زیئس ابھی مرا نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونانی دیو مالا کے مطابق زمین پر بہت سے دیوی دیوتا حکومت کرتے تھے۔ زیئس ان سب کا بادشاہ تھا۔ وہ کوہ اولمپس پر رہ کر زمین کا نظام چلاتا تھا۔ یونانی دیومالا کے مطابق انسان ان دنوں ایک بہت کمزور مخلوق تھا اور وہ مجبور محض تھا۔ وہ جنگلی جانوروں سے بچنے کے لئے تگ و دو کرتا، سرد ٹھٹھرتی راتوں میں اسے اپنے آپ کو گرم رکھنے کے لئے آگ میسر نہیں تھی۔ آگ صرف اولمپیئن خداؤں کے پاس تھی اس کے رازوں سے صرف وہی واقف تھے۔ انسان خوراک، جنگ وجدل، بیماریوں، اور دوسری ضروریات کے لئے دیوی دیوتاؤں پر انحصار کرنے پر مجبور تھا۔ اس مقصد کے لئے انسان بطور نذرانہ دیوی دیوتاؤں کو قربانیاں اور تحفے تحائف پیش کرتا اور ان سے گڑگڑا کر دعائیں بھی مانگتا۔

پرومیتھئس ایک ٹائٹن تھا، اس سے انسانوں کی بے بسی اور تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی۔ اس نے اولمپئین خداؤں کی آگ چرا کر انسانوں کو لا کر دی اور اس کے ا ستعمال کا طریقہ بھی سکھایا۔ آگ کا فن سیکھنے کے بعد انسان کافی طاقتور ہو گیا اور اب یخ بستہ راتوں میں وہ پہلے کی طرح مجبور نہیں تھا۔ اب وہ کھانا پکا کر کھا سکتا تھا اور جنگلی درندوں سے بچاؤ کے لئے اس کے پاس ایک طاقتور ہتھیار آ گیا تھا۔

زیئس اور دوسرے اولمپیئن خدا اس بات پر پرومیتھئس سے سخت ناراض تھے۔ وہ ایک ٹائٹن تھا اس لئے لافانی ہونے کی وجہ سے اسے موت کی سزا نہیں دی جا سکتی تھی، زیئس نے پرومیتھئس کو ایک چٹان سے باندھ دیا اور اس پر اپنے عقاب کو تعینات کر دیا جو روزانہ آ کر اس کے جگر کو نوچتا اور بھنبھوڑتا اور اڑ جاتا۔ جگر اگلے ہی روز دوبارہ ٹھیک ہو جاتا اور عقاب پھر آکر اسے نوچ نوچ کے کھاتا۔ اس طرح پرومیتھئس کو ایک ابدی سزا دے دی گئی، پرومیتھئس کی خوبی جس نے اسے ہیرو بنادیا کہ اس نے اپنے اس امر پر معافی مانگنے سے ان کا ر کر دیا اور نہ وہ کبھی اس بات پر پچھتایا۔ یہاں تک کہ ایک اور یونانی ہیرو ہرکولیس نے آ کر اسے اس عذاب سے نجات دلائی۔

یونانی تہذیب اور بعد کی آنے والی تہذیبوں میں پرومیتھئس ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کر گیا۔ ادب میں پرومیتھئس ایک قابل احترام باغی کی صورت موجود ہے اور وہ تمام باغیوں کا ہیرو بن گیا۔ پرومیتھئس کارل مارکس کا بھی ہیرو تھا۔ دنیا کے عظیم ادیبوں اور شاعروں نے پرومیتھئس کو مو ضوع بنایا ہے۔ اور اس کی عظیم الشان قربانی انسانوں کے لئے چراغ راہ بن گئی۔

کیا آپ کو آج کے طاقتور طبقے میں زیئس کی جھلک دکھائی نہیں دیتی؟ کیا آج کا عام انسان مجبور محض نہیں ہے؟ اگر ہم غور کریں تو آج کا انسان بھی اتنا ہی کمزور اور بے بس ہے جتنا کہ اُس وقت کا انسان تھا۔ اُس وقت کا انسا ن آگ کے لیے ترس رہا تھا تو آج کا انسان بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آج بھی ساری سہولیات زیئس کے کنٹرول میں ہیں، وہ جسے چاہتا نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ آج ہم بھی پرومیتھئس کے انتظا ر میں ہیں جو آکر ہماری بیچارگی کو طاقت میں بدل دے۔ آج ہم لوگ ووٹ کے ذریعے اپنے لیے پرومتھئس کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن معلوم یہ ہوتا ہے کہ زیئس ابھی مرا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “زیئس ابھی مرا نہیں

  • 07/04/2020 at 4:13 am
    Permalink

    Wah g wah

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *