس نے دنیا کے طول و عرض میں قیمتی انسانی جانوں کا صفایا کیا تو، فولاد اور لوہے سے بنے ہوے طاقت اور قوت کے یہ نشان، بچوں کے کھلونوں سے زیادہ ناکارہ تھے۔

مغربی ممالک میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا تو اس انسانی نسل کے لئے بے بی بومرز کی اصطلاح استعمال کی گئی۔ اب توقع ہے کہ کرونا کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن کی بدولت اگلے سال پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔ ممکنہ طور پر اگلے برس دنیا کی آبادی کرونا کے دوران ہونے والی ناگہانی اموات سے کم ہونے کی بجاے کرونا کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کی بدولت بڑھ جائے گئی۔ انسانی زندگی کا یہ عجیب و غریب چکر ہے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *