فرد کی بنیادی ضروریات اور اس کے معاشرتی رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرہ کے پڑھے لکھے یامراعات یافتہ طبقہ میں ایک رویہ پایا جاتا ہے کہ کسی بھی حادثہ یا غیر معمولی واقعہ کے رونما ہوجانے کے بعد ہمارے ملک کے باسیوں کا جو عمومی رد عمل سامنے آتا ہے اس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ان کا ترقی یافتہ ممالک کے رہائشیوں کے ساتھ موازنہ کیاجاتا ہے اور اپنے ہی ہم وطنوں کی سخت تذلیل کی جاتی ہے۔ یہ رویہ اب عام ہوتا جارہا ہے اور ہر کوئی اس ”کار خیر“ میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ویڈیوز، بلاگز اور لطائف کا سہارا لے رہا ہے۔

یہ تنقید اگر ان وجوہات یا عوامل کی نشاندہی کے لئے ہو جن پر توجہ دے کر ہمارے اجتماعی رویوں میں بہتری لائی جاسکتی ہو تو ایسی تنقید، اصلاح کی پہلی سیڑھی ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ تنقید صرف ریٹنگ کی حصولی، پوسٹ کے لائکس یا اپنے آپ کو ان سے الگ دکھانے کی نیت پر کی جاتی ہے۔

ایک انسان کا انفرادی یا معاشرتی رویہ کسی بھی صورتحال میں کیسا اور کیوں آتا ہے۔ یہ ایک پوری سائنس ہے اور اس لئے کسی ایک تحریر میں اس پر جامع بات کرنا نا ممکن ہے۔ لیکن اتنا ضرور کیا جاسکتا ہے کہ کچھ بنیادی باتیں زیر بحث لائی جائیں اور یہ سمجھا جائے کہ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے ہی معاشرہ کا کوئی فرد جب کسی ترقی یافتہ ملک میں چلا جاتا ہے تو اس کے رویے جلد ہی یکسر بدل جاتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے کہ حالیہ بحران میں ترقی یافتہ ممالک کے افراد کا رویہ غیر متوقع رہا؟ اسکولوں، مساجد، مدارس اور سوشل میڈیا ہر شخص کو درس اور ٹریننگ دینے میں مشغول ہیں لیکن نتیجہ کیوں نہیں آرہا؟

ان سوالوں کا جواب کسی حد تک دور قریب میں امریکی ماہر نفسیات ابراہم ماسلو کی Maslow ’s hierarchy of needs (ماسلوۋ پىیرامىیداسى) کے نظریہ میں موجود ہے۔ ماسلو نے 1943 میں انسانوں کی ضروریات کی پانچ ذیل درج بندیا ں کی ہیں :

1۔ جسمانی ضروریات
2۔ حفاظتی ضروریات
3۔ محبت اور باہمی تعلقات کی ضروریات
4۔ عزت کی ضروریات ( کامیابی، وقار، تعریف وغیرہ)
5۔ خود حقیقت کی ضروریات (اپنی پوری صلاحیتوں کا حصول )
ماسلو نے ہر درجہ پر موجود انسانوں کے رویوں کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ ماسلو کا ماننا ہے کہ انسان دوست رویہ تیسرے درجہ پر پہنچ کر سامنے آتا ہے۔ مطلب یہ ہوا ہے کہ اگر جسمانی اور حفاظتی ضروریات پوری نہ ہوں تو انسان دوستی اور مل جل کر کام کرنے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔ ماسلو کے مطابق انسان معاشرہ کے لئے مفید تب ہوگا جب وہ اوپر والے ( 3 سے 5 ) درجات پر مقیم ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے وہ ان درجات سے دوبارہ نیچے آجائے تو اس کا کردار محدود ہوجائے گا۔

ورلڈ بینک کی 2015 کی رپورٹ [ 1 ] ( (poverty headcount کے مطابق پاکستان کی 75.40 % فیصد آبادی یومیہ 5.50 ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی ہے۔ یاد رہے ا ان اعداد و شمار کے لئے جو ایکسینچ ریٹ لیا گیا اس کے مطابق یومیہ 500 روپیہ بھی نہیں بنتا۔ ان حالات کے ساتھ رہنے والی عوام ماسلو کی بتائی ہوئی کس سطح پر ہوگی؟ اور ان کا موازنہ آپ مثال کے طور پر انگلینڈ کے باشندوں سے کیسے کر سکتے ہیں جس کی آبادی کاصرف ایک فیصد سے بھی کم طبقہ اس لیول پر زندگی بسر کررہا ہے؟

ماسلو نے جو کچھ کہا یا اپنے نظریہ کے طور پر پیش کیا وہ کوئی غیر حقیقی بات نہیں۔ ماسلو سے پہلے بھی کئی فلسفی اس موضوع پر اپنے نظریات بتا چکے ہیں۔ ایک طالبعلم جب تھوڑی بہت تحقیق کر تا ہے تو وہ اٹھارویں صدی میں پہنچ جاتا ہے اور وہاں اسے امام شاہ ولی اللہ دہلوی کی تحریرات ملتی ہیں جو کہ موجودہ دور کے تمام انسان دوست فلسفوں کا اصل معلوم ہوتی ہیں۔ شاہ صاحب کی ایک تحریر میرے سامنے آئی اور محسوس ہواکہ شاید یہ میرے ذہنوں میں موجود سوالوں کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

شاہ صاحب نے اپنے دور میں انسانی سماج کا انتہائی قریب سے بڑا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ اپنی تصنیف حجتہ البالغہ میں وہ ایک جگہ جو لکھتے ہیں وہ ہمارے معاشرے کی بہترین عکاسی کرتا ہے :

”۔ لیکن اگر حکمران جماعت آرام و آسائش اور زینت و تفاخرکی زندگی کو اپنا شعار بنالے تو اس کا بوجھ قوم کے کاریگر طبقات پر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ سوسائٹی کا اکثر حصہ حیوانوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ انسانیت کے اجتماعی اخلاق اس وقت برباد ہو جاتے ہیں، جب کسی جبر سے ان کو اقتصادی تنگی پر مجبور کردیا جائے اس وقت وہ گدھوں اور بیلوں کی طرح صرف روٹی کمانے کے لئے کام کریں گے۔ “

اب اس بات کا فیصلہ آپ کریں کہ ہماری عوام کا جو رویہ سامنے آرہا ہے اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں یا وہ نظام ہے جو ایسی تقسیم پیدا کررہا ہے کہ ایک طرف تو حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے جب کہ دو سری طرف عوام اپنی روٹی پوری کرنے کے علاوہ کچھ سوچنے کے قابل بھی نہیں؟

میں پڑھے لکھے طبقہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متاثرین کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان باتوں کو زیر بحث لائیں کہ کس طریقہ سے ہم اپنے ہم وطنوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا نظام قائم کر سکتے ہیں؟ کیونکہ یہ بات تو طے ہوچکی ہے کہ کسی انسان کے اخلاق اس وقت تک نہیں سنور سکتے جب تک وہ اپنی روٹی اور جان کی حفاظت کے علاوہ کچھ اور سوچ سکے۔ اور جب تک ہمارے ملک کی بیشتر عوام ضروریات کے اگلے درجہ میں داخل نہیں ہوگی تب تک ہمارا ملک ترقی پذیر ممالک کی صف سے باہر نہیں آپائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سعد میر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *