ڈیجیٹل سیکیورٹی کی بڑھی ہوئی اہمیت
اس ڈیجیٹلائز دنیا میں ڈیجیٹل سکیورٹی اتنا ہی اہم معاملہ ہے جتنا ہماری زندگی کا کوئی اور اہم معاملہ۔ ڈیجیٹل سرگرمیاں ہماری روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہیں لیکن جب ڈیجیٹل سکیورٹی یا پرائیویسی پروٹیکشن کی بات آئے تو لوگ اسے مکمل نظر انداز کر دیتے ہیں یا اس وجہ سے قابل توجہ نہیں سمجھتے کہ وہ کوئی انفلوئنسر یا سلیبرٹی نہیں ہیں تو انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔
میں نے اس ویک اینڈ پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مرتب کیا گیا آن لائن کورس ”ڈیجیٹل سکیورٹی اور انسانی حقوق“ کے نام سے سائن اپ کیا جس کا کچھ متن مندرجہ ذیل ہے اگر آپ اپنے ڈیجیٹل رائٹس اور سکیورٹی کو لاحق خطرات سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ کورس بہت مفید ہے۔
”ہمارے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جو ڈیٹا محفوظ کیا جاتا ہے وہ بہت قیمتی ہے۔ اس قدر قیمتی ہے کہ اس نے دنیا کی ایک سب سے مالدار اور طاقتور کمپنی بنائی۔ جیسا کہ پچھلے سکینڈؒلز نے دکھایا ہے، ان اعداد و شمار کو نہ صرف ہدف بنا کر اشتہارات کے لیے استعمال کیا گیا بلکہ عوامی رائے اور سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ غلط ہاتھوں میں یہ ہمارے حقوق کی پامالی اور غیر معمولی پیمانے پر عوام پر اثر انداز ہونے کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے یہ سمجھنا چاہیے کہ مختلف سوشل نیٹ ورک ہماری پرائیویسی سے کیسا معاملہ برتتے ہیں اورہمارے ڈیٹا کو
دنیا میں، کچھ حکومتیں، کمپنیاں اور افراد پیچیدہ اور جدید ترین ٹیکنالوجیز استعمال کر کے ناقدین کی جاسوسی، نگرانی، ہراساں کرنے اور انھیں خاموش کرانے کے لیے استعمال کررہے ہیں
، ڈیجیٹل سیکیورٹی خاص طور پر کسی چیز کو چھپانے یا کہنے یا کسی سے وابستہ ہونے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہماری ایسا کرنے کی صلاحیت کی حفاظت کے بارے میں ہے۔ حکومت کسے خراب یا خطرناک یا غیرقانونی سمجھتی ہے یہ تب تک رہتا ہے جب تک حکومتیں خود تبدیل نہیں ہوتیں۔ اگر ہم جو کہتے اور مانتے ہیں، یا جن سے ہم وابستہ ہوتے ہیں، اس سے اگر نئی حکومت متفق نہیں ہوتی، تو پھر یہ تحفظ اہم ہوجاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کا خیال رکھنا بنیادی طور پر اپنے حقوق کا دعویٰ کرنا ہے۔ حقوقِ انسانی تحفظ کے لیے بنے ہیں، اور جب ہم اپنے حقوق کا دعوی کرتے ہیں، تو ہم اپنی حفاظت کرتے ہیں۔ اپنی پرائیویسی کا مطالبہ کرنا اولین اور اہم بات ہے، اس بات پر اصرار کرنا کہ ہمارا حق چھینا نہیں جا سکتا۔ جب حکومتیں ہماری بڑے پیمانے پر نگرانی کرتی ہیں تو وہ ہمارے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہوتی ہیں۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنے حقوق کا دعویٰ کریں اور ڈیجیٹل سیکیورٹی پر عمل کرنے سے ہمیں اس کا اختیار ملتا ہے۔
یہاں تک کہ اگر آپ کو خطرہ محسوس نہیں ہوتا ہے، تو اس بات کو سوچیں کہ آپ کے اقدامات دوسروں کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب آپ اپنے حقوق کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنی حفاظت کا انتظام کرتے تو آپ سب کے لیے اپنے حقوق کا دعوی کرنے اور اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ جب ہم سب اپنے حقوق انسانی کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں تو ہم ہرایسے شخص یا ادارے کو یہ سخت پیغام دیتے ہیں جو ان کی خلاف ورزی کرسکتا ہے۔ اس طرح، ڈیجیٹل سیکیورٹی پر عمل کرنے سے دوسروں کو انسانی حقوق کی پامالیوں سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے ”

