شیعہ کورونا، سنی کورونا
پوری دنیا میں اس وقت عالمی موذی وبا کورونا سے جان بحق افراد کی تعداد پچاس ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ جس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ امریکا جیسا سپر پاور بھی اس وبا کے سامنے بے بس نظر آتا ہے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگلے دو ہفتے امریکی عوام کے لیے دردناک ثابت ہوں گے۔ امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس وبا پر قابو نا پایا گیا تو دو لاکھ پچاس ہزار تک امریکی شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔ امریکا کے علاوہ دوسری دنیا کے حالات بھی مختلف نہیں ہیں۔ براعظم یورپ اس وقت شدید کرب سے گزر رہا ہے۔ کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی، سپین، جرمنی بری طرح کورونا کی لپیٹ میں ہیں۔ دنیا کے دو سو دو ممالک میں کورونا اپنا وار کر چکا ہے۔
دنیا کی مضبوط ترین سمجھی جانے والی معیشتوں پر بھی مندی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ عالمی منظر نامے سے ترقی پذیر ممالک میں تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان کی حکومت نے اس تیزی سے بڑھتی ہوئی وبا کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی تھی۔ تمام سیکیورٹی فورسز کو بارڈر سیل کرنے کا حکم مل چکا تھا۔ کرونا کے پہلے کیسز سندھ سے رپورٹ ہونے لگے، جس پر سندھ حکومت نے پورے وسائل استعمال کرتے ہوئے سخت اقدامات اٹھائے۔ پاکستان میں کیسز پھیلنے کی سٹڈی شروع کی گئی کہ کن محرکات کی وجہ سے کورونا پھیل رہا ہے۔ افسران نے کورونا پھیلنے کی بڑی وجہ پاک ایران بارڈر تفتان کے مقام پر کورونا وائرس سے متاثرہ زائرین کو قرار دیا۔
مذکورہ چیک پوسٹ پر زائرین کی سکریننگ کے خاطر خواہ انتظامات کا نا ہونا اور زائرین کا بڑی تعداد میں بغیر سکریننگ کے ملک میں پھیل جانا کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ بنا۔ یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ان زائرین کو قرنطینہ سنٹر میں رکھے بغیر کن وجوہات کی بنا پر روانہ کر دیا گیا۔ کیا کسی نے سیاسی اثرورسوخ استعمال کر کے ان کو وہاں سے نکلوایا یا رشوت کا بازار گرم رہا۔ حکومت کو عملی اقدامات کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
حال ہی میں اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں تبلیغی جماعت کے ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد تنقید کا رخ اہل تشیع سے تبلیغی جماعت کی طرف ہو گیا۔ حکومت نے اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے جہاں جہاں تبلیغی جماعت کی ٹولیاں رہائش پذیر تھی ان مساجد اور رہائش گاہوں کو قرنطینہ قرار دیا۔ ہم ایسی قوم ہیں جو عالمی وبا کو بھی سنی یا شیعہ قرار دینے کے درپے ہیں۔ اور اس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہے ہیں، حالانکہ اس بیماری نے حملہ آور ہوتے وقت کسی شخص سے اس کا مذہب پوچھنا گوارا نہیں کیا ہو گا۔
میری آخر میں اپنے تمام پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ خدارا اس گمبھیر صورتحال میں مذہبی شرپسندوں کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے عزائم کی سرکوبی کریں۔ ایسے حالات میں ملک کسی بھی ایڈونچر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس مشکل وقت میں ضرورتمند لوگوں کا اپنی استطاعت کے مطابق خیال رکھیں۔


